Skip to main contentSkip to footer

تل ابیب میں ہزاروں کوّوں کی پرواز کی کیا حقیقت ہے؟ کیا یہ قیامت کی نشانی ہے؟

Tel Aviv Crow Swarm Explained

تل ابیب میں ہزاروں کوّوں کی پرواز کی کیا حقیقت ہے؟ کیا یہ قیامت کی نشانی ہے؟

منگل کے روز تل ابیب کے آسمان پر کوؤں کے ایک سمندر نے چھا کر ایک غیر معمولی منظر پیش کیا، جسے بہت سے لوگ “تباہی کی پیشگی علامت” قرار دے رہے ہیں۔ ہزاروں کوؤں کو بلند و بالا عمارتوں، جن میں مشہور عزریئیلی ٹاورز بھی شامل ہیں، کے گرد چکر لگاتے ہوئے فلمایا گیا، اور یہ مناظر تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے۔ بہت سے دیکھنے والوں نے اس پراسرار منظر کو اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کسی آنے والی بڑی تباہی کا اشارہ ہے۔

ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ “اسے اکثر تباہی کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد مکمل تباہی آتی ہے”، جبکہ دیگر لوگوں نے اسے بائبل کی پیشگوئی سے بھی جوڑا۔ انہوں نے بائبل کی کتاب “مکاشفہ” باب 19 آیت 17 کا حوالہ دیا، جس میں ایک فرشتہ سورج میں کھڑا ہو کر فضا میں اڑنے والے پرندوں کو “خدا کی عظیم ضیافت” کے لیے جمع ہونے کی آواز دیتا ہے۔ کوؤں کے اس گھومتے ہوئے جھنڈ نے آسمان پر سیاہ بادلوں جیسا منظر پیدا کر دیا، جس سے شہری اور ناظرین اس کی وسعت دیکھ کر حیران رہ گئے۔

ایک صارف نے لکھا، “یہ تہذیبی سطح پر بدترین ممکنہ شگون ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، “انگلینڈ میں آج بھی اس طرح کے اشاروں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اور رومی لوگ تو ایسے اشارے پر پوری جنگ روک دیتے تھے۔” قدیم روم میں “آگُرز” کہلانے والے پجاری آسمان کا بغور مشاہدہ کرتے تھے اور پرندوں کی پرواز اور آوازوں کو دیوتاؤں کے پیغامات سمجھتے تھے، جن کی بنیاد پر جنگ، قیادت اور اہم عوامی فیصلے کیے جاتے تھے۔

پرندوں کے غیر معمولی یا بڑے اجتماعات کو اکثر آنے والی مصیبت کی وارننگ سمجھا جاتا تھا۔ کچھ لوگوں نے لندن کے ٹاور میں رکھے گئے مشہور کوّوں (ریونز) کا بھی حوالہ دیا، جن سے ایک قدیم روایت وابستہ ہے کہ اگر یہ پرندے قلعہ چھوڑ دیں تو برطانیہ کی سلطنت ختم ہو جائے گی۔ اس روایت کو برقرار رکھنے کے لیے کم از کم چھ کوّے ٹاور میں مستقل رکھے جاتے ہیں اور ایک مخصوص اہلکار “ریون ماسٹر” ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

یہ قدیم عقائد آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پرندوں کی غیر معمولی سرگرمی کو علامتی وارننگ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ سائنسدان اس کی سائنسی وضاحت دیتے ہیں۔

Tel Aviv Crow Swarm Explained

بہت سے لوگوں نے اسے آنے والے کسی بڑے حادثے، جنگ یا آسمانی عذاب کا اشارہ سمجھا ہے جبکہ کچھ نے اسے مذہبی حوالوں سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ ہاربنگر اور ڈوم ہے جس کی پیشگوئی ہزاروں سال پہلے ہی کردی گئی تھی۔

عام فہم زبان میں اگر اس تصور کو سمجھا جائے تو کسی بھی ایسی چیز یا واقعے کو جو مستقبل میں ہونے والے کسی بڑے واقعے کی خبر دے، پیشگی علامت کہا جاتا ہے، جبکہ تباہی سے مراد کسی بڑے نقصان، بربادی یا خطرناک انجام کو لیا جاتا ہے۔ جب یہ دونوں تصورات ایک ساتھ ملتے ہیں تو اس سے مراد ایسی نشانی لی جاتی ہے جو کسی بڑی مصیبت یا تباہی کی خبر دے رہی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ تل ابیب کے اس واقعے کو بھی بہت سے لوگوں نے اسی نظر سے دیکھا۔ سوشل میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ کوّوں کا اس طرح جمع ہونا کسی بڑی جنگ کی علامت ہے

