Skip to main contentSkip to footer

دریائے سندھ اور یانگ زی نے قدیم تہذیبوں کو پروان چڑھایا

دریائے سندھ اور یانگ زی نے قدیم تہذیبوں کو پروان چڑھایا

چین اور پاکستان کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی روابط پر نئی تحقیق سامنے آگئی۔ تحقیق میں دریائے سندھ اور یانگ زی کی قدیم تہذیبوں، تاریخی تجارتی راستوں، بدھ مت کے پھیلاؤ اور شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے جڑی یادوں کو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی اہم کڑیاں قرار دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق سنگھوا یونیورسٹی میں منعقدہ ایک مکالمے کے دوران پیش کی گئی، جہاں اسکالرز نے کثیر لسانی کتاب سندھ اور یانگ زی: ایک ہی منبع سے نکلنے والے دو دریاؤں کا سفر، دریائے یارکند کی وادی میں قدیم راستوں پر تحقیق، شاہراہِ قراقرم کے تعمیراتی کارکنوں کی زبانی تاریخ، اور پاکستان پر ڈاکٹریٹ کی سطح کی تحقیق پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق تقریب میں چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، سنگھوا یونیورسٹی کے اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کے پارٹی سیکریٹری اور اسکول بورڈ کے چیئرمین شی این بن کے علاوہ چین اور پاکستان کے مختلف علمی و ثقافتی اداروں سے وابستہ اسکالرز، محققین اور نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی سنگھوا یونیورسٹی کے پاکستان سینٹر فار کلچر اینڈ کمیونیکیشن نے کی۔اپنے خطاب میں خلیل ہاشمی نے کہا کہ اسٹریٹجک اعتماد پاکستان اور چین کے تعلقات کی بنیادی خصوصیت رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعتماد سیاسی رہنماؤں، سفارت کاروں، اسکالرز، میڈیا سے وابستہ افراد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط روابط کا نتیجہ ہے۔رپورٹ کے مطابق چین میں اپنی 34 ماہ کی سفارتی ذمہ داریوں کے اختتام کے قریب سفیر خلیل ہاشمی نے ملک بھر میں اپنے وسیع سفری تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چین کے تقریباً تمام خطوں اور بلدیاتی علاقوں کا دورہ کرنے اور ملک کو طول و عرض میں دیکھنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہاکہ ان تجربات نے مجھے چین میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان سے سیکھنے کے مواقع فراہم کیے۔

ایک ہی تاریخ کو پیدا ہونے والی ایک خاندان کی پانچ نسلوں کا عالمی ریکارڈ قائم

رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کے سفروں نے اس بات کو سمجھنے میں بھی مدد دی کہ چینی رہنما جب انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں تو اس سے ان کی کیا مراد ہوتی ہے، اور ساتھ ہی ہم آہنگی، مشترکہ ترقی، مشترکہ خوشحالی اور مشترکہ مستقبل جیسے وسیع تر تصورات کو سمجھنے میں بھی مدد ملی۔شی این بن نے کہا کہ علمی اور ابلاغی اداروں کا کردار صرف علم اور مہارتوں کی منتقلی تک محدود نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ صحافت اور ابلاغ کی تعلیم صرف علم اور مہارتوں کی منتقلی کا نام نہیں؛ یہ مختلف ممالک اور اقوام کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے ایک اہم پل کا کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق تقریب کا مرکزی موضوع کتاب سندھ اور یانگ زی، ایک ہی منبع سے نکلنے والے دو دریاؤں کا سفر تھی، جس کی تدوین سنگھوا یونیورسٹی کے اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کے سابق ایگزیکٹو وائس ڈین لی شی گوانگ اور یونیورسٹی آف پشاور کے سابق وائس چانسلر زاہد انور نے کی ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق انگریزی، اردو اور چینی زبانوں میں پیش کی گئی

دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40سال بعد پگھل کر ختم ہوگیا

 

اس کتاب میں دونوں دریاؤں کو ایک ایسے زاویے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس کے ذریعے ان سے پروان چڑھنے والی تہذیبوں، ان کے باعث ہونے والی معاشی ترقی اور خطے میں تشکیل پانے والے ثقافتی تبادلے کے نیٹ ورکس کا جائزہ لیا گیا ہے۔لی شی گوانگ نے کہا کہ تحقیق کا مقصد دریائے سندھ کی جغرافیائی اور تہذیبی اہمیت کو واضح کرنا اور دونوں دریاؤں کے ذریعے چین اور پاکستان کے درمیان تاریخی روابط کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔تحقیق میں گندھارا تہذیب، بدھ مت کے پھیلاؤ اور دریائے سندھ کے طاس میں موجود قدیم نقل و حمل کے راستوں کے ساتھ ساتھ چینی بدھ راہب فاہیان کے سفر اور قدیم شاہراہِ ریشم کے ساتھ ہونے والے تبادلوں کے روابط کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق زاہد انور نے کہا کہ ان دونوں دریاؤں نے قدیم زرعی تہذیبوں اور شہری ترقی سے لے کر جدید توانائی کی پیداوار، صنعت اور بین الاقوامی تجارت تک معاشروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا یانگ زی اور سندھ کی ترقی کے ادوار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عظیم دریا نہ صرف تہذیبوں کو پروان چڑھاتے ہیں بلکہ جدید اقتصادی اور علاقائی تعاون کو بھی مسلسل آگے بڑھاتے ہیں۔

