Skip to main contentSkip to footer

ناخنوں کی پانچ خاموش علامات جنہیں کبھی نظر انداز نہ کریں

ناخنوں کی پانچ خاموش علامات جنہیں کبھی نظر انداز نہ کریں

امریکی ماہرینِ جلد ڈاکٹر اینیٹ زرنک اور ڈاکٹر شمسہ کنول کے مطابق ناخن جسمانی صحت کے بارے میں سب سے پہلے خبردار کرتے ہیں۔ناخنوں میں ہونے والی درج ذیل پانچ تبدیلیاں کسی سنگین بیماری کا اشارہ ہو سکتی ہیں۔اگر انگلیاں آگے سے سوج کر گول ہو جائیں اور ناخن الٹے چمچ کی طرح نیچے کی طرف مڑنے لگیں تو طبی اصطلاح میں اسے ‘کلبنگ’ کہتے ہیں۔ایسا عام طور پر خون میں آکسیجن کی طویل مدتی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ علامت پھیپھڑوں کے سنگین امراض اور دل کے اندرونی حصے کے انفیکشن کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے۔اگر ناخن درمیان سے چمچ کی طرح اندر کو دھنس جائیں، تو یہ جسم میں آئرن کی شدید کمی اور اینیمیا(خون کی کمی)کا واضح اشارہ ہے۔

 چمچ نما ناخن خون کی کمی کی نشانی

آئرن کی کمی سے ناخن کو انگلی سے جوڑنے والے ٹشوز کمزور پڑ جاتے ہیں۔کسی چوٹ کے بغیر ناخن پر لمبائی میں اچانک ابھرنے والی کالی یا بھوری لکیر کو کبھی معمولی نہ سمجھیں۔ ڈاکٹر زرنک کے مطابق یہ ناخن کے نیچے ہونے والے میلانلوما کی علامت ہو سکتی ہے جو جلد کے کینسر کی مہلک ترین قسم ہے۔ بروقت تشخیص نہ ہونے پر یہ کینسر تیزی سے جسم کے دیگر حصوں میں پھیل جاتا ہے۔بار بار ہاتھ دھونے یا نیل پالش ریموور کے استعمال کے علاوہ ناخنوں کا کمزور ہو کر ٹوٹنا یا ان کی تہہ اترنا تھائیرائڈ کی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔یہ بیماری جسم کا میٹابولزم سست کر دیتی ہے جس سے ناخن بنانے والا پروٹین کیراٹن صحیح طرح نہیں بن پاتا۔ اس کے علاوہ زنک، بائیوٹین اور وٹامن بی 12 کی کمی بھی اس کی وجہ بنتی ہے۔ارد گرد سرخی یا سوجن ناخن کے اطراف کی جلد کے انفیکشن کو ظاہر کرتی ہے جو ناخن چبانے یا کٹ لگنے سے بیکٹیریا کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔

 ناخنوں کا ٹوٹنا اور تہہ اترنا کس بات کی علامت ہے؟

نیلا یا پیلا پڑنے سے ناخن کا نیلا پڑنا جسم میں آکسیجن کی شدید کمی، جبکہ پیلا پڑنا جگر یا سانس کی بیماریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر اینیٹ زرنک کے مطابق اگر انگلیوں کے سرے غیر معمولی طور پر موٹے اور گول ہونے لگیں اور ناخن نیچے کی جانب خم کھا جائیں تو اس کیفیت کو طبی اصطلاح میں کلبنگ کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کو طویل عرصے تک مناسب مقدار میں آکسیجن نہ مل رہی ہو۔ ماہرین کے مطابق کلبنگ پھیپھڑوں کے دائمی امراض، پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے بعض پیدائشی یا پیچیدہ امراض اور دل کے اندرونی حصے کے انفیکشن کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں مریض کو فوری طبی معائنہ کروانا چاہیے تاکہ اصل بیماری کی تشخیص ہو سکے۔

ہاتھی نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کوڈھونڈ ڈھونڈ کر مار ڈالا

 

