Skip to main contentSkip to footer

سعودی عرب ،پاکستان اور ترکیے کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ

Saudi pakistan turkiye defense agreement

جدہ : سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے۔ معاہدہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی سربراہ اجلاس کے دوران طے پایا، جس میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔ رپورٹس کے مطابق معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانا، مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، دفاعی ٹیکنالوجی، عسکری تربیت اور دفاعی صنعت میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کی مکمل شقیں فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم ذرائع کے مطابق یہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دبئی میں 7دھماکے، بندرگاہ سے دھویں کے بادل اٹھنے لگے

 

اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، خلیجی خطے کی سلامتی، بحیرہ احمر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، انسداد دہشت گردی، اقتصادی تعاون اور باہمی سرمایہ کاری سمیت متعدد علاقائی و عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ مسلم دنیا کی تین اہم علاقائی طاقتوں کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے اور بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات میں خطے کے سکیورٹی ڈھانچے پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

 Saudi pakistan turkiye defense agreement

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دئیے جس کے تحت باہمی دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید فروغ دیا جائے گا،تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی بھی مسلح حملہ، تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔جمعہ کو جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 24 صفر 1448ھ، بمطابق 7 اگست 2026ئ، مملکتِ سعودی عرب کا دورہ کیا۔ولی عہد اور وزیراعظم، عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کا مکہ المکرمہ کے قصر الصفا میں استقبال کیا

سپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرا گیا، زمین کیلئے کوئی خطرہ نہیں،ناسا

 

جہاں مشترکہ دفاع کے لیے مکہ المکرمہ سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران مملکتِ سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان قائم دیرینہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا، نیز باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تینوں ممالک کے مابین دیرینہ تاریخی تعلقات، اخوت اور اسلامی یکجہتی کے پائیدار رشتوں، مشترکہ تزویراتی مفادات اور دفاعی شعبے میں طویل عرصے سے جاری تعاون کی روشنی میں، مملکتِ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔یہ معاہدہ تینوں ممالک کی جانب سے اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور خطے سمیت دنیا بھر میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے تاکہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں یہ واضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی بھی مسلح حملہ، تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔مزید برآں، معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دینے اور مضبوط بنانے کی بھی ضمانت دیتا ہے۔دفتر خارجہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا گیا جبکہ باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ تاریخی تعلقات، اخوت اور اسلامی یکجہتی کے مضبوط رشتوں، مشترکہ تزویراتی مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔

Saudi pakistan turkiye defense agreement

 

 

 

 

 

 

 

دنیا کی طاقتور ترین دوربین نے سورج کی انتہائی واضح تصاویر حاصل کرلیں

 

یہ معاہدہ تینوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کا مظہر ہے کہ وہ اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مضبوط بنائیں گے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لئے مل کر کام کریں گے تاکہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ، تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

 

جرمنی نے روزگار کے نئے مواقع کا اعلان کردیا، آج ہی اپلائی کریں

Previous Post
باچا خان چوک سے مردہ مرغیاں برآمد، ہوٹلوں کو سپلائی کا انکشاف