پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے بڑا فیصلہ کر لیا ، صوبائی پارلیمانی پارٹی اس حوالے سے 6 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کر رہی ہے ۔ ذرائع کے حوالے سے میڈیارپورٹ کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ گزشتہ رات ہونے والے پی ٹی آئی کے صوبائی پارلیمانی اجلاس میں کیا گیا، جس میں 46 ارکان نے شرکت کی جب کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی اجلاس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی جس میں بیرسٹر گوہر، علی امین گنڈاپور اور نور الحق قادری شامل ہوں گے
9 مئی کیس، سہیل آفریدی، تیمور جھگڑا، کامران بنگش کے وارنٹ جاری
وہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرے گی۔ اس کمیٹی میں کے پی اسمبلی کے تین ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور نے باضابطہ اعلان کے بغیر مذاکرات کا حصہ بننے سے معذرت کر لی اور کہا کہ حکومت باضابطہ اعلامیے کے بغیر کس حیثیت سے مجھے قبول کرے گی۔اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر 48 گھنٹوں میں مذاکراتی کمیٹی کے باضابطہ اعلان کی یقین دہانی کرائی۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی تینوں بہنوں اور معطل وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کی رہائی وفاقی پارلیمانی کمیٹی کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔
سہیل آفریدی کی تبدیلی سے متعلق اجلاسوں میں شرکت پر پابندی عائد

