Site icon bnnwatch.com

پاکستان 15ملین ڈالر مالیت کا شہد برآمد کرنے والا ملک بن گیا

پاکستان 15ملین ڈالر مالیت کا شہد برآمد کرنے والا ملک بن گیا

پاکستان کی شہد کی صنعت عالمی منڈی میں داخل ہو چکی ہے، جہاں برآمدات سالانہ 15 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جس کی وجہ بہتر مکھیوں کی پرورش کے طریقے اور اعلی معیار کی اقسام ہیں۔

ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ہنی بی ریسرچ انسٹیٹیوٹ  کے سینئر سائنسی افسر ڈاکٹر محمد خالد رفیق نے کہاکہ ہم نے مسلسل سائنسی تحقیق، کالونیوں میں اضافہ، بہتر ملکہ مکھی کی افزائش، کیڑوں پر قابو پانے اور معیار کی یقین دہانی کے نظام کے ذریعے ایک مسابقتی صنعت کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔آج پاکستان میں تقریبا 15 لاکھ ایپس میلیفیرا،ایک زیادہ پیداوار دینے والی مغربی شہد کی مکھی کی قسم کی کالونیاں موجود ہیں، جو سالانہ 25,000 سے 30,000 میٹرک ٹن شہد پیدا کرتی ہیں۔

اس میں سے 8,000 سے 10,000 میٹرک ٹن شہد برآمد کیا جاتا ہے، جس سے ہر سال تقریبا 15 ملین ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو برآمد کیا جاتا ہے، جن میں اعلی معیار کا سدر(بیری)  نمایاں ہے۔پاکستان میں اس صنعت کی ترقی کا آغاز 1979 میں ہوا، جب پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے تحت نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں منظم شہد کی مکھیوں کی پرورش شروع کی گئی۔

اس وقت ملک کم پیداوار کی وجہ سے مقامی مکھیوں پر انحصار کرتے ہوئے شہد درآمد کرتا تھا۔ ڈاکٹر رفیق کے مطابق: تب سے انسٹیٹیوٹ جدید چھتے کے انتظام، ملکہ مکھی کی افزائش کے نظام، شہد کی جانچ کی سہولیات اور نقل مکانی کرنے والی مکھی بانی کے ماڈلز میں پیش پیش رہا ہے، جبکہ ملک بھر میں ہزاروں مکھی بانوں کو تربیت بھی دی گئی ہے۔اس ترقی کے باوجود، اس شعبے کو بڑھتے ہوئے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

جنگلات کی کٹائی، غیر متوقع موسمی حالات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پھولوں کے موسم کم ہو رہے ہیں اور رس(نیکٹر)کی دستیابی میں کمی آ رہی ہے۔ روایتی پودے جیسے شیشم، مالٹا، بیکھر، پلائی اور گرانڈا کم مدت کے لیے پھول دیتے ہیں، جس سے شہد کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بار بار آنے والے سیلاب مکھی بانوں کو مہنگے نقل مکانی کے طریقے اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں،

جس میں گرمیوں کے دوران کالونیوں کو گلگت جیسے ٹھنڈے علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس سے لاگت، خطرات اور کالونیوں کے نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے شعبے پر مزید دبا پڑ رہا ہے۔آمدنی بڑھانے کے لیے برانڈڈ اور ایک ہی پھول سے حاصل ہونے والی اقسام جیسے سدر، اکیشیا اور سرسوں کے شہد کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں، جو مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ قیمت حاصل کرتی ہیں۔

شہد کی صنعت کے حوالے سے ماہرین کی رائے

ڈاکٹر خالد نے بتایا کہ انسٹیٹیوٹ نے ایسی پالیسی تجاویز بھی پیش کی ہیں جن کے تحت رہائشی منصوبوں، شہری خوبصورتی اور شجرکاری مہمات میں شہد کی مکھیوں کے لیے موزوں پودوں کو شامل کیا جائے۔ مختلف ماحولیاتی علاقوں میں سدر اور اکیشیا کی شجرکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ خوراک کی دستیابی بحال ہو اور پیداوار کے چکر مستحکم رہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے صوبائی وزرائے اعلی کو خطوط لکھے ہیں، جن میں سدر اور اکیشیا کے درختوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اور قواعد بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ یہ زرعی پائیداری، حیاتیاتی تنوع اور دیہی معیشت میں جرگ بردار حشرات  کے کردار کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔صلاحیت سازی انسٹیٹوٹ کے مشن کا اہم حصہ ہے،

جس کے تحت ملک بھر میں تربیتی پروگرام نئے اور تجربہ کار مکھی بانوں دونوں کی مدد کر رہے ہیں۔ خواتین اور نوجوان کاروباری افراد کو بھی اس شعبے میں آنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جس سے یہ صنعت زیادہ جامع اور معاشی طور پر فائدہ مند بن رہی ہے۔

Q&A

پاکستان نے اب تک شہد کی کتنی برآمدات کی ہیں؟
پاکستان نے تقریباً 15 ملین ڈالر مالیت کا شہد برآمد کیا ہے۔

شہد کی برآمدات میں اضافہ کیوں ہوا؟
معیاری پیداوار، جدید طریقہ کار اور عالمی طلب میں اضافے کی وجہ سے برآمدات بڑھی ہیں۔

پاکستان کا شہد کن ممالک میں برآمد ہوتا ہے؟
پاکستان کا شہد مختلف ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے جہاں اس کی کوالٹی کو سراہا جاتا ہے۔

کیا یہ پاکستان کی معیشت کیلئے مثبت خبر ہے؟

جی ہاں، اس سے زرعی شعبے اور معیشت کو فروغ ملتا ہے۔

مزید پڑھیں

ملک میں 3سال کے دوران بجلی 155 فیصد مہنگی

Exit mobile version