امریکہ کا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانےکا فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی کو پوری شدت سے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران چین کو ایرانی تیل کی فروخت روکنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ تہران کی آمدنی کے بڑے ذریعے کو محدود کیا جا سکے۔
ٹرمپ ایک انتظامی حکم پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد تک کسٹم ڈیوٹی لگائی جا سکتی ہے۔ اگر چین نے ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھی تو وہ بھی اس اقدام کی زد میں آ سکتا ہے۔
ایران میں پہلے ہی معاشی حالات خراب تر ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل کے ان اقدامات سے حالات مزید بدتر ہوسکتے ہیں،
امریکا اور اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر متفق ہیں، البتہ اس ہدف کے حصول کے طریقے پر اختلاف موجود ہے۔ نیتن یاہو ایران کے ساتھ کسی مضبوط معاہدے کے امکان پر شکوک رکھتے ہیں، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
دوسری طرف ایک ایرانی صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی تجویز میں 3 سے 5 برس کے لیے یورینیم کی افزودگی روکنے اور تقریباً 450 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کی شرط شامل ہے، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے ایران کے حالات خراب ہوسکتے ہیں او رامریکہ کیخلاف نفرت میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے

