بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے روشن ڈیجیٹل اکانٹس کے ذریعے موصول ہونے والی مجموعی رقوم جون 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 13.365 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ کھولے گئے اکانٹس کی تعداد 9 لاکھ 46 ہزار 201 ہو گئی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 30 جون 2026 تک جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مئی کے اختتام پر روشن ڈیجیٹل اکائونٹس میں موصول ہونے والی رقوم 13.059 ارب ڈالر تھیں جو جون میں 305.83 ملین ڈالر اضافے کے بعد 13.365 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
یہ ماہانہ بنیاد پر 2.34 فیصد اضافہ ہے۔رپورٹ کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکانٹس بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے اپنی رقوم پاکستان کے بینکاری نظام میں رکھنے، حکومتی سرمایہ کاری سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے اور غیر ملکی یا پاکستانی کرنسی میں رقوم محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان اکانٹس میں آنے والی رقوم، واپس بھیجی جانے والی رقوم اور باقی واجبات ملکی مالیاتی نظام میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا اہم اشاریہ سمجھے جاتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جون میں روشن ڈیجیٹل اکانٹس کی تعداد 9 لاکھ 36 ہزار 165 سے بڑھ کر 9 لاکھ 46 ہزار 201 ہو گئی
جون 2026 میں روشن ڈیجیٹل اکانٹس میں کتنی رقم جمع ہوئی؟
یعنی ایک ماہ میں 10 ہزار 36 نئے اکانٹس کھولے گئے۔ جنوری 2026 کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 44 ہزار 437 نئے اکانٹس کا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری میں روشن ڈیجیٹل اکانٹس کے ذریعے موصول ہونے والی مجموعی رقوم 11.923 ارب ڈالر تھیں جو فروری میں 12.165 ارب ڈالر، مارچ میں 12.426 ارب ڈالر، اپریل میں 12.747 ارب ڈالر، مئی میں 13.059 ارب ڈالر اور جون میں 13.365 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔جون کے اختتام تک موصول ہونے والی مجموعی رقوم میں سے 2.093 ارب ڈالر بیرونِ ملک واپس منتقل کیے جا چکے تھے جبکہ 8.435 ارب ڈالر پاکستان میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس طرح واپس بھیجی گئی اور مقامی طور پر استعمال ہونے والی رقوم کا مجموعہ 10.528 ارب ڈالر رہا۔رپورٹ کے مطابق وہ رقم جو مستقبل میں بیرونِ ملک منتقل کی جا سکتی ہے
موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنیوالے صارفین کی تعداد 13.7کروڑ ہوگئی
یعنی خالص قابلِ واپسی واجبات، مئی کے 2.706 ارب ڈالر سے بڑھ کر جون میں 2.837 ارب ڈالر ہو گئے۔ان واجبات میں سب سے بڑا حصہ اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کا رہا، جس کی مالیت 1.259 ارب ڈالر تھی۔ اس کے بعد اکانٹس میں موجود رقوم 711.97 ملین ڈالر، روایتی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس 641.85 ملین ڈالر، روشن ایکویٹی سرمایہ کاری 145.25 ملین ڈالر جبکہ دیگر واجبات 78.28 ملین ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔مئی کے مقابلے میں روایتی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری 55.45 ملین ڈالر، اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 50.19 ملین ڈالر، اکانٹس میں موجود رقوم 12.34 ملین ڈالر اور روشن ایکویٹی سرمایہ کاری 10.35 ملین ڈالر بڑھ گئی۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں روشن ڈیجیٹل اکانٹس کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں نئے اکانٹس، موصول ہونے والی مجموعی رقوم، ملک میں استعمال ہونے والی سرمایہ کاری اور خالص قابلِ واپسی واجبات، سب میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 46,275 میگاواٹ تک پہنچ گئی
اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 کے دوران روشن ڈیجیٹل اکانٹس کی تعداد 9 لاکھ 36 ہزار 165 سے بڑھ کر 9 لاکھ 46 ہزار 201 ہو گئی، یعنی صرف ایک ماہ میں 10 ہزار 36 نئے اکانٹس کھولے گئے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 44 ہزار 437 نئے روشن ڈیجیٹل اکانٹس کا اضافہ ہوا، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران روشن ڈیجیٹل اکانٹس میں مسلسل ترقی کا رجحان برقرار رہا۔ جنوری 2026 میں مجموعی رقوم 11.923 ارب ڈالر تھیں، جو فروری میں بڑھ کر 12.165 ارب ڈالر ہو گئیں۔ مارچ میں یہ حجم 12.426 ارب ڈالر، اپریل میں 12.747 ارب ڈالر، مئی میں 13.059 ارب ڈالر اور جون کے اختتام پر 13.365 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ مسلسل چھ ماہ تک ہر مہینے سرمایہ کاری میں اضافہ اس پروگرام کی مضبوط کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پیٹرول 8، ڈیزل 40 روپے مہنگا ہونے کا امکان
