Skip to main contentSkip to footer

ناسانے مریخ کے قریب سے گزرنے والے خلائی جہاز کی ویڈیو جاری کردی

ناسانے مریخ کے قریب سے گزرنے والے خلائی جہاز کی ویڈیو جاری کردی

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک دلکش ویڈیو جاری کی ہے جس میں خلائی جہاز سائیکی کی جانب سے مریخ کے قریب سے گزرتے وقت بنائی گئی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔ناسا کا خلائی جہاز سائیکی دراصل سیارچے سائیکی کا مطالعہ کرنے کے مشن پر روانہ ہے، جو مریخ اور مشتری کے درمیان موجود مرکزی سیارچوی پٹی میں واقع ہے۔ یہ خلائی جہاز جولائی 2029 میں اپنے اصل ہدف تک پہنچنے کی توقع رکھتا ہے۔مئی 2026 میں سائیکی نے مریخ کے قریب سے پرواز کی، جس دوران اس نے مریخ کی سطح سے تقریبا 4 ہزار 609 کلومیٹر فاصلے سے شاندار تصاویر حاصل کیں۔مشن کے دوران ابتدا میں مریخ سورج کے زاویے اور خلائی جہاز کی پوزیشن کے باعث ہلال کی شکل میں دکھائی دیا، تاہم قریب پہنچنے پر خلائی جہاز نے مریخ کی سطح کے واضح مناظر ریکارڈ کیے، جن میں بڑے گڑھے، جنوبی قطبی برفانی تہہ اور دیوہیکل ہیوجنز گڑھا بھی شامل ہے۔

مارخور ہنٹنگ پرمٹس کی بولیاں 12 لاکھ 11 ہزار 800 ڈالر تک پہنچ گئیں

ناسا کے مطابق یہ پرواز صرف تصاویر بنانے کے لیے نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد خلائی جہاز کے سائنسی آلات کو بھی جانچنا تھا تاکہ 2029 میں سیارچے سائیکی تک پہنچنے سے پہلے ان کی کارکردگی کی تصدیق کی جاسکے۔خلائی جہاز میں موجود کیمرہ نظام نے مریخ کی مختلف روشنیوں میں تصاویر حاصل کیں، جبکہ دیگر آلات نے مریخ کے مقناطیسی میدان اور سطحی عناصر کا جائزہ لیا۔ماہرین کے مطابق اس دوران خلائی جہاز نے اس مقام پر مقناطیسی تبدیلیاں محسوس کیں جہاں سورج سے آنے والی ذراتی ہوا مریخ کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتی ہے۔خلائی جہاز کے کیمرہ نظام نے مریخ کے دو قدرتی چاندوں فوبوس اور ڈیموس کو بھی دور سے ریکارڈ کیا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ مستقبل میں سیارچے سائیکی کے ممکنہ چاندوں کی تلاش میں مدد دے گا۔ناسا کے مطابق سائیکی اس وقت کامیابی سے اپنے اصل ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے اور 2029 میں سیارچے سائیکی تک پہنچنے کے لیے مقررہ وقت کے مطابق سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ سائیکی مشن کیا ہے؟

روس نے ایرا ن کو 1 ارب ڈالر قرض دینے کی تیاری کرلی،ایرانی میڈیا

ناسا کا سائیکی مشن نظامِ شمسی کے ایک منفرد دھاتی سیارچے 16 Psyche کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ سیارچہ مریخ اور مشتری کے درمیان موجود مرکزی سیارچوی پٹی میں واقع ہے اور سائنس دانوں کے نزدیک یہ نظام شمسی کی قدیم ترین باقیات میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سیارچہ کسی قدیم سیارے کے دھاتی مرکز (Core) کا باقی ماندہ حصہ ہو سکتا ہے، جسے اربوں سال قبل ہونے والے شدید تصادم نے اس کی بیرونی تہوں سے الگ کر دیا تھا۔ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوا تو سائنس دان پہلی مرتبہ کسی سیارے کے دھاتی مرکز کا براہ راست مطالعہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ناسا کے مطابق خلائی جہاز سائیکی جولائی 2029 میں اپنے اصل ہدف تک پہنچنے کی توقع رکھتا ہے، جہاں وہ کئی برس تک اس منفرد سیارچے کا تفصیلی سائنسی جائزہ لے گا۔ ناسا کے مطابق مئی 2026 میں خلائی جہاز سائیکی نے مریخ کے قریب سے کامیاب فلائی بائی (Flyby) کی۔ اس دوران یہ مریخ کی سطح سے تقریباً 4 ہزار 609 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرا، جو اسے سرخ سیارے کی انتہائی واضح تصاویر حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا تھا۔ خلائی جہاز کے قریب پہنچنے کے دوران سورج کی روشنی کے زاویے اور خلائی جہاز کی پوزیشن کے باعث ابتدا میں مریخ ہلال کی شکل میں نظر آیا، تاہم جیسے جیسے خلائی جہاز قریب پہنچتا گیا، مریخ کی سطح کے تفصیلی اور شاندار مناظر ریکارڈ ہوتے گئے۔

