Site icon bnnwatch.com

لداخ کے شناختی کارڈ میں ترمیم، سٹیٹ کے خانے میں جموں کشمیر کی جگہ لداخ درج

لداخ کے شناختی کارڈ میں ترمیم، سٹیٹ کے خانے میں جموں کشمیر کی جگہ لداخ درج

مقبوضہ کشمیر کے مشرقی خطے لداخ کے باشندوں کی شناخت اب کشمیر نہیں بلکہ لداخی کے طور ہوگی۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز انڈیا کے یونیک آئیڈنٹفکیشن اتھارٹی آف انڈیا نے اپنے ڈیٹا بیس میں لداخیوں کے شناختی کارڈ آدھار میں اب ریاست کی جگہ جموں کشمیر کی بجائے لداخ لکھا جائے گا۔

اس فیصلے پر سیاسی و سماجی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کرکے لداخ کو باقاعدہ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ دوہرایا ہے، تاہم آر ایس ایس کی حامی جماعت شِوسینا نے اسے جموں کشمیر کی جغرافیائی اور ثقافتی وحدت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ واضح رہے 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے وقت لداخ کو کشمیر سے الگ کرکے علیحدگہ خطہ بنایا گیا جس کا انتظام براہ راست نئی دلی کے ہاتھ میں ہوگا۔

لداخ انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی ذاتی مداخلت کے بعد یہ دیرینہ مسئلہ حل ہوا ہے۔ اس سے پہلے پن کوڈ ڈالنے پر بھی ریاست کے خانے میں جموں و کشمیر ہی ظاہر ہوتا تھا، جس سے لداخی عوام کو شناختی دستاویزات اور سرکاری مراعات حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اب عوام کو انفرادی طور پر آدھار سینٹرز پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ڈیٹا بیس میں خودکار طریقے سے یہ تبدیلی کر دی گئی ہے۔

جہاں انتظامیہ اس فیصلے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہیں جموں میں شیو سینا (یو بی ٹی) نے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اسے دونوں خطوں کے درمیان دوری پیدا کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے۔

جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیو سینا جموں و کشمیر یونٹ کے صدر منیش ساہنی نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی۔ساہنی نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے پہلے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ چھینا، اسے ریاست سے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا، اور اب وہ سرکاری کاغذات پر لکیریں کھینچ کر لوگوں کے دلوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شِو سینا کے رہنما نے مزید کہا کہ، لداخ اور جموں و کشمیر کا رشتہ محض جغرافیائی نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں پرانی مشترکہ ثقافت، روایات، تجارت اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ کسی بھی نوکر شاہی کے فیصلے سے اس رشتے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کیا جائے اور یہاں کے لوگوں کی زمین، ملازمت اور ثقافتی شناخت کو تحفظ دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 371 کے تحت خصوصی دفعات نافذ کی جائیں۔

اگرچہ لداخ کی مقامی اور بی جے پی نواز قیادت نے اس فیصلے کو انتظامی سہولت اور لداخی خود مختاری کی علامت کے طور پر خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن جموں و کشمیر کی مقامی اور چند اہم اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کی تنقید کی ہے۔حکمران نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ حکومت ایسے علامتی اقدامات کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔

اصل مسئلہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے جمہوری حقوق، ریاستی درجہ، اور زمین و ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینا ہے جو 5 اگست 2019 کو چھین لیے گئے تھے۔اپوزیشن رہنمامحبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام کے درمیان نفسیاتی اور جغرافیائی لکیریں مزید گہری ہو جائیں۔

 

Q&A

لداخ کے شناختی کارڈ میں کیا تبدیلی کی گئی ہے؟
شناختی کارڈ کے “اسٹیٹ” والے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ اب لداخ درج کیا گیا ہے۔

یہ تبدیلی کیوں کی گئی ہے؟
یہ انتظامی اور دستاویزی اصلاحات کا حصہ ہے تاکہ الگ یونٹ کے طور پر ظاہر کیا جا سکے۔

کیا لداخ پہلے جموں و کشمیر کا حصہ تھا؟
لداخ پہلے جموں و کشمیر کا حصہ تھا لیکن اب اسے الگ مرکزی انتظامی علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

اس تبدیلی کا اثر کیا ہوگا؟
اس سے سرکاری ریکارڈ، شناختی دستاویزات اور انتظامی نظام میں واضح فرق آئے گا۔

 

پاکستان 15ملین ڈالر مالیت کا شہد برآمد کرنے والا ملک بن گیا

 
Exit mobile version