Skip to main contentSkip to footer

اسلام کے دو انگریز مجاہد، جنہوں نے برطانیہ میں اسلام کی شمع روشن کی

اسلام کے دو انگریز مجاہد: جنہوں نے برطانیہ میں اسلام کی شمع روشن کی

انیسویں صدی کے آخری برسوں اور بیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ کے دور میں کہا جاتا تھا کہ ’’برطانوی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔‘‘ اس زمانے میں عیسائیت نہ صرف اکثریتی مذہب بلکہ ریاستی شناخت اور سماجی بالادستی کی علامت بھی تھی۔ ایسے ماحول میں دو ممتاز انگریز دانشوروں اور بااثر شخصیات نے اسلام قبول کر کے نہ صرف اپنی زندگیاں بدل دیں بلکہ برطانیہ میں اسلام کی دعوت، علمی دفاع اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔


عبداللہ کوئلیم: برطانیہ کی پہلی فعال مسجد کے بانی


ولیم ہنری کوئلیم 1856ء میں لیورپول میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک معروف وکیل، سماجی رہنما اور بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ 1887ء میں مراکش اور شمالی افریقہ کے سفر کے دوران انہوں نے اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور اس کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد انہوں نے عبداللہ کوئلیم نام اختیار کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے لیورپول میں برطانیہ کی پہلی فعال مسجد اور ایک اسلامی ادارہ قائم کیا، جو صرف عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ تعلیمی، فلاحی اور دعوتی مرکز بھی تھا۔ یہاں نماز، دینی تعلیم، کتب خانہ، خطبات، یتیم خانہ، اسکول اور مختلف سماجی خدمات فراہم کی جاتی تھیں۔ عبداللہ کوئلیم نے اسلام کی دعوت عام کرنے کے لیے دو ہفتہ وار اخبارات جاری کیے، جن کے ذریعے برطانیہ اور یورپ میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کا علمی انداز میں جواب دیا جاتا تھا۔

ستائیس برس سے پیدل دنیا کی سیر کرنے والا کارل بشبی کون ہے؟

 

ان کی خدمات سے متاثر ہو کر خلافتِ عثمانیہ کے فرمانروا سلطان عبدالحمید ثانی نے انہیں سرکاری طور پر ’’برطانوی جزائر کا شیخ الاسلام‘‘ کا اعزاز عطا کیا جو اس دور میں کسی برطانوی مسلمان کے لیے غیر معمولی اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ عبداللہ کوئلیم کے اسلام قبول کرنے اور تبلیغی سرگرمیوں نے برطانوی اشرافیہ اور بعض اخبارات کو سخت مشتعل کر دیا۔ انہیں غدار، سلطنت دشمن اور غیر ملکی ایجنٹ تک قرار دیا گیا۔
ان کی مسجد پر متعدد مرتبہ پتھراؤ کیا گیا، شیشے توڑے گئے، عمارت پر گندگی اور سور کا گوشت پھینکا گیا جبکہ اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اس تمام مخالفت کے باوجود انہوں نے کبھی تشدد یا انتقام کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ صبر، برداشت اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنایا۔ انہوں نے مسجد سے ملحق ایک یتیم خانہ بھی قائم کیا، جہاں غریب اور بے سہارا بچوں، خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی، کی پرورش اور تعلیم کا انتظام کیا جاتا تھا۔ یہی انسانی خدمت ان کی دعوت کا سب سے مؤثر ذریعہ بنی۔ مؤرخین کے مطابق ان کی تبلیغی کاوشوں کے نتیجے میں تقریباً چھ سو سے زائد برطانوی شہریوں نے اسلام قبول کیا، جن میں ڈاکٹر، وکلا، فوجی افسران، اساتذہ اور دیگر بااثر شخصیات بھی شامل تھیں۔


