Skip to main contentSkip to footer

چینی ڈیری ماڈل پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کیلئے قابلِ غور مثال

چینی ڈیری ماڈل پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کیلئے قابلِ غور مثال

تین گائیں، چار بھائی اور صرف 500 یوآن شاید ایک جدید ڈیری کمپنی کی بنیاد کے لیے غیر معمولی وسائل محسوس ہوں لیکن اندرونی منگولیا کے اولان قاب میں قائم لان گِگے ڈیری کی کہانی کچھ ایسی ہی ہے، جہاں ایک خاندان کی روایتی دہی بنانے کی مہارت نے ایک ایسے جدید کاروباری ادارے کی شکل اختیار کرلی جو ڈیری فارمنگ، تحقیق، خودکار پیداوار اور پورے چین میں مصنوعات کی تقسیم تک پھیل چکا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق کمپنی کی یہ کہانی پاکستان کے لیے بھی سبق آموز ہے، جو دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے،پاکستان کیلئے چیلنج صرف دودھ کی پیداوار بڑھانا نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت، پراسیسنگ، معیار، برانڈنگ اور ویلیو ایڈیشن کو بھی بہتر بنانا ہے۔

ہفتہ وار مہنگائی میں مزید 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد ہو گئی

اندرونی منگولیا لان گِگے ڈیری کمپنی لمیٹڈ کے برانڈ جنرل مینیجر وانگ وے کے مطابق،کمپنی کی 3-4-5کہانی سے مراد وہ تین گائیں ہیں جو ایک سرکاری ڈیری پلانٹ کی تنظیم نو کے بعد خاندان کے افراد کو ابتدائی طور پر ملیں، چار بھائی جنہوں نے بعد میں انہی گایوں کی بنیاد پر کاروبار قائم کیا، اور 500 یوآن جو انہوں نے بنیادی آلات خریدنے اور دودھ کی پیداوار و ترسیل شروع کرنے کے لیے جمع کیے۔وانگ نے ایک انٹرویو میں کہاکہ تین گایوں اور 500 یوآن سے شروع ہونے والا کام پیداوار کے ابتدائی ذرائع میں تبدیل ہوگیا۔بعد ازاں خاندان نے دہی بنانے کی اپنی روایتی مہارت کو ایک تجارتی کاروبار میں تبدیل کردیا، جو آج چین بھر کی منڈیوں کو خدمات فراہم کرتا ہے،آج لان گِگے روایتی ڈیری بنانے کی تکنیکوں کو جدید پیداوار کے ساتھ یکجا کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی مصنوعات کو 98 معیار کے معائنے کے مراحل سے گزارا جاتا ہے، جبکہ اس کی خودکار پیداواری ورکشاپ میں دودھ کی صفائی، پاسچرائزیشن، خمیر اٹھانے، بھرائی اور پیکیجنگ کے مراحل مربوط انداز میں انجام دیے جاتے ہیں۔وانگ نے کہا کہ کمپنی کا تجربہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ ملک میں مویشیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، تاہم جدید ڈیری پراسیسنگ، بہتر نسلوں کی افزائش، جانوروں کی غذائیت، کولڈ چین نظام اور برانڈنگ کے ذریعے ویلیو ایڈیشن میں اضافے کی خاصی گنجائش موجود ہے۔یونیورسٹی آف گجرات کے پروفیسر ڈاکٹر عادل رشید نے کہاکہ ڈیری کے شعبے میں چین اور پاکستان کا تعاون روایتی لائیو اسٹاک کی ترقی سے آگے بڑھ کر جدید نسل کشی، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی جانب منتقل ہوسکتا ہے۔

ملک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی

انہوں نے بتایا کہ بھینسوں کے ایمبریو کی تیاری سے متعلق ایک چینی منصوبہ پاکستان اور چین دونوں میں بھینسوں کی نسل اور دودھ کی پیداوار میں نمایاں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2026 میں پاکستان نے چین کے رائل گروپ کے ساتھ اعلی میعار کی حامل بھینسوں کے جینیاتی مواد، جن میں ایمبریو، سیمن اور سیکسڈ سیمن شامل ہیں، کی برآمد کے لیے میٹیریل ٹرانسفر ایگریمنٹ کو حتمی شکل دی۔ پاکستان میں جینیاتی مواد کی وصولی، پروسیسنگ اور چین کو برآمد کے لیے ایک خصوصی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔ رشید کے مطابق یہ اقدام لائیو اسٹاک کے شعبے کے لیے ایک نئی اور اعلی قدر کی برآمدی راہ پیدا کرسکتا ہے۔رشید نے کہاکہ اس لیے مواقع صرف دودھ کی برآمد تک محدود نہیں ہیں۔ چین اور پاکستان جانوروں کے جینیاتی وسائل، نسل کشی اور خوراک سے لے کر پراسیسنگ ٹیکنالوجی، معیار کے کنٹرول، کولڈ چین، پیکیجنگ، برانڈنگ اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی سمیت پوری ڈیری ویلیو چین میں تعاون کو مزید گہرا کرسکتے ہیں۔رشید کے مطابق تین گایوں سے ملک گیر کاروبار تک لان گِگے ڈیری کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ روایتی علم کو ٹیکنالوجی، تخصص اور سرمایہ کاری کے ساتھ ملا کر ایک کم مویشیوں پر مبنی کاروبار کو بڑے تجارتی ادارے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بنیادی سبق یہ ہے کہ ملک کے وسیع لائیو اسٹاک وسائل سے زیادہ معاشی فائدہ اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب کسانوں اور کاروباری اداروں کو جدید پراسیسنگ، تحقیق اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں سے مثر طور پر منسلک کیا جائے۔

 

پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے ، آئی ایم ایف

اگلی پوسٹ
چینی تعلیمی ادارہ برطانوی یونیورسٹیوں کی جاسوسی کرنے لگا
پچھلی پوسٹ
خلائی مخلوق امریکی اہلکاروں کو قتل کیا تھا، سابق انٹیلی جنس افسر کا دعویٰ