نوشہرہ کے تینوں افغان مہاجر کیمپس خالی کر کے پینے کے صاف پانی کی سہولت کیلئے ٹیوب ویل ،سکولز اور ڈسپنسری متعلقہ محکموں کے حوالے کردئیے گئے ،افغان مہاجرین سے خالی شدہ کیمپس کی زمینوں پر دفعہ 144کا نفاذ کردیا گیا ہے ،ان زمینوں کی خرید وفروخت اور ان پر تعمیراتی کام پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے ۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا ہے کہ نوشہرہ میں افغان مہاجرین کیلئے تین کیمپس بنائے گئے تھے جن میں ترکمن کیمپ ،خیر آباد کیمپ اور اکوڑہ خٹک کیمپ شامل تھے جس میں کل 42ہزار افغان مہاجرین آباد و مقیم تھے اور حکومت کے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے احکامات پر اب تک ان کیمپوں سے 40,000سے زائد افغان مہاجرین واپس جاچکے ہیں جبکہ باقی ماندہ 2000افغان مہاجرین شہر کے دیگر علاقوں میں عارضی بنیادوں پر رہائش پذیر ہیں
ان کیمپوں میں افغان مہاجرین کیلئے حکومت کی جانب سے دی گئی سہولیات جن میں سکولز ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ٹیوب ویل اور صحت سہولیات کیلئے ڈسپنسری ،بجلی ان تمام سہولیات کی بھاگ دوڑ متعلقہ سرکاری محکموں کے حوالے کردی گئی ہے اور حکومت جانب سے نوشہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو افغان مہاجرین کیمپس کے خالی کرنے کیلئے جو ہدایات اور ہدف دیا گیا تھا وہ مکمل ہوگیا ہے نوشہرہ میں افغان مہاجر کیمپس ترکمن ،خیر آباد اور اکوڑہ خٹک افغان مہاجر کیمپس خالی کرادئیے گئے اور ان کیمپوں کی زمینوں پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144کا نفاذ کردیا گیا ہے
تاکہ ان تینوں کیمپس جو کہ ہزاروں کنال اراضی پر محیط رقبہ ہے کوئی شخص یا گروہ غیر قانونی طور پر لین دین یا خرید وفروخت نہ کریں
انہوں نے مزید کہا کہ نوشہرہ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے افغان مہاجرین کے خالی کردہ ترکمن ،خیر آباد اور اکوڑہ خٹک کیمپس کی اراضیات پر کسی کو خرید وفروخت کے لین دین اور تعمیرات پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تینوں کیمپس کی مسماری کا عمل بھی بہت جلد مکمل کردیا جائے گا اور تینوں کیمپس کی اراضیات پر تعمیرات کی مسماری کے بعد ان کیمپس کی اراضیات کو خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کردیا جائے گا اور بعد میں صوبائی حکومت کی اس ضمن میں جو پالیسی ہوگی اس پر نوشہرہ کی ضلعی انتظامیہ من وعن عمل درآمد کرے گی۔
اس حوالے سے مزید پڑھیں
