Skip to main contentSkip to footer

ایرانی صدر نے امریکہ میں امریکہ کو للکار دیا

ایرانی صدر نے امریکہ میں امریکہ کو للکار دیا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ میں فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا تاہم ایران تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے،ہم دہشت گرد نہیں، جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہے ہیں، ایران نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے اور جوابی کارروائی میں صرف امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، عام شہریوں کو نہیں،اسرائیل قتلِ عام کرتا ہے اور پابندیاں ایران پر لگائی جاتی ہیں، یہ دہرا معیار ہے،آبنائے ہرمز کو کسی صورت ان ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا جو ایران کے خلاف استعمال کیے جائیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے شہیدایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور میناب کے ان اسکول کے بچوں کی تصاویر دکھائیں جو امریکی اور صیہونی حملوں کا نشانہ بنے۔

ایران جنگ میں امریکا کے 33ارب ڈالر سے زائد خرچ، درجنوں جیٹ اور ڈرونز تباہ

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایک ایرانی قصبے پر کلسٹر بم گرائے جس میں معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو شہید کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ اسپتالوں اور اسکولوں پر حملوں میں عالمی قوانین کا خیال نہیں رکھا گیا جس سے سیکڑوں افراد شہید اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ہم دہشت گرد نہیں، جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے اور جوابی کارروائی میں صرف امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، عام شہریوں کو نہیں۔عالمی برادری کے دہرے معیار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل قتلِ عام کرتا ہے اور پابندیاں ایران پر لگائی جاتی ہیں، یہ دہرا معیار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ہمیں دہشت گرد قرار دیا حالانکہ ہم خود دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جو لوگ خود دہشت گرد ہیں وہی ہم پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

ایران نے جنگ کے خاتمے کی شرائط مزید سخت کردیں

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی صدر جان لیں کہ دھمکیاں اور خطرات ایرانی قوم کو متحد کرتے ہیں۔خطے کی سکیورٹی اور آبی گزرگاہوں کے حوالے سے صدر پزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کسی صورت ان ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا جو ایران کے خلاف استعمال کیے جائیں۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے اپنا سر نہیں جھکایا، تاہم شہری آبادیوں کو بھی نشانہ نہیں بنایا، ان کے مطابق ملک کے دفاع کے لیے کسی کی اجازت یا منظوری کی ضرورت نہیں۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ طاقتور ممالک ہی دنیا میں عدم استحکام اور تباہی پیدا کر رہے ہیں جبکہ ایران اپنے اور دوسرے ممالک کے لیے عدم تحفظ نہیں چاہتا، جنگ کے میدان میں امن حاصل نہیں ہوگا۔ایرانی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری توانائی چاہیے، جوہری بم نہیں، پرامن جوہری ٹیکنالوجی ایران کی ترقی کا حصہ ہے، تاہم جوہری طاقت کے حق پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنا حق چھوڑ کر سر نہیں جھکائے گا اور ملک کو اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت حاصل کرنے کا حق ہے۔ایرانی صدر کی تقریر شروع ہوتے ہی امریکی مندوب نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بری خبر آگئی

 

ایرانی انقلاب کے بعد اسرائیل مضبوط کیوں ہوا؟ عرب اسرائیل جنگوں سے پراکسی وار تک کی کہانی

Next Post
فکسڈ ٹیکس سکیم بھی ناکام، صرف 2نئے دکاندار شامل
Previous Post
ایران نے جنگ کے خاتمے کی شرائط مزید سخت کردیں