پاکستان سے رواں سیزن میں آم کی برآمدات دنیا کے مختلف ممالک کو جاری رہیں جن میں ایران، متحدہ عرب امارات، عمان اور برطانیہ نمایاں منڈیاں بن کر سامنے آئے ہیں۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک سرکاری دستاویز کے مطابق یکم جون سے 6 جولائی 2026 تک پاکستان نے 42 ہزار 343 میٹرک ٹن آم برآمد کیے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ مقدار 44 ہزار 92 میٹرک ٹن تھی۔ اگرچہ مجموعی برآمدی حجم میں معمولی کمی آئی، تاہم برآمدی صحت کے سرٹیفکیٹس کی تعداد 3 ہزار 751 سے بڑھ کر 4 ہزار 984 ہو گئی جو مختلف ممالک کو مسلسل برآمدات کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایران پاکستانی آم کا سب سے بڑا خریدار رہا جہاں 19 ہزار 342 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ مقدار 7 ہزار 858 میٹرک ٹن تھی۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے 9 ہزار 245 میٹرک ٹن اور عمان نے 6 ہزار 3 میٹرک ٹن آم درآمد کیے۔برطانیہ بھی اس سال ایک اہم نئی منڈی کے طور پر سامنے آیا جہاں یکم جون سے 6 جولائی کے دوران 3 ہزار 439 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں برطانیہ کو اس پیمانے پر برآمدات ریکارڈ نہیں کی گئی تھیں۔اعلی معیار کی منڈیوں میں بھی پاکستانی آم کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جاپان کو برآمدات 48 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 232 میٹرک ٹن، امریکہ کو 112 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 248 میٹرک ٹن اور آسٹریلیا کو 50 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 100 میٹرک ٹن ہو گئیں۔
یورپی ممالک میں بھی مثبت رجحان
اسی طرح جرمنی کو برآمدات 547 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 761 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔دیگر یورپی اور ایشیائی ممالک میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔ ناروے کو 494 میٹرک ٹن، اٹلی کو 219 میٹرک ٹن، آئرلینڈ کو 109 میٹرک ٹن، ملائیشیا کو 99 میٹرک ٹن، اسپین کو 76 میٹرک ٹن اور سویڈن کو 165 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی آم برآمد کرنے والی منڈیاں بتدریج متنوع ہو رہی ہیں۔ خلیجی ممالک کے علاوہ یورپ، مشرقی ایشیا، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا میں بھی پاکستانی آم کی رسائی بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ افغانستان کو برآمدات گزشتہ سال کے 10 ہزار 89 میٹرک ٹن کے مقابلے میں کم رہیں لیکن ایران سمیت دیگر منڈیوں میں اضافے نے مجموعی برآمدی سرگرمی برقرار رکھی۔یورپی ممالک میں فرانس کو 86 میٹرک ٹن، سوئٹزرلینڈ کو 47 میٹرک ٹن اور ڈنمارک کو 62 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ تاہم نیدرلینڈز، یونان اور بیلجیئم کو برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستانی کاروباری افراد کیلئے عالمی منڈیوں کے دروازے کھل گئے
جنوب مشرقی ایشیا میں سنگاپور کو بھی آم کی برآمدات 22 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 27 میٹرک ٹن ہو گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کو آم کی برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی تجارتی رکاوٹیں، رسد کے مسائل اور بحری مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ سعودی عرب نے 650 میٹرک ٹن آم درآمد کیے جو گزشتہ سال 974 میٹرک ٹن تھے جبکہ قطر کی درآمدات 691 سے کم ہو کر 370 میٹرک ٹن، کویت کی 143 سے 46 میٹرک ٹن اور بحرین کی 462 سے 154 میٹرک ٹن رہ گئیں۔دستاویز کے مطابق جاپان، امریکہ، آسٹریلیا اور متعدد یورپی ممالک میں پاکستانی آم کی بڑھتی ہوئی برآمدات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کے لیے مزید مواقع موجود ہیں۔ اگر عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جائے
جدید قرنطینہ اور پروسیسنگ سہولتیں فراہم کی جائیں اور نقل و حمل کا نظام مزید مثر بنایا جائے تو پاکستان اپنے معیاری آم کے ذریعے عالمی اعلی درجے کی منڈیوں میں مزید مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اعلیٰ معیار کی عالمی منڈیوں میں پاکستانی آم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سرکاری دستاویز کے مطابق جاپان، امریکہ اور آسٹریلیا جیسی سخت معیار رکھنے والی منڈیوں میں پاکستانی آم کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رواں سیزن میں جاپان کو آم کی برآمدات 48 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 232 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں، جو تقریباً پانچ گنا اضافہ ہے۔ اسی طرح امریکہ کو برآمدات 112 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 248 میٹرک ٹن ہو گئیں، جبکہ آسٹریلیا کو آم کی برآمدات 50 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 100 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں داخل ہونے کے لیے سخت قرنطینہ، حفظان صحت، ٹریس ایبلٹی اور معیار کی شرائط پوری کرنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے ان منڈیوں میں برآمدات کا بڑھنا پاکستانی آم کے معیار پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
