طوفانی بارشوں نے ملک بھر میں تباہی مچا دی، بارشوں اور سیلابی صورتحال سے کم از کم 14 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق سوات میں سیف اللہ جھیل میں کشتی ڈوب گئی جس سے 6 سیاحوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی ،لاشیں نکال لی گئیں، آخری اطلاعات تک ایک لاپتہ خاتون کی تلاش جاری تھی، جاں بحق تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا ادھر اٹک میں دیوار اور چھت گرنے کے واقعات میں 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔
لنڈی کوتل میں آسمانی بجلی گرنیسے2 بچے جاں بحق اور4زخمی ہو گئے، دیربالا میں آسمانی بجلی گرنے سے مدرسے کی 20 طالبات زخمی ہوگئیں۔ژوب میں بارش کے دوران چھتیں گرنے سے خاتون اور ایک بچہ جاں بحق ہو ئے، گنجیال قائد آباد میں آسمانی بجلی گرنے سے شہری دم توڑ گیا۔
ایبٹ آباد میں برساتی نالے میں گاڑی بہنے سے 3 افراد زخمی ہو گئے، مردان میں طوفانی بارش سے سائن بورڈاوردیوارگرنے سے2بچوں سمیت 3افراد زخمی ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا، لاہور کے مختلف علاقوں میں تیز بارش ہوئی، ٹھنڈی ہواں کا راج رہا، کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔میڈیا رپورٹ ے مطابق اٹک، پنڈی بھٹیاں، منڈی بہاالدین ،سرگودھا، بھیرہ، حافظ آباد، قصور،مریدکے میں بھی بادل خوب برسے، گجرات میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا
ادھر ہری پور میں تیز بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہو گیا، ایبٹ آباد میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کے بعد سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، بارشی پانی دکانوں میں داخل ہو گیا۔دریں اثناء خضدار، ژوب ، کوہلو میں بھی برکھا رت برسی، صوابی میں بارش اور ژالہ باری ہوئی، کراچی میں بھی بادل چھا گئے، نیو کراچی، گلشن معمار، گڈاپ میں بوندا باندی ہوئی۔
گلگت بلتستان ریجن میں دیامر کے نواحی گاں گیس بالا، پائین اور نیاٹ ویلی میں مون سون کی بارشیں شروع ہونے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، رابط سڑک متاثر ہوئی اور سیلابی ریلہ گھروں میں داخل ہو گیا۔حکام کے مطابق سیلاب سے لوگوں کے فصلیں، باغات اور زرعی اراضی زمینیں شدید متاثر ہوئی ہیں، نیاٹ ویلی میں بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا
خیبرپختونخوا میں بارشوں سے تباہی، 7 افراد جاں بحق، 19 زخمی
لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے گئے، بالائی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔این ڈی ایم اے کا ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا گیا، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلاب کا خدشہ ہے، پہاڑی ندی نالوں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہا میں اچانک اضافہ متوقع ہے۔
