Site icon bnnwatch.com

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پولیس تنصیبات پر فتنہ الخواج کے حملے

Police installations attacked in Khyber Pakhtunkhwa

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پولیس تنصیبات پر فتنہ الخواج کے حملے

پاکستان کی جانب سے افغان جارحیت کیخلاف افغانستان کے اندر کارروائی کے بعد سے فتنہ الخوارج نے پشاور سمیت خیبرپختونخوا کی مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، تھانہ متنی چوکی، تھانہ بدھ بیر، بنوں کنگر اور کاشو پل، ضلع خیبر تکیہ پویس پوسٹ پرحملہ کیا

حملوں میں 2 پولیس اہلکار اور 6شہری زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے حملے میں دستی بم اور چھوٹے بڑے ہتھیار استعمال کیے۔
آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ بزدلانہ دہشتگرد نہتے عوام پر ظلم کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے،عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے فتنہ الخوارج کا خاتمہ ہمارا مشن ہے۔

پشاور، بنوں اور ہنگو میں پولیس چوکیوں پر دہشتگردوں نے حملے کیے تاہم جوابی کارروائی کے دوران دہشتگردوں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا گیا۔

پشاور میں پولیس اسٹیشن اور چوکی پردستی بم حملے کیےگئے جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق پہلا حملہ تھانا بڈھ بیرپرہوا جہاں ایک اہلکار زخمی ہوا جبکہ دوسرا حملہ تھانا متنی سرہ خوارہ پولیس چوکی پرکیا گیا۔ سرہ خوارہ چوکی حملے میں ایک اہلکار سمیت 7 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ چوکی میں جرگہ جاری تھا، پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزمان فرار ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ادھر بنوں میں کاشو پُل پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ پسپا کردیا گیا۔ کنگر پولیس چوکی پردہشت گردوں نے فائرنگ کی۔ پولیس کی جوابی کارروائی سےدہشت گرد فرار ہوگئے۔ڈی پی او یاسرآفریدی نے بتایا کہ بنوں شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ تمام شاہراہوں اور چوکوں پرپولیس تعینات کردی گئی۔ ہنگو میں قاضی تالاب کےمقام پرپولیس چیک پوسٹ پرفائرنگ کی گئی۔ ڈی پی او کےمطابق پولیس نےجوابی کارروائی کرکےحملہ پسپاکردیا، دہشت گرد فرارہوگئے۔

کوہاٹ میں شہر کےتمام داخلی راستوں پرپولیس چوکیاں قائم کردی گئی ہیں

افغانستان میں 274 خوارج ہلاک، 400 زخمی ہوئے، پاک فوج

Exit mobile version