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ بعض سوشل میڈیا صارفین نے اسے مزید قتل و غارت اور سیاہ رات کی آمد سے جوڑ دیا ہے ۔ بعض صارفین نے اس واقعے کو سورہ الفیل سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے تاہم زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ محض پرندوں کی ہجرت ہے جو ہرسال ہوتی ہے تاہم بعض نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کووں کی سالانہ ہجرت پہلی مرتبہ دیکھی ہے کیونکہ کوے ہجرت کرنے والے پرندوں میں شامل نہیں

ماہرین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ کوئی غیرمعمولی یا پراسرار واقعہ نہیں بلکہ قدرتی عمل ہے جو ہر سال اس خاص موسم میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اسرائیل دنیا کے اہم پرندوں کے راستوں میں سے ایک پر واقع ہے  اور ہر سال اس راستے سے کروڑوں پرندے گزرتے ہیں اور مارچ کا مہینہ اس نقل مکانی کا عروج ہوتا ہے۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے سیاہ پرندے اور کووں کا غول پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

پرندے عام طور پر بڑے گروہوں کی صورت میں سفر کرتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جن میں شکاریوں سے بچاؤ، راستہ تلاش کرنے میں آسانی اور توانائی کی بچت شامل ہیں۔ جب یہ پرندے کسی شہر کے اوپر اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ایک حیران کن منظر پیدا ہوتا ہے جو عام لوگوں کے لیے غیر معمولی محسوس ہوتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک معمول کا قدرتی عمل ہوتا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہر سیاہ رنگ کا پرندہ لازمی طور پر کوّا نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق ان ویڈیوز میں نظر آنے والے پرندے مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں جن میں دیگر سیاہ پرندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ عام لوگ انہیں ایک ہی قسم سمجھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

کوّوں کو مختلف ثقافتوں میں مختلف انداز سے دیکھا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں انہیں اکثر موت، بدشگونی یا خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ بعض ایشیائی ثقافتوں میں انہیں دانائی اور پیغام رسانی کی علامت بھی مانا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کوّے کو کسی خاص تباہی یا نحوست کی علامت نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ایک عام پرندہ ہے جس کا ذکر ایک فطری مخلوق کے طور پر آتا ہے۔

اس واقعے کے وقت علاقائی کشیدگی نے بھی لوگوں کے ذہنوں پر اثر ڈالا۔ جب کسی خطے میں جنگ یا خطرے کا ماحول ہو تو لوگ عام واقعات کو بھی غیر معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔ انسانی ذہن اکثر ایسے حالات میں وہی چیزیں دیکھتا ہے جو اس کے خوف یا خدشات کی تصدیق کرتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدرتی منظر کو بھی بعض لوگوں نے خطرے کی علامت کے طور پر لیا۔

دنیا میں اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہو چکے ہیں جہاں پرندوں کے بڑے غول کو دیکھ کر لوگوں نے اسے منحوس اشارہ سمجھا، لیکن بعد میں سائنسی تحقیق نے ثابت کیا کہ وہ سب قدرتی مظاہر تھے۔ یہ ایک عام رجحان ہے کہ جب کوئی غیر معمولی منظر سامنے آتا ہے تو اسے فوراً کسی بڑے واقعے سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کی سادہ وضاحت موجود ہوتی ہے۔

اگر اس واقعے کا خلاصہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تل ابیب میں نظر آنے والے پرندوں کا یہ منظر حقیقی ضرور تھا، لیکن اس کا کسی تباہی، جنگ یا پیشگوئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک قدرتی موسمی عمل ہے جو ہر سال مخصوص وقت پر ہوتا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ہر خبر کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں بلکہ اس کے پیچھے موجود سائنسی اور حقیقی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہی رویہ ہمیں افواہوں اور غلط فہمیوں سے بچا سکتا ہے اور ہمیں حقیقت کے قریب لے جا سکتا ہے۔

جاپان سے نصف مچھلی اور نصف انسانی مخلوق کی باقیات دریافت

Next Post
مذاکرات کے دعوے مسترد، ایران کا امریکا کو سخت پیغام
Previous Post
جاسوسی سافٹ ویئر لیک’ پرانے آئی فون استعمال کرنیوالے صارفین کو خطرہ