Skip to main contentSkip to footer

اسمبلیاں توڑنے کی بات محمود قریشی نے عمران خان کے کان میں ڈالی’ محمودخان

اسمبلیاں توڑنے کی بات محمود قریشی نے عمران خان کے کان میں ڈالی' محمودخان

خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف پرلیمنٹرینز کے چیئرمین محمود خان نے کہا ہے کہ 2023 میں شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے کان میں یہ بات ڈالی تھی کہ خیبرپختونخوا ہ اسمبلی تحلیل کردی جائے،خیبرپختونخوا کی قیادت نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی تاہم بعد میں فواد چوہدری اور پنجاب کی دیگر قیادت نے بھی عمران خان کو اسمبلی تحلیل کرنے پر آمادہ کرلیا۔ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہوا،ہم چاہتے تھے کہ اگر اسمبلیاں تحلیل کرنا ضروری ہیں تو پہلے پنجاب اسمبلی تحلیل کی جائے، وہاں انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے بعد میں خیبرپختونخوا ہ اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی۔محمود خان نے کہاکہ 16 جولائی 2023 کو عمران خان کے ساتھ ان کا آخری رابطہ ہوا تھا، عمران خان نے انہیں پارٹی نہ چھوڑنے کا کہا، تاہم کچھ مجبوریاں ایسی تھیں

سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار

جن کی وجہ سے انہیں تحریک انصاف چھوڑنا پڑی۔ اگر میںپارٹی نہ چھوڑتے تو عمران خان اور انہیں دونوں کو نقصان پہنچتا۔سابق وزیراعلی محمود خان نے علی امین گنڈا پور پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 19 ماہ کے اقتدار کے دوران کچھ بھی ڈیلیور نہیں کیا،علی امین گنڈا پور کو وزیراعلی بنانے کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی تھا لیکن وہ بیک وقت دونوں طرف کھیل رہے تھے۔جب عمران خان کو معلوم ہوا کہ علی امین گنڈا پور ان کے لیے نہیں بلکہ دوسرے فریق کے لیے کام کررہے ہیں تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ علی امین گنڈا پور کے تمام احتجاج پلانٹڈ ہوتے تھے، وہ 12 سے 13 اضلاع عبور کرکے ویڈیوز بناتے تھے، حالانکہ وہ صرف ایک ضلع عبور کرکے بھی خیبرپختونخوا ہ پہنچ سکتے تھے۔محمود خان نے دعوی کیاکہ بشری بی بی اس وقت علی امین گنڈا پور کی وجہ سے جیل میں ہیں،علی امین گنڈا پور نہیں چاہتے تھے کہ بشری بی بی پشاور میں رہیں اس لیے انہوں نے اپنی نگرانی ختم کرانے کے لیے بشری بی بی کو جیل میں بند کرا دیا۔محمود خان نے کہا کہ سنا ہے کہ سہیل آفریدی کے بھائی اور ان کے دست راست نے بھی وزیراعلی ہائوس کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

رواں 21 ویں صدی کا سب سے طویل سورج گرہن اگلے سال ہوگا

محمود خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اب کوئی وجود نہیں رکھتی،تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔27 ستمبر کو تحریک انصاف کے احتجاج کے حوالے سے محمود خان نے کہاکہ پارٹی رہنمائوں کو سمجھنا چاہیے کہ احتجاجی مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں، اگر وہ لوگوں کو اکٹھا کر حالات خراب کریں گے تو اس کا نقصان بھی تحریک انصاف ہی کو ہوگا۔سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اب کوئی وجود نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔ ایک انٹرویو میں پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین محمود خان نے کہا کہا کہ عدالتی مقدمات میں صرف تاریخیں بدلتی رہیں گی، اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کو ہر صورت مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے محمود خان نے کہاکہ پارٹی رہنماں کو سمجھنا چاہیے کہ احتجاجی مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔ اگر وہ لوگوں کو اکٹھا کر حالات خراب کریں گے تو اس کا نقصان بھی تحریک انصاف ہی کو ہوگا۔محمود خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں جب عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو ہٹایا تو وزیراعلی کے لیے انہیں 3 نام پیش کیے گئے تھے۔ ان میں سے 2 ناموں سے عمران خان ذاتی طور پر واقف تھے

