Skip to main contentSkip to footer

امریکا کا پاسدارانِ ڈرون نیٹورک کی معلومات دینے پر ڈیڑھ کروڑ ڈالرز انعام کا اعلان

امریکا کا پاسدارانِ ڈرون نیٹورک کی معلومات دینے پر ڈیڑھ کروڑ ڈالرز انعام کا اعلان

امریکی محکمہ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام نے کیمیا پارس سیوان کمپنی (کیپاس)سے منسلک مالیاتی نیٹ ورکس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ڈیڑھ کروڑ ڈالرز کے انعام کا اعلان کر دیا۔امریکی پروگرام کے مطابق یہ کمپنی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے ڈرون تیار کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرتی ہے۔ریوارڈز فار جسٹس پروگرام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ کیپاس کے مبینہ 7 سینئر اہلکاروں، ان کے معاونین اور مالیاتی نیٹ ورک سے متعلق معلومات درکار ہیں۔

امریکیوں کو ایران کے ساتھ جنگ لمبی چلنے کا یقین

 

پروگرام کے مطابق قابلِ قبول معلومات فراہم کرنے والے افراد کو مالی انعام کے ساتھ ساتھ نقل مکانی میں معاونت بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔اعلان میں جن افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں ان میں حسن آرام بنیزہاد، رضا نہاروانی، مہدی نقنے، ہادی زواراکی، ابوالفضل مشکانی، عباس سرتاجی اور احسان محقق شامل ہیں۔امریکا کا کہناتھا کہ یہ افراد ڈرونز کی آزمائش، تیاری اور فراہمی کے عمل میں شامل رہے، خصوصا ان ڈرون پروگرامز میں جو عراق، یمن اور شام میں ایران نواز مسلح گروہوں کے لیے تیار کیے گئے۔بیان کے مطابق مذکورہ کمپنی نے آئی آر جی سی قدس فورس کے لیے بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں کی تجرباتی پروازیں کیں، عراق منتقل کیے جانے والے ڈرونز کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی اور ایران سے باہر موجود کمپنیوں سے اہم ڈرون پرزہ جات حاصل کیے۔

ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنیوالے پانچ افغانی ہلاک ،14لاپتہ

 

پاسدارانِ انقلاب ایران کی ایک طاقتور فوجی اور نظریاتی فورس ہے جو ایرانی اسلامی انقلاب کے فوراً بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی نے قائم کی۔ اس کا بنیادی مقصد اسلامی انقلاب اور ایران کے موجودہ نظام کا دفاع کرنا تھا۔ یہ فورس ایران کی روایتی فوج سے الگ ہے اور براہِ راست سپریم لیڈر کو جواب دہ ہوتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے پاس زمینی، بحری اور فضائی دستوں کے علاوہ بسیج ملیشیا اور بیرونِ ملک کارروائیوں کے لیے قدس فورس بھی موجود ہے۔ اس ادارے کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، علاقائی حکمتِ عملی اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اتحادی گروہوں کی حمایت میں بھی اہم کردار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ فوجی کردار کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب ایران کی سیاست، معیشت اور داخلی سلامتی میں بھی نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہے، جبکہ اس کے سابق اور موجودہ ارکان حکومت اور دیگر اہم ریاستی اداروں میں بھی کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

امریکی فوج کے ایران پر مسلسل نویں رات حملے ،میزائل و ڈرون لانچ سائٹس تباہ

 

امریکہ نے 2019 میں پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیاتھا جبکہ بعض دیگر ممالک نے بھی اس کے مختلف حصوں یا ارکان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تاہم ایران اس فورس کو اپنی قومی سلامتی اور دفاع کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔

 

امریکہ ایران میں اہداف کی نئی فہرست تیار کرنے لگا

Next Post
آئی سی سی نے مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027کے 12وینیوز کا اعلان کر دیا
Previous Post
امریکہ میں ملازمت مزید سخت، غیر ملکی طلبہ سے 1 لاکھ ڈالر لینے کی تجویز