صوبائی اسمبلی میں گندم پر پابندی اور سی این جی کی بندش کے معاملے پر ہونے والے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے گورنر اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کی، جس میں وفاق اور پنجاب حکومت پر شدید تحفظات اور آئینی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت کوئی بھی صوبہ خوراک کی ترسیل پر پابندی نہیں لگا سکتا، تاہم بدقسمتی سے اس اصول کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافی اور امتیازی سلوک کر رہی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ آٹے اور گندم کی ترسیل پر پابندی کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت بار بار پنجاب حکومت کو خطوط لکھ چکی ہے، مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق معاملے کو وفاق کے علم میں لانے کے باوجود پنجاب حکومت کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بجلی، گیس اور دیگر وسائل دینے کے باوجود مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، جو سراسر زیادتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ اس کا استعمال صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، لیکن اس کے باوجود مطلوبہ حصہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے اور آئین کے آرٹیکل 151 اور 158 دونوں کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے، کیونکہ یہ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ملک کے مفاد کے بھی خلاف ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وفاق کی ناکام پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق سی آر بی سی منصوبے میں صوبائی حکومت اپنا حصہ ڈال رہی ہے، مگر وفاق اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کر رہا۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ وفاقی منصوبوں میں بریج فنانسنگ کے باوجود تعاون نہیں کیا جا رہا، جبکہ پشاور میں بنایا گیا اسٹیٹ آف دی آرٹ بس ٹرمینل بھی راستے کی عدم دستیابی کے باعث متاثر ہو رہا ہے۔
گیس کی بندش کو انہوں نے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اس اقدام کو ہرگز سپورٹ نہیں کرے گی۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی اقدام کا ساتھ نہ دیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ تمام صوبائی ادارے وفاق اور پنجاب کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور ضرورت پڑنے پر احتجاج کے لیے سڑکوں پر بھی آئیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کو متعدد خطوط لکھے جا چکے ہیں جبکہ اسمبلی اراکین متفقہ قراردادیں بھی منظور کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی پی کے 37 ارب روپے میں سے 12 ارب روپے کی کٹوتی بھی کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے مالی معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو حکمت عملی صوبے نے تجویز کی تھی اگر اس پر عمل کیا جائے تو 100 دنوں میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیرپا امن کے لیے ایک ہی مربوط پالیسی ضروری ہے اور یہی واحد مؤثر حل ہے۔