پشاور کے 13 خوبصورت اور تاریخی مقامات: تاریخ، ثقافت اور ورثے کا سفر

ناسا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں مریخ کی سطح پر موجود متعدد نمایاں جغرافیائی خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان تصاویر میں مریخ کے بڑے بڑے قدیم گڑھے (Impact Craters)، جنوبی قطب پر موجود برفانی تہہ، وسیع میدان اور دیوہیکل ہیوجنز (Huygens) گڑھا نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تصاویر نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے اہم ہیں بلکہ مریخ کی ارضیاتی تاریخ، ماضی کے موسمی حالات اور سطحی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں بھی مدد فراہم کریں گی۔ ناسا نے واضح کیا کہ مریخ کے قریب سے گزرنے کا مقصد صرف خوبصورت تصاویر حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ اس دوران خلائی جہاز پر نصب جدید سائنسی آلات کی کارکردگی کو بھی جانچا گیا۔ خلائی جہاز میں نصب کیمرہ نظام نے مختلف روشنیوں اور زاویوں سے مریخ کی تصاویر حاصل کیں، جبکہ دیگر سائنسی آلات نے مریخ کے گرد موجود مقناطیسی ماحول، خلائی ذرات اور سطحی عناصر سے متعلق اہم معلومات بھی جمع کیں۔ ناسا کے مطابق اس فلائی بائی کے دوران حاصل ہونے والا ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے انتہائی اہم تھا کہ خلائی جہاز کے تمام آلات 2029 میں اپنے اصل مشن کے دوران مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہیں۔

مشن سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق خلائی جہاز نے مریخ کے قریب ایک ایسے مقام سے بھی گزر کر مشاہدات کیے جہاں سورج سے خارج ہونے والی تیز رفتار شمسی ذراتی ہوا (Solar Wind) مریخ کے مقناطیسی ماحول سے ٹکراتی ہے۔ اس دوران خلائی جہاز کے حساس آلات نے مقناطیسی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کیا، جن کے تجزیے سے سائنس دان مریخ کے خلائی ماحول، شمسی ہواؤں کے اثرات اور سیاروں کے مقناطیسی نظام کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔ سائیکی خلائی جہاز کے جدید کیمرہ نظام نے مریخ کے دونوں قدرتی چاند فوبوس (Phobos) اور ڈیموس (Deimos) کو بھی دور سے کامیابی کے ساتھ ریکارڈ کیا۔ اگرچہ یہ دونوں چاند نسبتاً چھوٹے ہیں، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تصاویر حاصل کرنا ایک اہم تکنیکی کامیابی ہے۔ اس تجربے سے مستقبل میں سیارچہ سائیکی کے گرد ممکنہ چھوٹے چاندوں یا گرد و غبار کے ذرات کی شناخت میں مدد ملے گی۔
سائیکی مشن کیوں اہم ہے؟

مسٹر بیسٹ نے بچوں کو غیر قانونی مزدوری سے بچانے کیلئے پورا گائوں تعمیر کردیا

ماہرین کے مطابق سائیکی مشن ناسا کے اہم ترین سیارچوی مشنز میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس کا ہدف عام پتھریلے سیارچوں سے مختلف ہے۔ سائیکی بڑی حد تک دھاتوں، خصوصاً آئرن اور نکل، پر مشتمل ہے، جس کے مطالعے سے سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ زمین سمیت دوسرے پتھریلے سیاروں کے اندرونی دھاتی مراکز کیسے وجود میں آئے۔ یہ تحقیق نظام شمسی کی تشکیل، سیاروں کی ارتقائی تاریخ اور اربوں سال پہلے پیش آنے والے عظیم تصادمات کے بارے میں نئی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ ناسا کے مطابق خلائی جہاز سائیکی اس وقت اپنے اصل ہدف کی جانب کامیابی سے سفر کر رہا ہے اور تمام نظام معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ مریخ کے قریب سے گزرنے کے دوران حاصل ہونے والے تجربات اور ڈیٹا سے سائنس دانوں کو خلائی جہاز کی کارکردگی پر مکمل اعتماد حاصل ہوا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر مشن موجودہ منصوبے کے مطابق جاری رہا تو خلائی جہاز جولائی 2029 میں سیارچہ سائیکی تک پہنچ جائے گا، جہاں وہ کئی ماہ تک مدار میں رہ کر اس منفرد دھاتی دنیا کی ساخت، سطح، مقناطیسی میدان، کیمیائی اجزا اور ارضیاتی تاریخ کا تفصیلی مطالعہ کرے گا۔ سائنس دانوں کے مطابق سائیکی مشن مستقبل کی خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف سیارچوں بلکہ زمین اور دیگر پتھریلے سیاروں کی تشکیل کے بارے میں بھی نئی سائنسی حقیقتیں سامنے لا سکتی ہیں۔

 

ویلز میں 3 ہزار سال قدیم سونے کا کنگن دریافت

اگلی پوسٹ
سہیل آفریدی کی خیبرپختونخوا میں نئے ہسپتال قائم کرنے کی ہدایت
پچھلی پوسٹ
مارخور ہنٹنگ پرمٹس کی بولیاں 12 لاکھ 11 ہزار 800 ڈالر تک پہنچ گئیں