Skip to main contentSkip to footer

سہیل آفریدی کو بچانے کیلئے ڈاکٹر عباد، لطف الرحمن اور احمد کنڈی میدان میں آگئے

سہیل آفریدی کو بچانے کیلئے ڈاکٹر عباد، لطف الرحمن اور احمد کنڈی میدان میں آگئے

خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال کے بجٹ اور اس کی منظوری کے حوالے سے صوبائی سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں جبکہ سوشل میڈیا اور بعض سیاسی حلقوں میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مبینہ رابطوں اور ممکنہ سیاسی مفاہمت سے متعلق مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر زیر گردش غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بجٹ کی منظوری کے معاملے پر مختلف سیاسی شخصیات کے درمیان پس پردہ رابطے جاری ہیں۔ بعض

اپوزیشن ارکان یا جماعتیں بجٹ کی حمایت کے بدلے ترقیاتی فنڈز اور دیگر مراعات حاصل کر سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گورنر فیصل کنڈی کے قریبی ذرائع نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے احمد کنڈی اور لطف الرحمن کو 50، 50 کروڑ کے فنڈز فراہم کئے جائیں گے اور 35 نوکریاں بھی دی جائیں گی، یہ سب ایک ڈیل کے تحت کیا جائےگا

سہیل آفریدی کو بچانے کیلئے ڈاکٹر عباد، لطف الرحمن اور احمد کنڈی میدان میں آگئے
ڈیل کے مطابق بدلے میں بجٹ کی منظوری کیلئےاحمد کنڈی اپوزیشن کے ذریعے حکومت کی مدد کریں گے، اسمبلی میں احتجاج ،ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کا ڈھونگ رچا کر بجٹ منظوری میں اہم کردار ادا کیا جائے کیونکہ اپوزیشن اراکین کی تعداد ناراض اراکین کی تعداد سے زیادہ ہے۔
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی کو بجٹ پاس کرانے میں درپیش مشکلات حل ہوگئی ہیں اور علی امین گنڈاپور کی جانب سے کی گئی مبینہ سازشوں کا جواب دینے کیلئے ہی

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ان کے حریفوں فیصل کریم کنڈی اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ رابطے کئے جارہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ منظوری کے مرحلے پر حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے ایک معمول کی سیاسی سرگرمی سمجھے جاتے ہیں
ادھر صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کے مالی حقوق کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی متعدد مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ صوبہ اپنے آئینی اور مالی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا اور بجٹ میں عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔
حالیہ دنوں میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے قومی اقتصادی کونسل اور وفاقی حکومت کے ساتھ ملاقاتوں میں بھی صوبے کے مالی حقوق، این ایف سی کے حصے، ضم شدہ اضلاع کے فنڈز اور دیگر مالی معاملات کو بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔

سہیل آفریدی کو بچانے کیلئے ڈاکٹر عباد، لطف الرحمن اور احمد کنڈی میدان میں آگئے
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بجٹ کے مختلف نکات پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران سخت احتجاج، نعرے بازی اور گرما گرم تقاریر کا امکان موجود ہے، کیونکہ اپوزیشن اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بجٹ اجلاس صرف مالی دستاویز کی منظوری کا مرحلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے سیاسی قوت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اسمبلی کے اندر اور باہر سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں بارشوں، آندھی اور ژالہ باری کا الرٹ جاری

 


ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی سیاسی رہنما یا جماعت کے خلاف مالی یا سیاسی سودے بازی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں تو ان کے لیے ٹھوس شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔
صحافتی اصولوں کے مطابق ایسے تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، متعلقہ فریقوں کا مؤقف اور دستاویزی شواہد سامنے آنے کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ اس

وقت تک سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو غیر مصدقہ اطلاعات ہی سمجھا جائے گا۔
سیاسی حلقے اب صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس پر نظریں جمائے ہوئے ہیں جہاں حکومت اور سہیل آفریدی کو بجٹ کی منظوری اور اپوزیشن کو اپنی سیاسی حکمت عملی آزمانے کا موقع ملے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ اسمبلی کے اندر سیاسی صف بندی کس سمت جاتی ہے اور بجٹ منظوری کے عمل پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

 

سہیل آفریدی کا صوبے کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر محاذ تک جانے کا فیصلہ

Next Post
پنجاب کا 5131ارب روپے حجم کا بجٹ آج پیش کیا جائیگا
Previous Post
وفاقی بجٹ مسترد ،کسان اتحاد کا حکومت کو 30 جون تک الٹی میٹم