موریطانیہ کے ساحل کے قریب یورپ جانے کی کوشش کرنے والی ایک کشتی کے حادثے میں کم از کم 143 پناہ گزین اور تارکین وطن ہلاک یا لاپتا ہو گئے ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی یواین ایچ سی آر نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب 14 سے 18 جولائی کے دوران موریطانیہ کے ساحل کے قریب 3 مختلف امدادی کارروائیوں میں دیگر خراب کشتیوں سے 387 افراد کو بحفاظت بچایا گیا تھا۔ ادارے کے مطابق یہ کشتی گیمبیا کے علاقے بافولوٹو سے روانہ ہوئی تھی اور 25 روز تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد 18 جولائی کو ریسکیو کی گئی۔
کشتی جب موریطانیہ کی بندرگاہ نواذیبو پہنچی تو اس میں متعدد لاشیں اور 38 زندہ بچ جانے والے افراد موجود تھے۔ یو این ایچ سی آر کے ترجمان میٹ سالٹ مارش نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ بچ جانے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جنہوں نے اس سفر کے دوران اپنے تمام اہل خانہ کو کھو دیا،مذکورہ دونوں بچوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 14 جولائی کو موریطانیہ پہنچنے والی ایک اور کشتی میں بھی ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق افریقہ کے صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع مختلف ممالک سے تھا، تاہم ان کی اموات کی وجوہات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ دوسری جانب موریطانیہ کے ساحلی محافظوں کے مطابق کشتی میں 160 افراد سوار تھے اور روانگی کے کچھ عرصے بعد اس کا ایندھن ختم ہو گیا، جس کے باعث 122 افراد لاپتا ہو گئے۔ یو این ایچ سی آر نے کینری جزائر جانے والے سمندری راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل فاصلے، گنجائش سے زیادہ مسافروں اور غیر محفوظ کشتیوں کی وجہ سے اس راستے پر اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔
برازیل میں 150سال پرانے گھر کی تزئین کے دوران ہزاروں انسانی باقیات دریافت
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو خطرناک سمندری سفر سے روکنے کیلئے تعلیم، روزگار اور بہتر معاشی مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ موریطانیہ بحرِ اوقیانوس کے اس راستے پر ایک اہم روانگی کا مقام ہے، جہاں سے ہر سال ہزاروں تارکین وطن اسپین کے زیرِ انتظام کینری جزائر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم یورپی یونین کی مالی معاونت سے موریطانیہ میں تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کے بعد وہاں پہنچنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دوسری جانب ناقدین کے مطابق اس کے نتیجے میں تارکین وطن مزید طویل اور خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
امریکی فوج کے ایران پر مسلسل نویں رات حملے ،میزائل و ڈرون لانچ سائٹس تباہ
موریطانیہ کا بحرِ اوقیانوس سے ملحق ساحل مغربی افریقہ سے یورپ، خصوصاً اسپین کے کینری جزائر، جانے والے تارکین وطن کے لیے ایک اہم مگر انتہائی خطرناک راستہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے پر کشتیوں کے بار بار ڈوبنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسانی اسمگلر چھوٹی اور خستہ حال ماہی گیری کی کشتیوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار کر دیتے ہیں۔ کھلے سمندر میں تیز لہریں، خراب موسم، طویل سفر، ایندھن اور پانی کی کمی، اور غیر تربیت یافتہ کشتی بان ان حادثات کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے ذریعے کینری جزائر کا یہ راستہ دنیا کے مہلک ترین ہجرتی راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال سیکڑوں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی موریطانیہ کے ساحل کے قریب دو مختلف کشتی حادثات میں تقریباً 144 تارکین وطن ہلاک یا لاپتا ہوئے، جبکہ سیکڑوں افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنیوالے پانچ افغانی ہلاک ،14لاپتہ

