کوہاٹ : خیبرپختونخوا حکومت نے مہاجر آبی پرندوں کے تحفظ کے لیے شکار کے ضوابط مزید سخت کرتے ہوئے صوبے کے 53 اہم آبی اور جنگلی حیات کے علاقوں میں شکار پر مکمل پابندی عائد کردی ہے جبکہ قانونی شکار کے لیے ایام، اوقات، تعداد اور لائسنس سمیت مختلف شرائط مقرر کردی گئی ہیں۔محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 2026-27کے شکار کے سیزن کے دوران آبی پرندوں کا شکار صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مجاز لائسنس کے تحت کیا جاسکے گا جبکہ فی بندوق روزانہ زیادہ سے زیادہ پانچ بطخوں کے شکار کی اجازت ہوگی۔ شکار کا سیزن 31 دسمبر 2026 تک مقررہ شرائط کے تحت جاری رہے گا۔
امریکی کروڑ پتی شکاری افریقہ میں ہاتھیوں کے حملے میں ہلاک
چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف خیبرپختونخوا ڈاکٹر محسن فاروق کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق آبی پرندوں کے شکار کے لیے سمال گیم شوٹنگ لائسنس کا حصول لازمی ہوگا جس کی فیس 5000 روپے مقرر کی گئی ہے۔اعلامیہ کے مطابق آبی پرندوں کے شکار کے اوقات بھی محدود کردیئے گئے ہیں۔ صبح کی پہلی کرن سے قبل اور غروب آفتاب کے بعد شکار پر مکمل پابندی ہوگی۔ اسی طرح پرندوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کال برڈز، پرندوں کی آواز کی نقل کرنے والے ذرائع اور برقی آلات کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔محکمہ جنگلی حیات نے صوبے کے 53 اہم آبی اور قدرتی مساکن کو مکمل طور پر نو ہنٹنگ زونز قرار دیا ہے۔ ان میں ڈیم، جھیلیں، دریائی علاقے، گیم ریزروز، وائلڈ لائف سینکچوریز، کنزروینسیز اور دیگر حساس قدرتی مساکن شامل ہیں۔ممنوعہ علاقوں میں تاندہ ڈیم، گنڈیالی ڈیم، درملک ڈیم، غورزندی ڈیم اور کندر ڈیم کوہاٹ؛ شرکی ڈیم ٹیری، زیبی ڈیم، غول ڈیم، لتمبر ڈیم اور چنغوس ڈیم کرک؛ منڈا ڈیم اور مالی خیل ڈیم کرم؛ شین کچ ڈیم اور سپین ڈیم جنوبی وزیرستان؛ ورسک ڈیم پشاور؛ جڑوبی ڈیم خیبر؛ مہمند ڈیم؛ راغگان اور تالی ڈیم باجوڑ؛ پیزو ڈیم لکی مروت؛ کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ڈیم؛ سالدگئی جھیل اپر دیر؛ آنسو جھیل ناران؛ شندور جھیل چترال؛ دریائے چشمہ؛ دریائے کرم، دریائے ٹوچی اور دوبیر خوڑ سمیت دیگر حساس علاقے شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا میں شکار پر پابندی عائد، نئے قواعد جاری
اسی طرح دریائے سوات، پنجکوڑہ، چترال اور سندھ کے متعدد حصے، کابل گرام گیم ریزرو، منکیال اور کالام کنزروینسیز، گومل زام کنزروینسی اور دیگر محفوظ علاقوں میں بھی شکار پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔محکمہ جنگلی حیات کے مطابق مہاجر آبی پرندے ہر سال طویل مسافت طے کرکے خیبرپختونخوا کے دریاؤں، جھیلوں، ڈیموں اور دیگر آبی مساکن کا رخ کرتے ہیںاس لیے ان کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قدرتی مساکن اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ بھی ضروری ہے۔حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ممنوعہ قرار دیے گئے 53 علاقوں میں شکار کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں خیبرپختونخوا وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی (پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ 2015 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ جنگلی حیات نے شکار کے دوران پرندوں کی آبادی اور شکار کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر شکار کو مزید محدود یا مکمل طور پر روکنے کے اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔محکمہ جنگلی حیات نے واضح کیا ہے کہ قانونی شکار بھی مقررہ حدود، اوقات اور تعداد کے اندر رہتے ہوئے ذمہ داری سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ مہاجر آبی پرندے قدرتی ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کا اہم حصہ ہیں۔مشیر وزیراعلیٰ پیر مصور خان غازی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبے کے قدرتی وسائل، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے قانون کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
گلگت میں ٹرافی ہنٹنگ، استور مارخور کا پرمٹ 3لاکھ 56ہزار ڈالر میں نیلام

