ایک خطرناک آئی فون ہیکنگ ٹول ڈارک سورڈ کے لیک ہونے کے بعد دنیا بھر میں ایپل صارفین کے ڈیٹا اور دیگر معلومات پر سنگین خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ ایک کی رپورٹ کے مطابق یہ جاسوسی سافٹ ویئر انٹرنیٹ پر عام دستیاب ہوچکا ہے جس کے باعث ہیکنگ کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ سافٹ ویئر گٹ ہب پر شائع کیا گیا جہاں سے اسے آسانی سے ڈائون لوڈ کیا جاسکتا ہے۔
ال نینو نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹول کو استعمال کرنے کے لیے اعلی تکنیکی مہارت کی ضرورت نہیں جس کی وجہ سے عام ہیکرز بھی چند منٹوں میں حملہ کرسکتے ہیں۔سائبر سیکیورٹی کمپنی آئی ویریفائی کے محققین کے مطابق یہ اسپائی ویئر متاثرہ ڈیوائس سے رابطہ نمبرز، پیغامات، کال ریکارڈ اور محفوظ پاس ورڈز سمیت حساس معلومات چوری کرسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق خطرہ خاص طور پر ان آئی فون اور آئی پیڈ صارفین کو ہے جو پرانے سافٹ ویئر ورژن استعمال کر رہے ہیں، اس سے خصوصا آئی او ایس 18 کے پرانے اپڈیٹس والے آلات زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ گوگل کے ماہرین نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ پرانے سسٹمز پر مثر طریقے سے کام کرتا ہے۔کمپنی ایپل نے مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے صارفین کو فوری طور پر اپڈیٹ کی طرف جانے کا کہا ہے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر میں 3ہزار سال پرانا مقبرہ دریافت کرلیا
کمپنی کا کہنا ہے کہ تازہ ترین سافٹ ویئر ورژن اس خطرے سے محفوظ ہیں جبکہ اضافی تحفظ کے لیے لاک ڈان موڈ فعال کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ میں شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ایپل کی تقریبا ڈھائی ارب فعال ڈیوائسز موجود ہیں جن میں سے بڑی تعداد ابھی تک پرانے سافٹ ویئر پر چل رہی ہے، جس سے کروڑوں صارفین ممکنہ سائبر حملوں کی زد میں آسکتے ہیں۔سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہیکنگ کی کوششوں میں اضافہ ہوسکتا ہے لہذا صارفین مشکوک لنکس اور ویب سائٹس سے دور رہیں اور فوری سافٹ ویئر اپڈیٹ کریں۔