چین مئی کے دوران پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں سرفہرست
رپورٹ کے مطابق جرمنی کو پاکستانی آم کی برآمدات 547 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 761 میٹرک ٹن ہو گئی ہیں، جو یورپی منڈی میں پاکستانی آم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ناروے کو 494 میٹرک ٹن، اٹلی کو 219 میٹرک ٹن، آئرلینڈ کو 109 میٹرک ٹن، اسپین کو 76 میٹرک ٹن اور سویڈن کو 165 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ یورپ میں صحت مند اور قدرتی پھلوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستانی آم کو نئی مارکیٹیں مل رہی ہیں، جبکہ پاکستانی برآمدکنندگان بھی یورپی فوڈ سیفٹی قوانین پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ دستاویز کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں بھی پاکستانی آم کی طلب برقرار ہے۔ ملائیشیا کو 99 میٹرک ٹن اور سنگاپور کو 27 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال سنگاپور کو صرف 22 میٹرک ٹن آم بھیجے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق اگر مارکیٹنگ بہتر کی جائے اور مقامی سپر مارکیٹوں سے براہ راست معاہدے کیے جائیں تو جنوب مشرقی ایشیا پاکستانی آم کے لیے مزید بڑی منڈی بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی پاکستانی آم کی برآمدات میں بہتری دیکھی گئی۔ فرانس کو 86 میٹرک ٹن، سوئٹزرلینڈ کو 47 میٹرک ٹن اور ڈنمارک کو 62 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ البتہ نیدرلینڈز، یونان اور بیلجیئم کو برآمدات میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجوہات میں عالمی معاشی دباؤ، مقامی طلب میں کمی اور سپلائی چین کے مسائل شامل قرار دیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر پاکستان کی برآمدی سرگرمیاں برقرار رہیں، تاہم افغانستان کو آم کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں افغانستان کو 10 ہزار 89 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے تھے، جبکہ رواں سال یہ حجم کم رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارتی مسائل، نقل و حمل میں رکاوٹوں اور علاقائی حالات کے باعث افغانستان کی مارکیٹ میں کمی آئی، تاہم ایران سمیت دیگر ممالک میں اضافی طلب نے مجموعی برآمدات کو سہارا دیا۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کو آم کی برآمدات میں جزوی کمی کی بڑی وجوہات ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، بحری راستوں پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال، رسد میں رکاوٹیں اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے رواں سال 650 میٹرک ٹن آم درآمد کیے جبکہ گزشتہ سال یہ مقدار 974 میٹرک ٹن تھی۔ قطر کی درآمدات 691 میٹرک ٹن سے کم ہو کر 370 میٹرک ٹن رہ گئیں، کویت کی درآمدات 143 میٹرک ٹن سے کم ہو کر 46 میٹرک ٹن جبکہ بحرین کی درآمدات 462 میٹرک ٹن سے کم ہو کر 154 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی بنیادی طور پر طلب میں کمی کے بجائے شپنگ لاگت، ترسیلی تاخیر اور علاقائی جغرافیائی سیاسی حالات کا نتیجہ ہے۔
پاکستانی فری لانسرز نے نیا تاریخی عالمی ریکارڈ قائم کردیا
زرعی ماہرین کے مطابق پاکستانی آم اپنی منفرد خوشبو، مٹھاس، قدرتی ذائقے اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ سندھڑی، چونسا، انور رٹول، لنگڑا، دسہری، فجری اور سرولی جیسی اقسام عالمی منڈیوں میں خاصی پسند کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کاشتکار جدید زرعی طریقوں کو اپنائیں، بعد از برداشت نقصانات کم کیے جائیں، کولڈ اسٹوریج، گریڈنگ، پیکنگ، ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ، ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور قرنطینہ کی جدید سہولتوں میں مزید سرمایہ کاری کی جائے تو پاکستان اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جاپان، امریکہ، آسٹریلیا اور متعدد یورپی ممالک میں پاکستانی آم کی بڑھتی ہوئی برآمدات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عالمی اعلیٰ معیار کی منڈیوں میں پاکستان کے لیے مزید مواقع موجود ہیں۔ اگر حکومت، برآمدکنندگان اور کاشتکار مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں، عالمی معیار کے مطابق پروسیسنگ، پیکنگ اور لاجسٹکس کو بہتر بنایا جائے، فضائی اور بحری مال برداری کے اخراجات کم کیے جائیں اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے تجارتی معاہدوں پر توجہ دی جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتا ہے بلکہ عالمی آم کی تجارت میں بھی مزید مضبوط اور نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے بڑے آم پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اگر برآمدی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور برانڈنگ پر توجہ دی جائے تو پاکستانی آم آئندہ برسوں میں عالمی منڈی میں مزید نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ لاکھوں کاشتکاروں اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد کو بھی براہ راست معاشی فائدہ پہنچے گا۔
گدھے کے گوشت اور کھالوں کی چین کو برآمدات بڑھانے کی تیاری

