منگولوں کو شکست دینے والا مسلمانوں کا عظیم سپہ سالار رکن الدین
رکن الدین بیبرس عرف سلطان بیبرس مملوک سلطنت کے عظیم سپہ سالار تھے، جنہوں نے 1260ء میں جنگ عین جالوت میں منگولوں کو تاریخی شکست دے کر ان کی فتوحات کا سلسلہ روک دیا تھا۔
سلطان رکن الدین بیبرس کا نام اسلامی تاریخ کی اُن درخشاں شخصیات میں آتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے عظیم ترین فتنوں کو شکست دی بلکہ اسلام کی عظمت کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے روشن کر دیا۔
ایک غلام کی حیثیت سے زندگی کی ابتدا کرنے والا یہ عظیم انسان اپنے عزم، غیرت، تدبر، اور عسکری مہارت کے بل بوتے پر سلطنتوں کا مالک اور امت مسلمہ کا فخر بن گیا۔
انہوں نے سلطان سیف الدین قدس کے ساتھ مل کر تاتاریوں کو شام اور فلسطین سے باہر نکالا، جس سے مسلم دنیا کو منگولوں کے خوف سے نجات ملی اور وہ ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔
بارہ سو اٹھاون عیسوی میں ہلاکو خان نے بغداد کو تباہ کردیا اس خلافت کا خاتمہ مسلم دنیا کیلیے قیامت سے کسی صورت کم نہ تھا، اس کے بعد اس نے شام حلب اوردیگر علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی فوجوں کو مصر کی جانب روانگی کا حکم دیا۔
اسی دوران منگول خاقان نے اپنی وحشی روایت کے تحت مملوکوں کے سلطان کے دربار میں اپنا ایلچی روانہ کیا اور یہ پیغام دیا ہے کہ یا تو ہماری اطاعت قبول کرلو یا پھر جنگ کی صورت میں تباہی و بربادی کو اپنا مقدر بنا لو۔
یہ منگول ایلچی جب سلطان سیف الدین قدس کے دربار میں پہنچتا ہے تو انتہائی تکبرانہ انداز، بدتہذیب لہجے، بدتمیزی اور حقارت کے ساتھ سلطان کو مخاطب کرکے یہ پیغام سنا دیتا ہے۔
یہ پیغام سن کر سلطان سیف الدین قدس تھوڑا پریشان ہوجاتا ہے اور اپنے رفقاء سے مشورے کے بعد ذہنی طور پر منگولوں کی اطاعت قبول کرنے کیلیے تیار بھی ہوجاتا ہے کہ عین اسی وقت سلطان کا ایک سپہ سالار رکن الدین بیرس کھڑا ہوتا ہے اور ایلچی کے پاس آکر کہتا ہے کہ ہم مسلمانوں کی آخری امید ہیں اور اس امید کو ٹوٹنے نہیں دیں گے اور سر پر کفن باندھ کر لڑیں گے۔
سلطان سیف الدین قدس نے جب اپنے سپہ سالار کو اس گھن گرج کے ساتھ منگول ایلچی کو جواب دیتے ہوئے سنا تو اس کے حوصلے بھی بلند ہوگئے، اس نے اس بدتمیزی کا جواب اس طرح دیا کہ اس وقت کے تمام ایلچیوں کے سر قلم کرکے ان کی لاشیں شہر کے چوک پر لٹکوا دیں۔
قاہرہ کے لوگوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان پر بھی اس کا مثبت اثر ہوا اور ان کے دلوں سے منگولوں کا خوف نکل گیا اور فتح کی امید پیدا ہوئی۔
اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس بار مسلمان فوجوں نے دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے آگے بڑھ کر دشمن پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا چنانچہ وہ فلسطین کے قریب ایک وادی پہنچے۔
سلطان سیف الدین قدس اور رکن الدین بیرس یہ سمجھتے تھے کہ اگر آج مصر نے سر نہ اٹھایا تو پورا عالم اسلام ہمیشہ کیلیے منگولوں کے قدموں میں ہوگا۔
1260ء میں اس وادی میں مشہور معرکہ عین جالوت برپا ہوا۔ بیبرس نے اپنی عسکری مہارت سے دشمن کو دھوکہ دیا، جھوٹا پسپا ہونے کا ڈرامہ کیا اور پھر اچانک حملہ کر کے منگولوں کو بری طرح شکست دی۔
تاریخ گواہ ہے کہ اگر عین جالوت میں مسلمان شکست کھا جاتے تو آج اسلام کا وجود مشرق وسطیٰ میں ختم ہو جاتا۔
کتبغا، منگولوں کا عظیم سالار تھا جو اسی جنگ میں مارا گیا، مسلمانوں کی یہ فتح صرف ایک جنگ کی جیت نہیں تھی بلکہ ایک تہذیب کی بقا تھی۔

