امریکا میں منعقد ہونیوالے مشہور ورلڈز اگلیئسٹ ڈاگ مقابلے میں 6 سالہ پگ جِنی لو نے 2026 کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ اس مقابلے کا مقصد صرف کتوں کی ظاہری شکل کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ ان کی انفرادیت، محبت اور جانوروں کو گود لینے کے پیغام کو اجاگر کرنا ہے۔ ورلڈز اگلیئسٹ ڈاگ مقابلے کا 50 واں سالانہ ایونٹ 14 اگست کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا روزا میں سونوما کانٹی فیئر گرانڈز میں منعقد ہوا۔ مقابلے میں مختلف نسلوں اور منفرد شکل و صورت رکھنے والے کتوں نے شرکت کی، جنہیں دیکھنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔جِنی لو کی کامیابی کے ساتھ اس کی مالکن مشیل گریڈی کو 5 ہزار ڈالر کی انعامی رقم دی گئی، جو پاکستانی روپوں میں تقریبا 13 لاکھ 86 ہزار روپے بنتی ہے۔ مقابلے میں دوسرےWorlds Ugliest Dog Contest نمبر پر پنکی نامی چیہواہوا اور پومیرینین نسل کا ملا جلا کتا رہا، جسے 3 ہزار ڈالر کا انعام ملا، جو تقریبا 8 لاکھ 32 ہزار پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر آنے والے اوٹو نامی چیہواہوا مکس کو 2 ہزار ڈالر دیے گئے
دنیا کے سب سے بڑے الیکٹرک طیارے کی آزمائشی پرواز مکمل
جو تقریبا 5 لاکھ 54 ہزار پاکستانی روپے بنتے ہیں۔جِنی لو کو چار سال قبل پگ ریسکیو کے ذریعے گود لیا گیا تھا۔ مقابلے کے منتظمین کے مطابق، اس کے بعد سے وہ اپنے خاندان کیلئے شرارت، خوشی اور محبت کا مستقل ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اس کی مالکن کے مطابق جِنی لو اس مقابلے میں شرکت کرنا، لوگوں سے ملنا اور تقریب کی سرگرمیوں کا حصہ بننا بہت پسند کرتا ہے۔ 2026 میں کامیابی سے پہلے وہ تین مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کر چکا تھا۔ورلڈز اگلیئسٹ ڈاگ مقابلے کے نام پر بعض افراد کو اعتراض بھی ہو سکتا ہے، لیکن منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کتوں کو شرمندہ کرنا یا ان کی توہین کرنا نہیں۔ اس کے بجائے مقابلہ ایسے کتوں کو نمایاں کرتا ہے جو عام طور پر لوگوں کی توجہ حاصل نہیں کر پاتے اور جن کی شکل و صورت دوسری نسلوں سے مختلف ہوتی ہے۔منتظمین کے مطابق، یہ تقریب لوگوں کو یاد دلاتی ہے کہ جانور کی قدر صرف اس کی ظاہری خوبصورتی سے نہیں ہونی چاہیے۔ کئی ایسے کتے بھی ہوتے ہیں جو منفرد شکل کے باوجود انتہائی پیار کرنے والے اور وفادار ہوتے ہیں
چینی ٹریول ولاگر کا دورہ پاکستان، سیاحتی مقامات کی بھرپور تشہیر
اور انہیں ایک ایسے گھر کی ضرورت ہوتی ہے جہاں انہیں قبول کیا جائے۔سونوما مارین ایگریکلچرل ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹو مینڈی کلینڈنن نے کہا کہ یہ مقابلہ دراصل دنیا کے بدصورت ترین کتے کی تلاش کے بارے میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 50 برسوں سے یہ ایونٹ کتوں کی انفرادیت کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ہمدردی، جانوروں کو ریسکیو کرنے اور انہیں قبول کرنے کا پیغام بھی دیتا آ رہا ہے۔جِنی لو کی جیت نے ایک بار پھر اس مقابلے کی اصل توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اگرچہ مقابلے کا عنوان ظاہری شکل پر مبنی ہے، لیکن اس کے منتظمین کا موقف ہے کہ اصل پیغام یہی ہے کہ ہر جانور، چاہے وہ دیکھنے میں کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو، محبت اور ایک محفوظ گھر کا حق رکھتا ہے۔
ہیری اور میگھن کا شاہی خاندان میں واپسی کا فیصلہ، معافی مانگنے پر غور

