پاکستان کی جوتوں کی صنعت کو فروغ ملنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ چین کے ہواشین (شینزن) انویسٹمنٹ گروپ نے پاکستان کے فارورڈ گروپ کے تعاون سے سپورٹس شوزکے 16 پیداواری یونٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں تنوع کے امکانات پیدا ہوں گے۔تعاون کا معاہدہ 4 اگست کو اسلام آباد میں ہواشین کے چیئرمین لیا یی چوان اور فارورڈ گروپ کے چیئرمین خواجہ مسعود اختر کے درمیان ہوا۔ منصوبے کے تحت پاکستان میں جوتوں اور ملبوسات کی تیاری کا مرکز قائم کیا جائے گا، جبکہ کھیلوں کے جوتوں کی 16 پیداواری لائنوں سے سالانہ کروڑوں جوڑے تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
افشاں خان ویمن چیمبر آف کامرس کی بلامقابلہ صدر منتخب
مجوزہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان جوتوں کی زیادہ مقدار برآمد کر رہا ہے لیکن فی جوڑا حاصل ہونے والی آمدنی کم ہو رہی ہے۔ وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان نے 2 کروڑ 34 لاکھ 65 ہزار جوڑے برآمد کیے جن کی مالیت 17 کروڑ 56 لاکھ 50 ہزار ڈالر رہی جبکہ گزشتہ مالی سال میں 1 کروڑ 90 لاکھ 49 ہزار جوڑے 17 کروڑ 64 لاکھ 80 ہزار ڈالر میں برآمد کیے گئے تھے۔برآمدی حجم میں 23.18 فیصد اضافہ ہوا تاہم آمدنی میں 0.47 فیصد کمی آئی جس کے نتیجے میں فی جوڑے کی اوسط مالیت 9.3 ڈالر سے کم ہو کر 7.5 ڈالر رہ گئی۔ یہ اعداد و شمار زیادہ مالیت کی مصنوعات کی تیاری اور پیداواری صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔شعبے کے اندر چمڑے کے جوتوں کی برآمدات 5.22 فیصد کمی کے ساتھ 13 کروڑ 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہ گئیں جبکہ دیگر اقسام کے جوتوں کی برآمدات 19.63 فیصد اضافے سے 4 کروڑ 36 لاکھ 40 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں جس سے پاکستان کی جوتوں کی برآمدات میں مصنوعات کی نوعیت میں تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔مجوزہ چینی سرمایہ کاری کھیلوں سے متعلق مصنوعات کی تیاری میں پاکستان کی موجودگی کو اس کی روایتی مضبوطی سے آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔
شپنگ اخراجات میں اضافہ، پاکستانی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر
مالی سال 2025-26 میں کھیلوں کی مصنوعات کی برآمدات 10.08 فیصد اضافے سے 42 کروڑ 43 لاکھ 50 ہزار ڈالر رہیں جبکہ فٹ بال کی برآمدات میں 11.72 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 25 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں۔دوسری جانب پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں چمڑے کی مصنوعات کے وسیع تر شعبے میں 2.25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس سے اس شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور مصنوعات میں تنوع کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔پاکستان فٹ ویئر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل احمد فواد فاروق نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ پیداواری لائنوں پر عملی کام ابھی شروع نہیں ہوا تاہم انہوں نے معاہدے کو صنعت کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ منصوبے کے حجم سے روزگار کے نمایاں مواقع پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ چینی پیداواری ٹیکنالوجی، فنی مہارت اور انتظامی طریقہ کار بھی پاکستان منتقل ہوں گے۔ان کے مطابق یہ صلاحیتیں ملکی صنعت کی پیداواری بنیاد کو مضبوط بنانے اور ان مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں جن میں اس وقت پاکستان کی موجودگی نسبتا محدود ہے۔
پاکستان کھجور پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن گیا
فاروق نے اس امکان کی بھی نشاندہی کی کہ چین میں پیداواری لاگت بڑھنے کے ساتھ محنت طلب صنعتوں کی کچھ سرگرمیاں بتدریج کم لاگت والے دیگر ممالک منتقل ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر منصوبہ کامیابی سے نافذ کیا گیا تو یہ پاکستان کی عالمی جوتوں کے برانڈز کے لیے مسابقتی خریداری اور پیداواری مرکز بننے کی صلاحیت کو ظاہر کر سکتا ہے۔فاروق کے مطابق برآمدات کے نقط نظر سے کھیلوں کے جوتوں کی بڑے پیمانے پر تیاری پاکستان کی صنعتی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور عالمی جوتوں کی پیداواری زنجیر میں ملک کی مضبوط پوزیشن قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ فارورڈ گروپ کی شعبے میں بڑھتی ہوئی موجودگی سے مقامی سپلائرز، ہنرمند کارکنوں اور متعلقہ صنعتوں کے لیے بھی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ تعاون چین کے چینگ ڈو-چونگ چنگ جوتوں اور ملبوسات کے صنعتی کلسٹر سے منسلک ہواشین کی پیداواری اور رسد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جس سے پاکستان کو ٹیکنالوجی اور پیداواری مہارت منتقل کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
حکومت نے غیر ضروری اخراجات کم کرکے ایک ارب روپے بچا لئے
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معاہدے کو پاکستان کی برآمدی مصنوعات میں تنوع پیدا کرنے اور عالمی جوتوں کی منڈیوں میں ملک کی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے ممکنہ طور پر اہم قرار دیا۔عہدیدار نے کہا کہ ایسی سرمایہ کاری کی اہمیت صرف پیداواری صلاحیت میں اضافے تک محدود نہیں کیونکہ جدید برآمدی صنعت کے لیے عالمی معیار کے مسابقتی پیداواری نظام، مستقل معیار، بروقت ترسیل اور عالمی رسدی نظام کے ساتھ منسلک ہونا ضروری ہے۔عہدیدار کے مطابق پاکستانی صنعت کار اور تجربہ کار چینی صنعتی شراکت دار کے درمیان تعاون ملک کو بڑے پیمانے پر اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کھیلوں کے جوتوں کی تیاری کی طرف بڑھنے میں مدد دے سکتا ہے۔منصوبے کے وسیع تر فوائد اس وقت سامنے آ سکتے ہیں جب پاکستانی سپلائرز اور کارکنوں کو بتدریج اس کی پیداواری زنجیر میں شامل کیا جائے۔ مقامی طور پر پرزوں اور دیگر اجزا کی زیادہ خریداری، فنی مہارتوں کی ترقی اور پیداواری و انتظامی تجربات کی منتقلی سے ملکی سطح پر اضافی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے اور نئی پیداواری صلاحیت کے ساتھ معاون صنعتیں بھی ترقی کر سکتی ہیں۔عہدیدار نے کہا کہ برآمدات میں مستقل اضافہ بالآخر منصوبے پر عمل درآمد اور بین الاقوامی خریدار حاصل کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔ اگر منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوا تو 16 پیداواری لائنیں چینی ٹیکنالوجی اور صنعتی مہارت کو پاکستان کی مسابقتی پیداواری بنیاد کے ساتھ ملا کر ملک کو زیادہ مالیت کے کھیلوں کے جوتوں کی مارکیٹ میں داخل ہونے اور عالمی فٹ وئیر انڈسٹری میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