خیبر پختونخوا کا ایف ایم اور ٹی وی لائسنسنگ کا اختیار صوبوں کو دینے کا مطالبہ

اس لیے انہوں نے انہیں پہلی فرصت میں مسترد کردیا۔ان کے مطابق عمران خان سہیل آفریدی کو نہیں جانتے تھے، تاہم انہیں توقع تھی کہ یہ قبائلی نوجوان کچھ کر دکھائے گا، اس لیے انہوں نے سہیل آفریدی کے نام کا قرعہ نکالا۔محمود خان کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق سہیل آفریدی کو حکومتی امور چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ان پر بہت زیادہ دبا تھا، جس کی وجہ سے انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محمود خان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ سہیل آفریدی کے بھائی اور ان کے دستِ راست نے بھی وزیراعلی ہاس کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔سابق وزیراعلی محمود خان نے علی امین گنڈا پور پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 19 ماہ کے اقتدار کے دوران کچھ بھی ڈیلیور نہیں کیا۔ علی امین گنڈا پور کو وزیراعلی بنانے کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی تھا، لیکن وہ بیک وقت دونوں طرف کھیل رہے تھے۔محمود خان کے مطابق جب عمران خان کو معلوم ہوا کہ علی امین گنڈا پور ان کے لیے نہیں بلکہ دوسرے فریق کے لیے کام کررہے ہیں تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔محمود خان نے مزید بتایا کہ عمران خان کے اقتدار کے آخری دور میں ایک اِن کیمرہ اجلاس ہوا تھا، جس میں تمام وزرائے اعلی اور شہباز شریف بھی بطور اپوزیشن لیڈر موجود تھے۔ان کے مطابق اس اجلاس میں یہ بات کی گئی تھی کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ افراد کو واپس لایا جائے۔

ستمبر کی وہ تاریخ جب دن اور رات کا دورانیہ یکساں ہو جائے گا

محمود خان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صرف عمران خان کا نہیں تھا، بلکہ اس وقت کی تمام قیادت نے مل کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں افغانستان سے پاکستان آنے والے بہت سے افراد واپس چلے گئے۔پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین محمود خان نے کہا ہے کہ 2023 میں شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے کان میں یہ بات ڈالی تھی کہ خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کردی جائے۔ خیبرپختونخوا کی قیادت نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی، تاہم بعد میں فواد چوہدری اور پنجاب کی دیگر قیادت نے بھی عمران خان کو اسمبلی تحلیل کرنے پر آمادہ کرلیا۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے تھے کہ اگر اسمبلیاں تحلیل کرنا ضروری ہیں تو پہلے پنجاب اسمبلی تحلیل کی جائے۔ وہاں انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے بعد میں خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا، لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی۔محمود خان نے کہاکہ 16 جولائی 2023 کو عمران خان کے ساتھ ان کا آخری رابطہ ہوا تھا۔ عمران خان نے انہیں پارٹی نہ چھوڑنے کا کہا، تاہم کچھ مجبوریاں ایسی تھیں جن کی وجہ سے انہیں تحریک انصاف چھوڑنا پڑی۔ ان کے بقول، اگر وہ پارٹی نہ چھوڑتے تو عمران خان اور انہیں، دونوں کو نقصان پہنچتا۔

آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان پہلے نمبر پر آگیا

 

شہباز ادوار میں قرضوں میں کتنا اضافہ ہوا, تفصیلات سامنے آگئیں

Next Post
گھی اور کوکنگ آئل کی کم از کم ریٹیل قیمتیں مقرر
Previous Post
صوبائی وزیر فضل شکور کو کیوں اغوا کیا گیا؟ عدالت میں درخواست دائر