اٹھارہ سالہ نوجوان 306سال بعد دنیا کا کم عمر ترین پروفیسر بن گیا

تقریب میں پیش کی جانے والی تحقیق نے ان راستوں کی بھی ازسرِنو نشاندہی کرنے کی کوشش کی جن کے ذریعے دونوں خطوں کے درمیان لوگ، خیالات اور ثقافتیں سفر کرتی رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق لی شی گوانگ نے چینی بدھ راہب فاہیان کے قدیم مملکت اودیانہ کی جانب مغرب کی طرف سفر پر تحقیق پیش کی۔ انہوں نے تاریخی دستاویزات، قدیم نقشوں اور فیلڈ تحقیقات کی مدد سے ان قدیم پہاڑی راستوں کا جائزہ لیا جو چین کو موجودہ پاکستان کے علاقوں سے ملاتے تھے۔لی نے کہاکہ قدیم راستوں پر تحقیق صرف تاریخی دستاویزات تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ہمیں ان مقامات تک جانا ہوگا جہاں تاریخ نے جنم لیا اور ان تہذیبوں کے باہمی تبادلے کے چھوڑے ہوئے آثار تلاش کرنا ہوں گے۔پروفیسر گوو شیاؤکے نے دریائے یارکند کی وادی پاکستان کے قدیم راستے کی تلاش کے منصوبے پر روشنی ڈالی۔ اس منصوبے میں فیلڈ ریسرچ، تاریخی تحقیق اور دستاویزی فلم سازی کو یکجا کرکے موجودہ سنکیانگ اور پاکستان کو ملانے والے قدیم راستوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق تقریب میں شاہراہِ قراقرم کی تعمیر میں حصہ لینے والے افراد کی زبانی تاریخ پر مبنی ایک منصوبے کے ذریعے تاریخ کو ذاتی تجربات کے زیادہ قریب لایا گیا۔

پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ،ایک انگلی سے لیپ ٹاپ چلا کر لاکھوں روپے کمانے والا عبدالمعید

سنکیانگ یونیورسٹی آف فنانس اینڈ اکنامکس کی لیکچرار ڑانگ جِنگ نے شاہراہ کی تعمیر سے وابستہ افراد کے انٹرویوز اور دستاویزی مواد پیش کیا۔ اس منصوبے کے تحت اس تعمیراتی منصوبے سے منسلک 100 سے زائد افراد سے رابطہ کیا گیا اور متعدد ایسے افراد کے انٹرویوز کیے گئے جو خود اس تعمیر کے عینی شاہد اور شرکا تھے۔ اس کا مقصد اس نسل کی یادوں کو محفوظ کرنا ہے جو شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کے تجربے سے گزری اور اب عمر رسیدہ ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ژانگ نے کہاکہ شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان مشترکہ یادوں اور دوستی کی ایک ٹھوس گواہ بھی ہے۔پروگرام میں سنگھوا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل وین سان می اور لیو بی کی پاکستان پر ڈاکٹریٹ کی سطح کی تحقیق بھی پیش کی گئی۔اس کے علاوہ نان کائی یونیورسٹی، سچوان یونیورسٹی، ہیبئی نرمل یونیورسٹی اور بیجنگ فارن اسٹڈیز یونیورسٹی کے اسکالرز نے فیلڈ ریسرچ، تہذیبی تبادلے اور علمی تعاون پر اظہار خیال کیا۔مجموعی طور پر تقریب میں پیش کیے گئے منصوبوں نے چین اور پاکستان کے تعلقات کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کے مواقع فراہم کیے۔ ان دریاؤں کے ذریعے جنہوں نے قدیم تہذیبوں کو پروان چڑھایا، ان راستوں کے ذریعے جنہوں نے پہاڑوں کے درمیان لوگوں اور خیالات کو منتقل کیا، اور ان ذاتی یادوں کے ذریعے جو زبانی تاریخ کی صورت میں محفوظ کی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق تاریخی ریکارڈ کو فیلڈ ریسرچ اور انفرادی تجربات سے جوڑتے ہوئے ان منصوبوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو گہرا کرنے میں علمی اور ثقافتی تبادلے کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ساتھ ہی جامعات، محققین اور نوجوانوں کے درمیان تعاون کے نئے امکانات کی نشاندہی کی گئی۔

شمالی کوریا کے زیرِ زمین جوہری تجربات کے بعد دنیا میں 1399 زلزلے

 

 

کینیڈا میں اچانک نمودار ہونیوالا جزیرہ غائب ہوگیا

Previous Post
پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ،ایک انگلی سے لیپ ٹاپ چلا کر لاکھوں روپے کمانے والا عبدالمعید