Skip to main contentSkip to footer

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے اندرونی مناظر ڈرون نے محفوظ کر لیے

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے اندرونی مناظر ڈرون نے محفوظ کر لیے

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے اندرونی مناظر پہلی بار زیرِ زمین ڈرون نے محفوظ کر لیے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقی ترکیہ میں کوہِ ارارات کے قریب متنازع دوروپِنار سائٹ کا جائزہ لینے والے محققین نے گوفر نامی خصوصی زیرِ زمین ڈرون کا استعمال شروع کر دیا۔ ترک حکومت کی اجازت کے تحت کام کرنے والی بین الاقوامی ٹیم نے زیرِ زمین موجود حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی تک رسائی کے لیے گہری شافٹ کھودی اور گوفر ڈرون مشین کو کور ڈرلنگ کے ذریعے بنائے گئے سوراخوں میں اتارا۔آسٹریلوی روبوٹکس ماہرین نے اس ڈرون کو خصوصی طور پر تنگ جگہوں میں نقل و حرکت کے لیے تیار کیا ہے تاکہ وسیع پیمانے پر کھدائی کیے بغیر زیرِ زمین مقامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

سعودی عرب میں ہزاروں برس قدیم نخلستان کے شواہد دریافت

نقل و حرکت سے متعلق مشکلات کے باوجود سائنس دان اب تک 18 میٹر تک کی گہرائی سے نمونے حاصل کر چکے ہیں۔ابتدائی مشاہدات میں بڑی مقدار میں نامیاتی مواد کی موجودگی سامنے آئی ہے، جبکہ اس ساخت کے اندر ٹھوس چٹانی تہہ کی مکمل عدم موجودگی بھی نوٹ کی گئی ہے۔کھدائی کے دوران حاصل ہونے والی مٹی اور لکڑی سے مشابہ نمونوں کو مزید تفصیلی کاربن اور معدنیاتی تجزیے کے لیے بھیجا گیا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق حتمی نتائج جامع تجربہ گاہی جانچ مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔واضح رہے کہ استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی، ایگری ابراہیم سیسن یونیورسٹی اور امریکا کی اینڈریوز یونیورسٹی کے ماہرین2021 سے ترکیہ کے پہاڑی سلسلے ارارت میں موجود کشتی نما چٹان پر تحقیق کر رہے ہیں۔اس کشتی نما چٹان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حضرت نوح کی کشتی تھی جو اب فوسلز میں بدل چکی ہے، جسے دوروپنار سائٹ کا نام دیا گیا ہے۔محققین کی توجہ دوروپنار پر مرکوز ہے جو کہ 538 فٹ کا ارضیاتی ڈھانچہ ہے اور لیمونائٹ پر مشتمل ہے۔یہ ترکیہ اور ایران کی سرحد پر ترکیہ کے صوبے ایگری کے شہر ڈوگوبایزیت کے قریب کوہ ارارت کی چوٹی سے تقریبا 30 کلو میٹر جنوب میں واقع ہے۔

گوگل میپس پر دریافت پراسرار سٹرکچر 39کروڑ برس پرانا نکلا

 

دنیا کے قدیم ترین 3400سال پرانے امن معاہدے کا نیا ٹکڑا دریافت

Next Post
پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات کی خبر،سازش یا غلطی؟
Previous Post
خلیجی بحران سے پاکستان کی لیبر مارکیٹ کو دوہرا دھچکا لگنے کا خطرہ