مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاست کو سمجھنے کے لیے 1979 کا سال انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب آیا، شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت ختم ہوئی اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی۔ انقلاب کے بعد ایران نے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا اور فلسطین کے مسئلے کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنا لیا۔ لیکن اس انقلاب سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کیا تھی اور 1979 کے بعد اس میں کیا تبدیلی آئی؟ اس سوال کا جواب عرب اسرائیل جنگوں، ایران کی علاقائی پالیسی اور مختلف مسلح گروہوں کے کردار کو سمجھنے سے ملتا ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد مصر، اردن، شام، عراق اور لبنان سمیت عرب ممالک کی افواج اسرائیل کے خلاف جنگ میں داخل ہوئیں۔ یہ پہلی عرب اسرائیل جنگ تھی۔ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل اپنی ریاست کے قیام کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور 1949 میں مختلف جنگ بندی معاہدے ہوئے۔ 1956 میں سوئز بحران کے دوران مصر کو اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تنازع میں نہر سوئز کی قومی تحویل، عرب قوم پرستی اور اس وقت کی عالمی طاقتوں کے مفادات بنیادی عوامل تھے۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ عرب اسرائیل تنازع کی تاریخ کا ایک اور فیصلہ کن مرحلہ تھی۔ مصر، شام اور اردن اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہوئے جبکہ عراق نے بھی فوجی تعاون فراہم کیا۔ چند روز کی جنگ کے بعد اسرائیل نے مصر سے صحرائے سینا اور غزہ، اردن سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم جبکہ شام سے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا۔ 1973 میں مصر اور شام نے اسرائیل کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کی۔ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں عرب افواج نے اہم کامیابیاں حاصل کیں، تاہم بعد میں اسرائیلی فوج نے اپنی پوزیشن مضبوط کرلی۔ اس جنگ کے دوران سعودی عرب اور دیگر عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک نے مغربی ممالک پر تیل کی پابندیوں کے ذریعے دباؤ بھی ڈالا۔
عرب اسرائیل جنگ سے ایران اسرائیل محاذ تک
یہ وہ دور تھا جب اسرائیل کو بنیادی طور پر عرب ریاستوں کی منظم فوجوں سے خطرہ درپیش تھا۔ لیکن 1973 کے بعد عرب اسرائیل تنازع کی نوعیت بتدریج تبدیل ہونے لگی۔ 1979 کا ایرانی انقلاب اور طاقت کے توازن میں تبدیلی 1979 میں ایران میں انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی حکومت قائم ہوئی۔ نئی ایرانی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی اور فلسطینی کاز کو اپنی علاقائی سیاست کا اہم حصہ بنایا۔ تاہم ایران نے اسرائیل کے خلاف عرب ریاستوں جیسی روایتی جنگ شروع نہیں کی۔ اس کے بجائے ایران نے خطے میں سیاسی، مذہبی اور مسلح تنظیموں کے ساتھ تعلقات قائم کرکے اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ لبنان اس پالیسی کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ 1982 میں اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد لبنان میں حزب اللہ کا ابھار ہوا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو تربیت اور معاونت فراہم کی۔ وقت کے ساتھ حزب اللہ لبنان کی ایک طاقتور مسلح اور سیاسی تنظیم بن گئی۔
امریکی حملے میں مارے گئے علی لاریجانی کون تھے؟
یوں اسرائیل کو ایک ایسے مخالف کا سامنا ہوا جو کسی عرب ریاست کی باقاعدہ فوج نہیں بلکہ ایک غیر ریاستی مسلح تنظیم تھی، لیکن اس کے پاس جدید ہتھیار، تربیت اور ایک منظم عسکری ڈھانچہ موجود تھا۔ شام بھی ایران کی علاقائی حکمت عملی میں اہم ملک بن گیا۔ شام طویل عرصے سے اسرائیل کا مخالف رہا تھا، خصوصاً گولان کی پہاڑیوں کے تنازع کی وجہ سے۔ 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد ایران نے بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کی۔ حزب اللہ بھی شام کی جنگ میں اسد حکومت کے ساتھ شامل ہوئی۔ شام میں جنگ کے دوران مختلف مقامی، علاقائی اور عالمی طاقتیں مداخلت کرتی رہیں۔ ایران، روس، امریکہ، ترکی اور مختلف مسلح گروہوں کے کردار نے شام کے تنازع کو ایک پیچیدہ علاقائی جنگ میں تبدیل کردیا۔ عراق میں بھی 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد طاقت کا توازن تبدیل ہوا۔ مختلف شیعہ سیاسی اور مسلح گروہ مضبوط ہوئے اور ان میں بعض کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ بدر بریگیڈ، عصائب اہل الحق اور کتائب حزب اللہ جیسے گروہوں نے عراق کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں کردار حاصل کیا۔ یمن میں حوثی تحریک کا پس منظر بھی مقامی سیاسی اور مذہبی حالات سے جڑا ہوا ہے، تاہم وقت کے ساتھ ایران اور حوثیوں کے تعلقات مضبوط ہوئے اور ایران پر حوثیوں کو ہتھیار، تربیت اور دیگر معاونت فراہم کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ یوں ایران نے خطے میں براہِ راست روایتی جنگ کے بجائے مختلف مسلح گروہوں اور سیاسی اتحادیوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں مختلف مسلح گروہ، شام میں ایرانی اتحادی قوتیں اور یمن میں حوثی تحریک اس علاقائی نیٹ ورک کی مختلف مثالیں بن گئیں۔
پاکستان مکہ معاہدے کا پابند ،سعودی عرب کیساتھ کھڑا ہے، ترجمان دفتر خارجہ
اس کے بعد 1979 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی تبدیلی یہ آئی کہ اسرائیل کے خلاف روایتی عرب ریاستوں کی جنگوں کا سلسلہ آگے نہیں بڑھا۔ مصر نے 1979 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا جبکہ اردن نے 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا۔ بعد کے برسوں میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش سمیت بعض دیگر عرب ممالک نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اقدامات کیے۔ دوسری طرف ایران نے اسرائیل کو اپنا بڑا علاقائی مخالف قرار دیتے ہوئے حزب اللہ، فلسطینی مسلح تنظیموں، حوثیوں اور بعض عراقی و شامی گروہوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا۔ اس طرح اسرائیل کے خلاف جنگ کی نوعیت بدل گئی۔ 1948، 1967 اور 1973 میں اسرائیل کو مصر، شام، اردن اور عراق جیسی ریاستوں کی باقاعدہ افواج کا سامنا تھا، جبکہ بعد کے دور میں اسے مختلف غیر ریاستی مسلح گروہوں کی طرف سے متعدد محاذوں پر خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک طرف نئے سیکیورٹی خطرات کا باعث بنی، لیکن دوسری طرف عرب ریاستوں کی جانب سے روایتی مشترکہ جنگ کا امکان بھی کم ہوا۔ ایران کے حمایت یافتہ گروہوں نے اسرائیل کے خلاف مختلف اوقات میں راکٹ، میزائل اور ڈرون حملوں سمیت مختلف کارروائیاں کیں۔ حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیل کے خلاف طویل عرصے تک عسکری دباؤ برقرار رکھا، جبکہ غزہ سے حماس اور اسلامی جہاد اسرائیل کے ساتھ کئی جنگوں میں شامل رہے۔ یمن میں حوثیوں نے بھی اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون داغنے کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو متاثر کیا۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے طاقت کے توازن کو جنم دیا جس میں اسرائیل، ایران اور ایران سے منسلک مختلف گروہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف عرب دنیا میں عراق، شام، یمن اور لبنان جیسے ممالک طویل عرصے تک داخلی سیاسی بحرانوں، خانہ جنگیوں اور بیرونی مداخلتوں کا شکار رہے۔ ان بحرانوں نے ان ممالک کی مرکزی ریاستی اور فوجی طاقت کو شدید متاثر کیا۔
ستمبر کی وہ تاریخ جب دن اور رات کا دورانیہ یکساں ہو جائے گا
یہی وجہ ہے کہ آج کا مشرقِ وسطیٰ 1948 یا 1973 کے مشرقِ وسطیٰ سے بالکل مختلف ہے۔ اس وقت اسرائیل کو بنیادی طور پر عرب ریاستوں کی باقاعدہ افواج کا سامنا تھا، جبکہ آج خطے میں طاقت کی کشمکش کئی ریاستوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے درمیان تقسیم ہوچکی ہے۔ اس پورے عرصے میں ایران نے اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے اسرائیل کے گرد ایک وسیع علاقائی نیٹ ورک قائم کیا، جبکہ اسرائیل نے بھی اپنی فوجی، انٹیلی جنس اور دفاعی صلاحیتوں کو غیر معمولی حد تک بڑھایا۔ چنانچہ 1979 کے بعد اسرائیل کے لیے خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ان کی نوعیت تبدیل ہوگئی۔ عرب ریاستوں کے ساتھ بڑی روایتی جنگوں کے بجائے اسرائیل کو لبنان، غزہ، شام، عراق، یمن اور ایران سے جڑے متعدد محاذوں کا سامنا ہونے لگا۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس تبدیلی کو نظرانداز نہیں کیا جاسک کے ایرانی انقلاب کے بعد خطے میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا مرکز عرب ریاستوں کی مشترکہ فوجی طاقت سے منتقل ہو کر ایران اور اس سے منسلک مختلف مسلح و سیاسی گروہوں کے وسیع نیٹ ورک تک پہنچ گیا۔
چار ماہ کی جنگ کے بعد اصل فاتح کون؟ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ جاری

