چین میں ہاتھوں اور پیروں سے محروم 81 سالہ خاتون کو اپنے تین بچوں کی پرورش کرنے پر مضبوط ترین ماں قرار دیا جا رہا ہے۔ غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق چینی صوبے گانسو کے علاقے بائی ین سے تعلق رکھنے والی وانگ یوشی پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پیروں سے محروم ہیں
ان کی زندگی مشکلات سے بھرپور رہی، یہاں تک کہ وہ عمر کی تیسری دہائی تک کسی باضابطہ نام سے بھی محروم رہیں۔ وانگ یوشی کے 38 سالہ بیٹے زینگ لائی ہو کے مطابق ان کی والدہ کا کوئی نام نہیں تھا، تاہم 27 سال کی عمر میں شادی کے بعد انہیں وانگ یوشی کا نام دیا گیا۔ انہوں نے تین بچوں کو جنم دیا، جن میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں، شوہر کے زیادہ تر وقت گھر سے باہر رہنے کے باعث بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریاں وانگ یوشی نے خود ہی انجام دیں۔
معذوری کے باوجود وہ روزمرہ کے تمام کام خود کرتی تھیں، کھانا پکانے کے لیے وہ سٹول کی مدد سے حرکت کرتیں، آٹا گوندھنے اور سبزیاں کاٹنے کا کام منہ سے انجام دیتیں جبکہ کپڑے سینے کا کام بھی منہ سے ہی کرتی تھیں
کھانے کے لیے وہ چوپ سٹکس کو کہنیوں کے درمیان دبا لیتی تھیں۔وانگ یوشی کا کہنا ہے کہ زندگی بے حد مشکل تھی مگر انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی اور اپنے بچوں کو کبھی بھوکا نہیں سونے دیا۔
اب ان کے تینوں بچوں کے اپنے گھرانے ہیں جبکہ ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، وانگ یوشی اس وقت اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کے باوجود مجموعی طور پر اچھی صحت میں ہیں۔
اسی وجہ سے انہیں دنیا کی مضبوط ترین ماں کے خطاب سے نوازا گیا ہے، سوشل میڈیا پر لاکھوں صارفین نے ان کی ہمت کو داد دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی حکومت کو اس مضبوط ترین ماں کیلئے مصنوعی ہاتھ اور پائوں لگانے کا مطالبہ کیا ہے
کویتی شہریت کا قانون تبدیل، ہزاروں افراد پاسپورٹ سے محروم
شین وارن کی موت کا ذمہ دار کورونا قرار، بیٹے نے انکشاف کردیا