اگر ناخن درمیان سے اندر کی جانب دھنس جائیں اور ان کی شکل چمچ جیسی محسوس ہونے لگے تو اسے کوئلونائیکیا کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جسم میں آئرن کی شدید کمی اور اینیمیا یعنی خون کی کمی کا واضح اشارہ ہے۔ آئرن کی کمی کی وجہ سے ناخنوں کو مضبوط رکھنے والے ٹشوز کمزور ہو جاتے ہیں، جس سے ناخن اپنی قدرتی مضبوطی کھو دیتے ہیں۔ ایسے افراد کو اکثر تھکن، چکر آنا، سانس پھولنا اور کمزوری جیسی علامات بھی محسوس ہوتی ہیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایسی علامات ظاہر ہونے پر خون کا ٹیسٹ کروا کر آئرن کی سطح معلوم کی جائے اور ڈاکٹر کے مشورے سے علاج شروع کیا جائے۔ ڈاکٹر زرنک کے مطابق اگر کسی چوٹ یا زخم کے بغیر ناخن پر اچانک لمبائی میں کالی یا بھوری لکیر نمودار ہو جائے تو اسے معمولی تبدیلی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق یہ ناخن کے نیچے پیدا ہونے والے میلانومہ کی علامت ہو سکتی ہے، جو جلد کے کینسر کی سب سے خطرناک اقسام میں شمار ہوتا ہے۔ اگر اس بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہو تو یہ تیزی سے جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتی ہے، جس سے علاج مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ایسی کسی بھی تبدیلی کی صورت میں جلد کے ماہر سے فوری مشورہ کرنا ضروری ہے۔

روزانہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے میں معاون ثابت

 

اگر ناخن بار بار ٹوٹنے لگیں، ان کی تہہ اترنے لگے یا وہ غیر معمولی حد تک کمزور ہو جائیں اور اس کی وجہ زیادہ پانی کا استعمال یا نیل پالش ریموور نہ ہو تو یہ تھائیرائڈ گلینڈ کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تھائیرائڈ کی بیماری جسم کے میٹابولزم کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ناخن بنانے والا اہم پروٹین کیراٹن مناسب مقدار میں تیار نہیں ہو پاتا۔ اس کے علاوہ زنک، بائیوٹین، وٹامن بی 12 اور دیگر غذائی اجزا کی کمی بھی ناخنوں کو کمزور بنا سکتی ہے۔ متوازن غذا، مناسب سپلیمنٹس اور طبی مشورہ اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ناخنوں کے اطراف کی جلد سرخ، سوجی ہوئی یا دردناک ہو جائے تو یہ بیکٹیریا یا فنگس کے انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ عموماً ناخن چبانے، جلد کو بار بار کاٹنے، مینیکیور کے دوران معمولی زخم لگنے یا کسی کٹ کے ذریعے جراثیم داخل ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو انفیکشن بڑھ سکتا ہے، پیپ بن سکتی ہے اور بعض صورتوں میں ناخن مستقل طور پر متاثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایسی علامات ظاہر ہونے پر خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

گائے کا گوشت ذیابیطس کا باعث نہیں بنتا، نئی تحقیق

 

ڈاکٹر شمسہ کنول کے مطابق ناخنوں کے رنگ میں تبدیلی بھی کئی بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ اگر ناخن نیلے پڑ جائیں تو یہ جسم میں آکسیجن کی شدید کمی، دل یا پھیپھڑوں کے مسائل کی علامت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ناخنوں کا پیلا پڑ جانا جگر کی بیماریوں، سانس کے بعض امراض، فنگل انفیکشن یا دیگر طبی مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رنگ میں یہ تبدیلی مسلسل برقرار رہے یا اس کے ساتھ دیگر علامات بھی موجود ہوں تو فوری طبی معائنہ کرانا ضروری ہے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔ ماہرینِ جلد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ناخنوں میں ہونے والی ہر تبدیلی کسی بڑی بیماری کی علامت نہیں ہوتی، تاہم اگر یہ تبدیلی اچانک ظاہر ہو، کئی ہفتوں تک برقرار رہے یا اس کے ساتھ جسم میں دیگر غیر معمولی علامات بھی موجود ہوں تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت طبی معائنہ، متوازن غذا، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور خوراک، مناسب صفائی اور ناخنوں کی درست دیکھ بھال نہ صرف ناخنوں کو صحت مند رکھتی ہے بلکہ کئی خطرناک بیماریوں کی ابتدائی تشخیص میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

 

 

موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے تجربہ بیان کر دیا

Previous Post
تین سال تک کسی سے حل نہ ہونے والی پہیلی انجینیر نے حل کردی