محمد مارماڈیوک پکتھال

عبداللہ کوئلیم کے بعد جس شخصیت نے برطانیہ میں اسلام کی علمی اور فکری نمائندگی کو مزید مضبوط کیا وہ 1875 میں پیدا ہوئے ، وہ معروف ادیب، ناول نگار، صحافی اور مستشرق محمد مارماڈیوک پکتھال تھے، پکتھال نے مشرق وسطیٰ، شام، فلسطین، مصر اور خلافت عثمانیہ کے مختلف علاقوں کا طویل سفر کیا۔ انہوں نے عربی زبان سیکھی اور اسلامی تہذیب کا قریب سے مطالعہ کیا۔ طویل غور و فکر کے بعد انہوں نے 1917ء میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام محمد مارماڈیوک پکتھال رکھا۔ ان کے قبول اسلام نے برطانوی ادبی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی، کیونکہ وہ اپنے دور کے معروف ادیب اور دانشور شمار ہوتے تھے۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران جب برطانیہ خلافت عثمانیہ کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا، اس وقت پکتھال نے انصاف اور حقیقت کی بنیاد پر مسلمانوں اور خلافت عثمانیہ کا مؤقف پیش کیا۔ اس وجہ سے انہیں شدید تنقید، سماجی بائیکاٹ اور غداری جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، مگر وہ اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے۔

موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے تجربہ بیان کر دیا

 

ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ تھا، جو 1930ء میں شائع ہوا۔ اس ترجمے کی تیاری میں انہوں نے مصر کے ممتاز علما اور جامعہ ازہر کے اہل علم سے رہنمائی حاصل کی۔ آج بھی یہ ترجمہ دنیا کے معتبر ترین انگریزی تراجم میں شمار کیا جاتا ہے اور مغربی دنیا میں قرآن فہمی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔ عبداللہ کوئلیم کو بعد ازاں سیاسی دباؤ اور ایک متنازع مقدمے کے باعث برطانیہ چھوڑنا پڑا۔ کچھ عرصہ بعد وہ ایک نئے نام سے خاموشی سے وطن واپس آئے اور دوبارہ اسلام کی دعوت اور علمی خدمات میں مصروف ہو گئے۔ اس دوران ان کا رابطہ محمد مارماڈیوک پکتھال سمیت دیگر مسلم دانشوروں سے بھی برقرار رہا، 23 اپریل 1932ء کو عبداللہ کوئلیم کا انتقال ہوا۔ انہیں برطانیہ کے تاریخی مسلم قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ چار برس بعد، 19 مئی 1936ء کو محمد مارماڈیوک پکتھال بھی اس دنیا سے رخصت ہوئے اور انہیں بھی اسی قبرستان میں عبداللہ کوئلیم کے قریب دفن کیا گیا۔

دبئی جانیوالے مسافروں کیلئے بڑی خوشخبری،مفت فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام

 

تاریخ گواہ ہے کہ عبداللہ کوئلیم اور محمد مارماڈیوک پکتھال نے ایسے دور میں اسلام کا پرچم بلند کیا جب برطانوی معاشرے میں مسلمانوں کی تعداد نہایت کم تھی اور اسلام کے بارے میں شدید تعصب پایا جاتا تھا۔
انہوں نے نہ تلوار اٹھائی، نہ تشدد کا راستہ اپنایا، بلکہ علم، قلم، کردار، برداشت، خدمتِ خلق اور مکالمے کے ذریعے اسلام کا پیغام عام کیا۔ آج برطانیہ میں قائم ہزاروں مساجد، اسلامی مراکز اور لاکھوں مسلمانوں کی موجودگی اس ابتدائی جدوجہد کی ایک تاریخی یاد دلاتی ہے۔ ان دونوں شخصیات کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اخلاص، علم اور اعلیٰ کردار کے ذریعے کسی بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، خواہ حالات کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں۔

 

 

شیاطین کو بلانے کیلئے جادوئی منتر لکھی پراسرار تختی دریافت

Previous Post
ستائیس برس سے پیدل دنیا کی سیر کرنے والا کارل بشبی کون ہے؟