افغان تجارتی راہداری کی مسلسل بندش کے باعث پاکستان کو گزشتہ سات ماہ کے دوران برآمدات اور راہداری آمدن کی مد میں تقریبا 85 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وزارتِ تجارت کی ایک دستاویز کے مطابق افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی متاثر ہونے سے ملکی تجارت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں جاری تنازع نے ایک اہم علاقائی تجارتی راستہ بند کر دیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات، مال برداری اور خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔ سرحدی تجارت کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ افغانستان سے متعلق جاری تنازع ہے۔وزارتِ تجارت کے مطابق 11 اکتوبر 2025 سے افغان سرحد بند ہے، جس کے باعث افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اس راہداری کے ذریعے ہونے والی تمام تجارت معطل ہو چکی ہے۔ اس دوران 7,500 سے زائد راہداری کنٹینر بندرگاہوں اور سرحدی گزرگاہوں پر پھنس گئے جبکہ دونوں جانب تجارتی سامان سے لدے سینکڑوں ٹرک بھی رکے رہے۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اکتوبر تا اپریل عرصے میں افغانستان، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان کی برآمدات 68 فیصد کمی کے بعد 33 کروڑ 56 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم ایک ارب 4 کروڑ ڈالر تھا۔ دستاویز میں برآمدات کے نقصان کا تخمینہ 70 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور راہداری آمدن کے نقصان کا تخمینہ 10 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔
پاکستان کے ٹیکسٹائل خام مال کی برآمدات میں 3.4 فیصد کمی
سب سے زیادہ کمی افغانستان کو برآمدات میں دیکھی گئی، جو 88.3 فیصد کم ہو کر 8 کروڑ 56 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 81 کروڑ 81 لاکھ ڈالر تھیں۔ روس کو برآمدات میں 20.7 فیصد، کرغیزستان میں 15.4 فیصد، تاجکستان میں 27 فیصد اور ترکمانستان میں 52.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔تاہم بعض وسطی ایشیائی منڈیوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ قازقستان کو برآمدات 17 فیصد بڑھ کر 15 کروڑ 34 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ ازبکستان کو برآمدات میں 62.7 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 5 کروڑ 92 لاکھ ڈالر رہا۔ اس کے باوجود افغانستان کے ساتھ تجارت میں شدید گراوٹ مجموعی نقصان کا ازالہ نہ کر سکی۔تجارتی تعطل سے پھلوں اور سبزیوں سمیت جلد خراب ہونے والی اشیا کے تاجروں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ دستاویز کے مطابق پاکستان دواسازی، سیمنٹ، پراسیس شدہ خوراک، ٹریکٹرز اور موٹر سائیکلوں کی برآمدی مواقع سے بھی محروم رہا۔ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وزارتِ تجارت کے مطابق پاکستانی مال بردار کمپنیاں افغانستان اور وسطی ایشیائی راہداری تجارت سے سالانہ تقریبا 20 کروڑ ڈالر کماتی تھیں، جو راہداری بند ہونے کے بعد تقریبا رک چکی ہے۔اسی دوران افغانستان، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے درآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی۔ افغانستان سے درآمدات 88.3 فیصد، روس سے 53.3 فیصد، تاجکستان سے 97.3 فیصد، ترکمانستان سے 85.8 فیصد اور ازبکستان سے 92.7 فیصد کم ہو گئیں۔وزارتِ تجارت کے مطابق متبادل راستوں کے طور پر ایران اور چین کے ذریعے تجارتی راہداریوں کو فعال بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک کے لیے سامان کی ترسیل کو ایران اور چین کے راستوں، فضائی نقل و حمل اور دوبارہ برآمد کے ذریعے جاری رکھنے کے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی چین کوچلغوزے کی برآمدات دوگنا ہو گئیں
دستاویز میں بتایا گیا کہ افغانستان کے لیے راہداری تجارت کے سامان کو اصل ملک یا کسی اور بندرگاہ کے ذریعے دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے امدادی سامان کو افغانستان بھیجنے کی اجازت برقرار رکھی گئی ہے۔حکومت نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو ایران کے راستے کینو اور آلو کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے مالی ضمانت کی شرط سے بھی استثنا دیا۔ دسمبر 2025 سے اب تک 7 ہزار سے زائد ٹرکوں کے ذریعے 2 لاکھ میٹرک ٹن کینو اور آلو، جن کی مالیت 4 کروڑ 2 لاکھ ڈالر بنتی ہے، وسطی ایشیائی ممالک کو برآمد کیے جا چکے ہیں۔مزید برآں مارچ اور اپریل 2026 میں چین، قازقستان اور کرغیزستان کے ساتھ راہداری نقل و حمل کے چار فریقی معاہدے کے تحت اجلاس منعقد ہوئے، جن میں نئے تجارتی راستوں اور ازبکستان و تاجکستان کو معاہدے میں شامل کرنے پر غور کیا گیا۔ماہرین کے مطابق افغان راہداری کی بندش اب صرف دو طرفہ سرحدی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس نے پاکستان کی علاقائی منڈیوں تک رسائی، راہداری آمدن اور برآمدی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ آیا ایران اور چین کے متبادل راستے بروقت تجارتی بہا بحال کر پاتے ہیں یا پاکستانی برآمد کنندگان مزید منڈیاں کھو بیٹھتے ہیں۔
خلیجی بحران سے پاکستان کی لیبر مارکیٹ کو دوہرا دھچکا لگنے کا خطرہ
بلاسود قرضوں کی فراہمی 125 ارب روپے سے تجاوز کر گئی

