Site icon bnnwatch.com

پاکستان کی آبادی 2050 تک 39 کروڑ تک پہنچنے کا امکان

پاکستان کی آبادی 2050 تک 39 کروڑ تک پہنچنے کا امکان

قومی ادارہ برائے آبادیاتی مطالعات، تربیت و تحقیق کی نئی رپورٹ کے مطابق موجودہ آبادیاتی رجحانات برقرار رہے تو پاکستان کی آبادی 2050 تک تقریبا 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے روزگار، بنیادی سہولتوں، صحت اور سرکاری مالی وسائل پر شدید دبا پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی آبادی 2023 کے 24 کروڑ 15 لاکھ سے بڑھ کر 2050 تک 38 کروڑ 99 لاکھ تک جا سکتی ہے۔ جبکہ شرحِ پیدائش میں تیزی سے کمی آنے کی صورت میں بھی آبادی 37 کروڑ 19 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔یہ تخمینے 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، جن میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کی فنی معاونت شامل رہی۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ برقرار رہے گا، جہاں آبادی 2023 کے تقریبا 12 کروڑ 80 لاکھ سے بڑھ کر 2050 تک 20 کروڑ کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر 9 کروڑ 12 لاکھ جبکہ خیبر پختونخوا کی آبادی 4 کروڑ 8 لاکھ سے بڑھ کر 6 کروڑ 76 لاکھ تک ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مسلسل شہری ہجرت کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ متوقع ہے، جہاں آبادی 24 لاکھ سے بڑھ کر 65 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آئندہ پچیس برسوں میں آبادی میں اضافے کے نتیجے میں رہائش، تعلیمی اداروں، ٹرانسپورٹ، بجلی، پانی اور صحت کے نظام پر دبا میں مسلسل اضافہ ہوگا۔

اعداد و شمار کے مطابق قابلِ روزگار آبادی بھی تیزی سے بڑھے گی اور 2023 کے 13 کروڑ 52 لاکھ سے بڑھ کر 2050 تک 25 کروڑ 54 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔دوسری جانب 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 86 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 26 لاکھ ہونے کا امکان ہے، جس سے صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شرحِ پیدائش میں بتدریج کمی کے باوجود پاکستان کو آبادی میں مسلسل اضافے کے چیلنج کا سامنا رہے گا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل کی آبادیاتی صورتحال کا انحصار تعلیم، خواتین کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات میں بہتری پر ہوگا۔

سوات ایکسپریس وے پر ٹریفک حادثہ، 16 افراد جاں بحق

 
Exit mobile version