Skip to main contentSkip to footer

مرغیوں نے زیر زمین دنیا کا سب سے بڑا شہر دریافت کرلیا

Largest Underground City Discovery

ترکی اپنے شاندار آثارِ قدیمہ اور قدیم تہذیبوں کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اسی ملک کے وسطی حصے میں واقع علاقہ کپاڈوشیا ایک ایسی حیران کن دریافت کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا، جہاں زمین کے نیچے ایک وسیع اور پیچیدہ شہر موجود ہے۔ اس تاریخی مقام کو آج ڈیرِنکویو زیرِ زمین شہر کے نام سے جانا جاتا ہے، جو ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے زیرِ زمین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ حیرت انگیز شہر تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ زمین کی سطح سے تقریباً 200 فٹ نیچے پھیلے اس شہر میں کئی منزلیں اور درجنوں سرنگیں موجود ہیں۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس شہر میں ایک وقت میں 20 ہزار سے زیادہ افراد کئی ماہ تک محفوظ رہ سکتے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زیرِ زمین بستی مختلف ادوار میں مختلف تہذیبوں کے زیرِ استعمال رہی۔ اس پر کبھی فریجیئن، کبھی فارسی سلطنت اور بعد میں بازنطینی عیسائیوں کا اثر رہا۔ ان تہذیبوں نے نہ صرف اس شہر کو آباد رکھا بلکہ وقت کے ساتھ اس میں مزید سرنگیں اور کمرے بھی شامل کرتے رہے۔

ڈیرِنکویو دراصل ایک مکمل زیرِ زمین دنیا تھی۔ یہاں رہائشی کمروں کے علاوہ اناج ذخیرہ کرنے کے گودام، مویشیوں کے اصطبل، عبادت گاہیں اور حتیٰ کہ تعلیم کے لیے کمرے بھی موجود تھے۔شہر کے اندر سیڑھیوں اور تنگ راہداریوں کا ایک پیچیدہ جال بچھا ہوا تھا جو مختلف منزلوں کو ایک دوسرے سے ملاتا تھا۔ اس طرح لوگ زمین کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ باآسانی جا سکتے تھے۔

Largest Underground City Discovery
Largest Underground City Discovery

اس زیرِ زمین شہر کا سب سے حیران کن پہلو اس کا جدید طرز کا ہوا اور پانی کا نظام تھا۔ ماہرین کے مطابق شہر میں پچاس سے زائد ہوا کے کنویں بنائے گئے تھے جو پورے شہر میں تازہ ہوا پہنچاتے تھے۔ اسی طرح ایک تقریباً 55 میٹر گہرا کنواں پانی کی فراہمی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

اس طرح کے انتظامات ظاہر کرتے ہیں کہ اس شہر کو طویل عرصے تک رہائش کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، خاص طور پر ایسے زمانوں میں جب حملہ آوروں سے بچنے کے لیے لوگوں کو چھپ کر رہنا پڑتا تھا۔تاریخ دانوں کے مطابق بارہویں صدی کے دوران مقامی عیسائیوں نے منگول حملہ آوروں اور دیگر دشمنوں سے بچنے کے لیے اسی زیرِ زمین شہر میں پناہ لی تھی۔ بعد میں مختلف جنگوں اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث یہ علاقہ خالی ہوتا گیا۔

1920 کی دہائی میں یونان ترک جنگ کے دوران کپاڈوشیا کے بہت سے باشندے یونان منتقل ہوگئے، جس کے بعد یہ شہر مکمل طور پر ویران ہو گیا اور کئی دہائیوں تک زمین کے نیچے چھپا رہا۔اس شہر کی دریافت کی کہانی بھی نہایت دلچسپ ہے۔ 1963 میں ایک مقامی شخص اپنے گھر کی مرمت کر رہا تھا۔ اس دوران اس نے دیکھا کہ اس کی مرغیاں گھر کی دیوار میں بننے والی ایک دراڑ کے اندر جا کر غائب ہو جاتی ہیں۔

جب اس دراڑ کو مزید کھودا گیا تو ایک تنگ سرنگ سامنے آئی جو آہستہ آہستہ ایک وسیع زیرِ زمین شہر کے داخلی راستے میں تبدیل ہو گئی۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس شہر تک رسائی کے لیے مختلف گھروں کے اندر تقریباً 600 سے زیادہ داخلی راستے موجود تھے۔اس حیران کن دریافت کے بعد ترک محکمہ آثارِ قدیمہ نے اس مقام پر تحقیق شروع کی اور مزید سرنگیں اور کمرے دریافت ہوتے گئے۔ بالآخر 1985 میں یونیسکو نے کپاڈوشیا کے اس تاریخی علاقے کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔

آج ڈیرِنکویو کا زیرِ زمین شہر ترکی آنے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم تاریخی مقام بن چکا ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اس عجیب و غریب شہر کو دیکھنے آتے ہیں تاکہ زمین کے نیچے بسنے والی اس قدیم تہذیب کے آثار کو قریب سے دیکھ سکیں۔ یہ شہر اس بات کا ثبوت ہے کہ قدیم انسان نہ صرف مشکل حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے بلکہ حیران کن انجینئرنگ اور منصوبہ بندی بھی کر سکتے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا قذافی سٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

Next Post
ایران اور حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی
Previous Post
کراچی میں نامعلوم افراد نے شیطانی مجسمہ(بعل) نصب کردیا