Skip to main contentSkip to footer

دنیا میں سالانہ 24کروڑ افراد بھنگ اور چرس کے عادی ہونے لگے

دنیا میں سالانہ 24کروڑ افراد بھنگ اور چرس کے عادی ہونے لگے

دنیا میں سالانہ 24 کروڑ سے زائد افراد کا بھنگ اور چرس کے عادی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس طرح  بھنگ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات بن گئی ہے۔ بھنگ اور چرس میں پہلے 3 سے 5 فیصد ٹی ایچ سی نامی نشہ اور کیمیکل ہوتا تھا اب 90 فیصد پہنچ گیا۔ دوسری جانب دنیا بھر میں بھنگ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم کی 2025 رپورٹ کے مطابق 2023 میں تقریبا 24.4 کروڑ افراد نے اس کا استعمال کیا، جو اسے دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غیر قانونی منشیات بناتا ہے۔ اسی دوران امریکی پالیسی میں بھنگ کی درجہ بندی میں نرمی اور مارکیٹ میں زیادہ طاقتور  مصنوعات کی دستیابی نے اس بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں بھنگ میں نشہ دینے والے کیمیکل   کی مقدار 3 سے 5 فیصد تھی لیکن اب بعض مصنوعات میں یہ 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے صحت کے سنگین خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی اضافے نے ذہنی دباو، گھبراہٹ اور ایمرجنسی کیسز میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر کھانے والی بھنگ میں نشے کی مقدار کا اندازہ مشکل ہوتا ہے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24ارب کی کرپشن

اس لیے لوگ غلطی سے زیادہ لے کر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیںاور ایسا لگتا ہے جیسے وہ مر رہے ہوں۔ تحقیقات کے مطابق بھنگ کا تعلق ذہنی صحت کے مسائل سے واضح طور پر جڑا ہوا ہے، جاما انٹرنل میڈیسن اور دیگر مطالعات کے مطابق اس کا استعمال اضطراب اور ڈپریشن کو بعض صورتوں میں بڑھا سکتا ہیجبکہ کچھ افراد میں یہ علامات کو مزید شدید بنا دیتا ہے، خاص طور پر زیادہ طاقتور  والے مواد میں یہ اثر زیادہ نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ بھنگ استعمال کرنے والے افراد میں تقریبا 20 سے 30 فیصد افراد  کا شکار ہو سکتے ہیں،یعنی یہ ایک نشے کی بیماری ہے جس میں انسان بھنگ استعمال کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑ نہیں پاتا۔ نوعمر دماغ پر بھنگ کے اثرات سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیے جا رہے ہیں، نوجوانی میں استعمال کرنے والوں میں نفسیاتی امراض ، بائی پولر ڈس آرڈر اور ڈپریشن کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے،جبکہ طویل المدتی استعمال سے آئی کیواور یادداشت میں کمی بھی دیکھی گئی ۔ قلبی امراض کے حوالے سے جریدہ ہرٹ کے مطابق بھنگ استعمال کرنے والوں میں دل کے دورے کا خطرہ 29 فیصد، فالج کا خطرہ 20 فیصد جبکہ قلبی اموات کا خطرہ 2گنا سے زائد پایا گیا، محققین نے اسے تمباکو کی طرح خطرناک قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ امریکن کالج آف سرجنز (2025) کی تحقیق کے مطابق حادثات میں جاں بحق ہونے والے ڈرائیوروں میں سے 41.9 فیصد کے خون میں موجود تھا، جو قانونی حد سے کئی گنا زیادہ تھا۔ تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بھنگ بعض افراد میں اضطراب کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتی ہے، 53فیصد مطالعات میں اضطراب کے بگڑنے اور 41فیصد میں ڈپریشن کے بڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔

کرک میں فائرنگ ، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین سمیت 4 شہید

مکہ مکرمہ میں میاں بیوی کو پھانسی؟ حقیقت سامنے آگئی

اگلی پوسٹ
 آزاد کشمیر کے 20 بہترین سیاحتی مقامات جہاں قدرت اور سکون ایک ساتھ ملتے ہیں
پچھلی پوسٹ
پلاسٹک کے کچرے سے بسکٹ بنانے کا تجربہ، سائنسدانوں کی نئی پیش رفت