Site icon bnnwatch.com

بجٹ میں متعدد اشیا پر رعایتی جی ایس ٹی ختم ہونے کا امکان

بجٹ میں متعدد اشیا پر رعایتی جی ایس ٹی ختم ہونے کا امکان

وفاقی بجٹ میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس مراعات اور رعایتی سیلز ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کیے جانے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں رعایتی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)ختم کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات میں اضافے کے لیے نئی مالیاتی اصلاحات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آٹھویں شیڈول کے تحت حاصل مختلف ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ درآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو حاصل ٹیکس مراعات برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا فیصلہ بھی بجٹ میں متوقع ہے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے ٹریکٹرز اور ڈی اے پی کھاد پر دی گئی ٹیکس رعایتوں کو کم یا مکمل طور پر ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اسی طرح پولٹری اور مویشیوں کی خوراک پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کا امکان ہے، جبکہ سولر فوٹو وولٹائیک سیلز کو حاصل موجودہ ٹیکس سہولت واپس لیے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ سونا 8 ہزار 600 روپے سستا

 

اس کے علاوہ اسٹیشنری اور بعض بنیادی اشیائے خور و نوش پر دی گئی ٹیکس رعایتیں کم یا ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ترجیحی ٹیکس مراعات کے بجائے یکساں ٹیکس نظام کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔ یہ اقدامات آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس استثنی اور رعایتوں میں کمی کی پالیسی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا تو متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس پالیسی اور مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس مراعات کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔

Exit mobile version