Skip to main contentSkip to footer

ڈیڈ لائن ختم، پشاور میں ناکہ بندیاں، سینکڑوں افغان مہاجرین گرفتار

ڈیڈ لائن ختم، پشاور میں ناکہ بندیاں، سینکڑوں افغان مہاجرین گرفتار

پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی 10 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بغیر کارآمد ویزے یا قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان میں موجود کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ کو سختی سے فیصلوں پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

افغان مہاجرین کو کہاں منتقل کیا جائیگا؟

سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ وزارت داخلہ ارسال کرنے کا پابند بنایا ہے۔ رپورٹ میں روزانہ گرفتار کیے جانے والے افغان شہریوں کی تعداد، ان کے خلاف کی گئی کارروائی، ان کی موجودہ حیثیت اور ملک بدری کے مراحل کی مکمل تفصیلات شامل ہوں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ 28 جون 2026 کو وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور چیف کمشنر اسلام آباد کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا تھا، جس میں تمام ڈپٹی کمشنرز، پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضروری ہدایات جاری کرنے کی تاکید کی گئی تھی تاکہ غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

دوسری جانب پشاور میں بھی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ایف سی نے مشترکہ سرچ اینڈ سکریننگ آپریشنز شروع کر دیے ہیں جبکہ اہم شاہراہوں پر ناکہ بندیاں قائم کرکے مشکوک افراد کی شناخت اور دستاویزات کی جانچ کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اشرف روڈ پر خصوصی ناکہ قائم کیا گیا ہے جہاں گزرنے والے مشکوک افراد کے قومی شناختی کارڈ اور دیگر سفری دستاویزات کی باقاعدہ تصدیق کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد صرف ان افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم ہیں۔

خیبرپختونخوا میں 2,004 انٹیلی جنس آپریشنز، 182 دہشت گرد ہلاک

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز کارخانو مارکیٹ اور بورڈ بازار میں بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، جہاں درجنوں افغان مہاجرین کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس دوران بعض دکانیں بھی خالی کرائی گئیں جبکہ متعلقہ افراد کو کرائے کے مکانات خالی کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ بعض مقامات پر ذاتی تعمیرات کے حوالے سے بھی انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پشاور بھر میں رات گئے پولیس اور ایف سی نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز کیے، جن کے دوران متعدد گھروں کی تلاشی لی گئی اور رہائشیوں سے شناختی دستاویزات طلب کی گئیں۔ آفریدی گڑھی، دلہ زاک روڈ، پخہ غلام، یوسف آباد اور بشیر آباد سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران متعدد افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کی ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد انہیں مزید قانونی کارروائی اور ملک بدری کے عمل کے لیے لنڈی کوتل منتقل کیا گیا، جہاں امیگریشن اور دیگر متعلقہ ادارے ان کے سفری ریکارڈ اور شناخت کی تصدیق کر رہے ہیں۔

ڈیڈ لائن ختم، پشاور میں ناکہ بندیاں، سینکڑوں افغان مہاجرین گرفتار

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حکام کا کہنا ہے کہ صرف وہی افغان شہری پاکستان میں قیام کے مجاز ہوں گے جن کے پاس کارآمد ویزہ یا دیگر قانونی سفری دستاویزات موجود ہوں گی۔ ایسے تمام افراد جو مقررہ مدت گزرنے کے باوجود قانونی دستاویزات حاصل نہیں کرسکے یا جن کے ویزے کی مدت ختم ہوچکی ہے، ان کے خلاف امیگریشن قوانین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی کارروائی کے دوران ملکی قوانین اور انسانی وقار کا مکمل خیال رکھا جائے، تاہم غیرقانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

گنڈاپور کی آڈیو لیک، سہیل آفریدی کیخلاف نیا محاذ کھول دیا

وفاقی حکومت کے مطابق غیرقانونی غیرملکیوں کی وطن واپسی کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا اور تمام متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب ملک بھر میں کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ غیرقانونی قیام کے خاتمے اور امیگریشن قوانین پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی سیکیورٹی اداروں کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں، بازاروں، رہائشی علاقوں اور حساس مقامات پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران بھی سرچ آپریشنز، ناکہ بندیاں اور دستاویزات کی جانچ کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی کرکے انہیں قانونی کارروائی کے بعد وطن واپس بھیجا جاسکے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی اراکین پر مراعات کی بارش ! حقیقت کیا ہے؟

 

 

 

بلیو پاسپورٹ، 8 کلاشنکوف لائسنس، وضاحت سامنے آگئی

Next Post
مانگی ڈیم حملہ کیسے ہوا؟ بلوچستان حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
Previous Post
ہاتھی نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کوڈھونڈ ڈھونڈ کر مار ڈالا