Skip to main contentSkip to footer

انسانیت ختم ہوسکتی ہے، سابق گوگل ڈیپ مائنڈ محقق کا بڑا انتباہ

انسانیت ختم ہوسکتی ہے، سابق گوگل ڈیپ مائنڈ محقق کا بڑا انتباہ

گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق ملازم بلال چغتائی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت انسانیت کیلئے انتہائی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔بلال چغتائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں گوگل ڈیپ مائنڈ سے استعفی دیا ہیجہاں وہ مصنوعی جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی )کی حفاظت اور اس کی انسانی اقدار سے ہم آہنگی سے متعلق تحقیق پر کام کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ سنجیدگی سے یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت میں پوری انسانیت کو ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور ممکن ہے کہ اس انجام سے بچنے کیلئے دستیاب وقت تیزی سے کم ہورہا ہو۔

ایران جنگ میں امریکا کے 33ارب ڈالر سے زائد خرچ، درجنوں جیٹ اور ڈرونز تباہ

بلال چغتائی نے گوگل ڈیپ مائنڈ میں ریسرچ انجینئر کے طور پر کام کیا اور وہاں رہتے ہوئے تحقیقی مقالوں میں بھی شریک مصنف رہے۔ ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق انہوں نے جولائی 2026 میں گوگل ڈیپ مائنڈ چھوڑ دیا تھا۔بلال چغتائی کے مطابق مصنوعی ذہانت کو محفوظ انداز میں آگے بڑھانے کا راستہ موجود ہے تاہم اس کیلئے اے آئی کمپنیوں کے درمیان جاری تیز رفتار مقابلے کے بجائے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی ایسی رفتار درکار ہے جسے معاشرہ سنبھال سکے اور جس دوران سامنے آنے والے خطرات کا جائزہ لے کر انتہائی نقصان سے پہلے ان کا تدارک کیا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اے آئی کی ترقی کی رفتار بہت زیادہ تیز رہی اور خطرات سے نمٹنے کیلئے مناسب وقت نہ ملا تو صورتحال سنگین ہوسکتی ہے

ساڑھے 4ہزار سال قدیم عظیم اہرام مصر میں ریاضیاتی کوڈ پوشیدہ

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن اثرات کے بارے میں عوامی سطح پر تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسن نے گزشتہ ہفتے اپنے استعفے کے حوالے سے بتایا کہ اے آئی تیار کرنے والے بعض افراد سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک تمام انسانوں کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔جیکب کوکسن کے بیان کے بعد اینتھروپک کے سائنسدان ایون ہیوبنگر نے بھی ان کے موقف پر ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیکب کوکسن کی بات درست ہے اور ان کے خیال میں اگلی دہائی کے دوران مصنوعی ذہانت کی وجہ سے پوری انسانیت کے ختم ہونے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔اس صورتحال کے بعد اے آئی کی تیز رفتار ترقی، اس سے وابستہ خطرات اور ٹیکنالوجی کی دوڑ کے حوالے سے بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔مصنوعی ذہانت سے متعلق حالیہ خدشات کے بعد اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو اموڈی نے بھی جدید اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40سال بعد پگھل کر ختم ہوگیا

ڈاریو اموڈی کی جانب سے جدید مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار سست کرنے کی اپیل کو اسپیس ایکس اے آئی کے ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹ مین کی جانب سے بھی حمایت ملی۔اس کے بعد مصنوعی ذہانت کے خطرات کے بارے میں جاری بحث میں اے آئی ڈومر ازم کے حوالے سے بھی گفتگو شروع ہوگئی ہے۔ اس اصطلاح کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے انتہائی خطرناک یا تباہ کن مستقبل کے خدشات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ضابطوں اور قواعد کے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اے آئی انڈسٹری کی جانب سے ضابطہ کاری کے مطالبے کو دھوکا قرار دیا۔مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بیانات کے برعکس ٹرمپ کا موقف اے آئی صنعت پر مزید ضابطے عائد کرنے کے مطالبے سے مختلف ہے۔اے آئی کے مستقبل، اس کی رفتار اور ممکنہ خطرات پر بحث ایسے وقت میں جاری ہے جب ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں جدید مصنوعی ذہانت اور مصنوعی جنرل انٹیلی جنس کی تیاری پر کام کررہی ہیں جبکہ اس شعبے سے وابستہ بعض محققین ٹیکنالوجی کے ممکنہ انتہائی خطرات پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

 

بھارتی پولیس اہلکار کے پاس برصغیر کی تاریخ کی عکاسی کرتا قدیم سکوں کا ذخیرہ

Next Post
خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کا نیا مسودہ تیار ، اختیارات محدود کرنے کی تجویز
Previous Post
خیبرپختونخوا میں گندم بحران کا خدشہ،2 ہفتوں کا سٹاک باقی