Skip to main contentSkip to footer

آئندہ مالی سال کے دوران 35 لاکھ دکاندار ٹیکس نیٹ میں داخل ہوں گے

ٹیکس نیٹ

وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران 35 لاکھ دکاندار ٹیکس نیٹ میں داخل ہوں گے، حکومت نے تنخواہ دار طبقے، کسان، صنعتکار، ایکسپورٹر اور ہر پاکستانی شہری کے مفادات کے مطابق متوازن بجٹ دیا ہے، بجٹ سے ملکی معیشت مضبوط ہو گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ وہ پورے ایوان اور قوم کے ساتھ وزیرِاعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ ونائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کی کاوشوں کی بدولت آج پاکستان کو عالمی سطح پر عزت ملی اور اسلام آباد انڈرسٹینڈنگ کے ذریعے پاکستان نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا جس پر پوری دنیا شکر گزار ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ درحقیقت ایک عوامی بجٹ ہے۔ یہ تنخواہ دار طبقے، کسان، صنعتکار، ایکسپورٹر اور ہر پاکستانی شہری کا بجٹ ہے

وزیرِاعظم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم پہلے معاشی استحکام لائیں گے اور پھر بہتری دیں گے۔ الحمدللہ، اس بجٹ میں وہ بہتری واضح نظر آ رہی ہے۔ وزیر مملکت نے کہاکہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا ہے، 22 سے 23 لاکھ آمدن والوں کے لیے ٹیکس 23 سے کم کر کے 20 کر دیا گیا، 32 سے 41 لاکھ والوں کے لیے 30 سے کم کر کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ والوں کے لیے 35 سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے کمانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 سے کم کر کے 32 کردی گئی ہے

سرحد چیمبر نے وفاقی بجٹ کو متوازن اورکاروبارو صنعت دوست قرار دیدیا

 

اس کے ساتھ ساتھ سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کم کیا گیا تاکہ ان کی لاگت کم ہو اور مسابقت بڑھے۔ آئی ٹی انڈسٹری کے لیے 0.25 ٹیکس سہولت مزید 3 سال کے لیے بڑھا دی گئی،تعمیراتی شعبہ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے گھر بنانے میں سہولت ملے۔

اپنا گھر سکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت شہری کم شرح سود پر قرض لے سکتے ہیں۔وزیر مملکت نے کہاکہ زرعی شعبے کیلئے 300 ارب روپے دئیے جائیں گے، وزیراعظم ایگریکلچر یوتھ سکیم کے تحت 110 ارب روپے کے فنڈزمختص ہیں، زرعی مشینری پر ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔ خواتین کی ضروری مصنوعات اور فیملی پلاننگ مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، شپنگ انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے بھی سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے تاکہ پاکستان اپنی تجارتی صلاحیت کو بہتر بنا سکے۔

انہوں نے کہاکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے نئی سکیم متعارف کرائی گئی ہے چھوٹے دکاندار 20 کروڑ تک سیل والے دکاندارصرف 1 فیصد ٹیکس دیں گے،ان کی سادہ اردو فارم کے ذریعے رجسٹریشن ہو گی، انہیں ایف بی آر کی جانب سے سبز پلیٹ دی جائے گی اور عام حالات میں ان کا آڈٹ نہیں ہوگا، اس سکیم کا مقصد 35 لاکھ دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ تمام بزنس تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس بجٹ کو سراہا۔

 

پی سی بی حکام کے غیر ملکی دوروں پر کروڑوں روپے خرچ، تفصیلات سامنے آگئیں

Next Post
ٹرمپ کا مودی پر طنز، مسکراتے ہوئے قاتل قرار دے دیا
Previous Post
پاکستان کی کوئی یونیورسٹی 350 بہترین جامعات میں جگہ نہ بناسکی