رپورٹ کے مطابق جون کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکانٹس میں موصول ہونے والی مجموعی 13.365 ارب ڈالر کی رقم میں سے 2.093 ارب ڈالر بیرونِ ملک واپس منتقل کیے جا چکے تھے، جبکہ 8.435 ارب ڈالر پاکستان میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے۔ ان مقاصد میں حکومتی سرمایہ کاری سکیمیں، مالیاتی آلات، بینکاری لین دین اور دیگر سرمایہ کاری کے شعبے شامل ہیں۔ اس طرح بیرونِ ملک واپس بھیجی گئی اور پاکستان میں استعمال ہونے والی رقوم کا مجموعی حجم 10.528 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو ملکی مالیاتی نظام میں روشن ڈیجیٹل اکانٹس کے نمایاں کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وہ رقم جو مستقبل میں بیرونِ ملک منتقل کی جا سکتی ہے، یعنی خالص قابلِ واپسی واجبات، مئی کے 2.706 ارب ڈالر سے بڑھ کر جون میں 2.837 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق اس میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکانٹس میں موجود سرمایہ کاری اور ڈپازٹس مسلسل بڑھ رہے ہیں اور بیرونِ ملک پاکستانی اپنی رقوم کو محفوظ انداز میں پاکستان کے مالیاتی نظام کا حصہ بنا رہے ہیں۔
سرحد چیمبر کا صنعتی پالیسی مرتب کر نے سمیت خصوصی مراعات کا مطالبہ
اعداد و شمار کے مطابق خالص قابلِ واپسی واجبات میں سب سے بڑا حصہ اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کا رہا، جس کی مالیت 1.259 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد روشن ڈیجیٹل اکانٹس میں موجود رقوم 711.97 ملین ڈالر رہیں، جبکہ روایتی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری 641.85 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح روشن ایکویٹی سرمایہ کاری کا حجم 145.25 ملین ڈالر جبکہ دیگر واجبات 78.28 ملین ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مئی کے مقابلے میں مختلف سرمایہ کاری کے شعبوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ روایتی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری 55.45 ملین ڈالر بڑھی، جبکہ اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 50.19 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح روشن ڈیجیٹل اکانٹس میں موجود رقوم میں 12.34 ملین ڈالر اور روشن ایکویٹی سرمایہ کاری میں 10.35 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی صرف رقوم محفوظ رکھنے کے بجائے مختلف سرمایہ کاری کے ذرائع سے بھی بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکانٹس پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف قانونی بینکاری چینلز سے رقوم پاکستان منتقل ہو رہی ہیں بلکہ حکومتی سرمایہ کاری سکیموں کو بھی مضبوط سہارا مل رہا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے نے سمندر پار پاکستانیوں کو ملکی معیشت کا براہ راست حصہ بننے کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے بینکاری شعبے، سرمایہ کاری کے ماحول اور مالیاتی استحکام کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکانٹس میں آنے والی رقوم، اکانٹس کی تعداد، سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مختلف مالیاتی مصنوعات میں دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی ملکی مالیاتی نظام پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس پروگرام میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع، جدید ڈیجیٹل خدمات، آسان آن لائن سہولتیں اور نئی مالیاتی مصنوعات متعارف کرائے تو آنے والے برسوں میں اس پروگرام کے ذریعے اربوں ڈالر کی مزید سرمایہ کاری پاکستان لائی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں، جو ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور جاری کھاتوں کے توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکانٹس نے ان ترسیلات اور سرمایہ کاری کو مزید منظم اور محفوظ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس سے غیر رسمی ذرائع کے بجائے بینکاری نظام کے استعمال کو فروغ ملا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جون 2026 کے دوران روشن ڈیجیٹل اکانٹس کی کارکردگی مثبت رہی، جہاں نئے اکانٹس، موصول ہونے والی مجموعی رقوم، مختلف سرمایہ کاری سکیموں میں سرمایہ کاری، پاکستان میں استعمال ہونے والے فنڈز اور خالص قابلِ واپسی واجبات، تمام اہم اشاریوں میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو روشن ڈیجیٹل اکانٹس مستقبل میں پاکستان کے لیے بیرونی سرمایہ کاری، زرمبادلہ کے استحکام اور مالیاتی شعبے کی مضبوطی کا مزید مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سولر پینل فی پلیٹ 3000 روپے سستی ہوگئی، بیٹریاں اور انورٹر بھی سستے

