ملک میں مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ بحران کے بعد عوام میں سولر سسٹم کے استعمال میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بجلی کے بحران اور مہنگی ترین بجلی ہونے کے باعث لوگ تیزی سے شمسی توانائی کی جانب منتقل ہو رہے ہیں اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے، جہاں تیزی سے شمسی انقلاب برپا ہو رہا ہے۔
مہنگی بجلی کے باوجود دستیاب نہ ہونے کے باعث امیر کے ساتھ اب نچلا طبقہ بھی سولر سسٹم کی جانب راغب ہو رہا ہے۔ گھریلو اور صنعتی صارفین کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ تقریبا 15 سے 25 فیصد تک پاکستانی گھرانے اب کسی نہ کسی شکل میں شمسی توانائی کا استعمال کر رہے ہیں اس استعمال میں روشنی کے بنیادی حل سے لے کر پورے گھریلو بجلی کے نظام یا نیشنل گرڈ سے منسلک ہائبرڈ سیٹ اپ شامل ہیں۔
گرڈ سے منسلک حصے میں 2025 کے اوائل تک پاکستان کے پاس تقریبا چار لاکھ چھیاسٹھ ہزار نیٹ میٹرڈ سولر کنکشن تھے، جن کی انسٹال صلاحیت اپریل 2025 تک تقریبا 5.3 جی ڈبلیو تک پہنچ گئی تھی۔
وسیع تر تخمینے جن میں آف گرڈ اور ڈسٹری بیوٹڈ سسٹم شامل ہیں یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی کل شمسی صلاحیت اب 27 سے 34 گیگا واٹ یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس کی اکثریت یوٹیلیٹی اسکیل پراجیکٹس کے بجائے چھتوں اور اسٹینڈ اسٹون سسٹم سے آتی ہے۔
سولر سسٹم کو دیہی علاقوں اور خیبر پختونخوا جیسے صوبوں میں اپنانے کا عمل سب سے زیادہ دیکھا گیا، جہاں گھریلو روشنی، پنکھے، آبپاشی پمپوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے شمسی توانائی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر صارفین گرڈ کے عدم استحکام اور بجلی کی قلت کی وجہ سے آف گرڈ یا ہائبرڈ سسٹم پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں

