Skip to main contentSkip to footer

پلاسٹک کے کچرے سے بسکٹ بنانے کا تجربہ، سائنسدانوں کی نئی پیش رفت

پلاسٹک کے کچرے سے بسکٹ بنانے کا تجربہ، سائنسدانوں کی نئی پیش رفت

امریکی ریاست الینوائے کی سدرن الینوائے یونیورسٹی کے سائنسدان پلاسٹک کے کچرے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لئے ایک منفرد تجربے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت پلاسٹک سے حاصل ہونے والے اجزا کو مستقبل میں خوراک کی تیاری میں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔محققین نے پلاسٹک کے ٹکڑوں کو براہِ راست خوراک میں شامل کرنے کے بجائے بیکر کے خمیر کی ایک حیاتیاتی طور پر تبدیل شدہ شکل تیار کی ہے، اس خمیر کا مقصد پلاسٹک کے کچرے کو چھوٹے اجزا میں توڑنا ہے تاکہ ان سے ایسے مادے حاصل کیے جا سکیں جو خوراک کی تیاری میں استعمال کے قابل ہوں۔اسی تجربے کے تحت سائنس دانوں نے پلاسٹک کے کچرے سے حاصل کیے گئے مادے کی مدد سے بسکٹ بھی تیار کیے ہیں، اس منصوبے کویو بائٹس کا نام دیا گیا ہے، جو پلاسٹک کو توڑنے والے مائیکروبائٹس کے تصور سے ماخوذ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق خلا میں طویل عرصے تک رہنے والے انسانوں کیلئے خوراک اور فضلے کا انتظام ایک اہم چیلنج ہے

ہفتہ وار مہنگائی میں مزید 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد ہو گئی

زمین سے مسلسل خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچانا مشکل اور مہنگا ہو سکتا ہے، اس لئے ایسے نظام تیار کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔سدرن الینوائے یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر لہِرو جیاکوڈی کے مطابق اس منصوبے کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی تیار کرنا نہیں بلکہ عوام کو اسے قبول کرنے کے لئے تیار کرنا ہے، اگر مستقبل میں ایسی خوراک مارکیٹ میں آتی ہے تو صارفین کا اعتماد اور اسے کھانے پر آمادگی انتہائی اہم ہوگی۔محققین اس بات پر بھی کام کر رہے ہیں کہ تیار ہونے والی خوراک کا ذائقہ، خوشبو اور مجموعی معیار صارفین کے لئے قابلِ قبول ہو، اسی سلسلے میں ترکیب میں بیکر کا خمیر اور ونیلا جیسے ذائقے شامل کرنے پر تجربات کیے جا رہے ہیں۔تاہم سائنسدانوں کے مطابق پلاسٹک کو قابلِ استعمال مادے میں تبدیل کرنے کا عمل کامیاب ثابت ہونا ہی کافی نہیں، عام صارفین کے لیے ایسی خوراک کی دستیابی سے قبل اس کی حفاظت، غذائی افادیت اور معیار سے متعلق مزید سائنسی تحقیق اور ضروری ضوابط کی تکمیل درکار ہوگی۔محققین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیاری کے ساتھ عوام میں آگاہی بھی ضروری ہے، مستقبل میں اگر پلاسٹک سے تیار کردہ خوراک کو معاشرے میں متعارف کرانا ہے تو لوگوں کو اس عمل، اس کی افادیت اور حفاظتی پہلوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔

پاسپورٹ نظام تبدیل، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے

 

سمندری طوفان کے باعث مشرقی ایشیا میں زندگی مفلوج، سکول بند

اگلی پوسٹ
دنیا میں سالانہ 24کروڑ افراد بھنگ اور چرس کے عادی ہونے لگے
پچھلی پوسٹ
کون سا پرندہ سب سے سریلی آواز میں گاتا ہے؟ نئے سائنسی مطالعے میں انکشاف