Skip to main contentSkip to footer

تحریک انصاف حکومت نے سونے کی کان کنی میں اربوں کی کرپشن کی، ثمر بلور

تحریک انصاف حکومت نے سونے کی کان کنی میں اربوں کی کرپشن کی، ثمر بلور

گورنر خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمرہارون بلور نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے دور میں سونے کی کان کنی کے اربوں روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں ثمر بلور نے کہاکہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے پلیسر گولڈ کی نیلامیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق نیب کے سنگین اعتراضات سامنے آگئے، اکتوبر 2024کی سرکاری رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے دور میں سونے کی تلاش کے چار معدنی بلاکس کی نیلامی تقریباً 4ارب 93کروڑ روپے میں ہوئی اور پشاور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود نومبر 2024میں کان کنی جاری رہی۔انہوںنے کہاکہ معدنی بلاکس کی نیلامی، ٹھیکوں کی الاٹمنٹ،کان کنی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھ گئے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24ارب کی کرپشن، 1لاکھ سرکاری ملازمین نے رقم وصول کی

نیب نے محکمہ معدنیات کے پی سے سونے کے متنازع ٹھیکوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا۔انہوں نے بتایاکہ اکتوبر 2024کی رپورٹ کے مطابق دریائیسندھ کے بلاک اے کا ایک ارب 25کروڑ روپے کا ٹھیکا نجی کمپنی کودیاگیاتھا، بلاک بی کا ایک ارب 26کروڑ 10لاکھ روپے ، بلاک سی کا ایک ارب 30کروڑ 50لاکھ روپے اور بلاک ڈی کا ایک ارب11کروڑ11لاکھ روپے کا ٹھیکا نجی کمپنی کودیاگیا جبکہ معدنی بلاکس کی بنیادی قیمتیں مقرر کرتے وقت 2015کی جیولوجیکل اسٹڈی کونظراندازکیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ سونے کے ذخائر کا درست تخمینہ لگائے بغیر نیلامی کی بنیادی قیمتیں مقررکرنے پرنیب نیاعتراضات اٹھائے، نیلامی میں منرل آکشن رولز2022کی خلاف ورزیوں، طریق کارمیں بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی، فروری2022میں شروع جیولوجیکل میپنگ نومبر2023میں روکنے کا معاملہ بھی تحقیقات میں زیربحث آیا تاہم مقررہ 14 روزہ مدت میں معاہدے مکمل نہ ہونے کے باوجود الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے گئے۔ثمر بلور نے کہاکہ ماحولیاتی منظوری، ضروری مائننگ پلان کے بغیرکان کنی کی سرگرمیاں جاری رہنے پرنیب کے اعتراضات ہیں

خیبرپختونخوا کے 12اضلاع کے مالی معاملات صوبائی حکومت سے وفاق کو دینے کا فیصلہ

متعلقہ علاقوں میں 1500سے زائد ایکسکیویٹرز کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی، لیز ہولڈرز کی جانب سے ایکسکیویٹرز سے ہفتہ وار 5سے 7لاکھ روپے وصول کیے جانے کا بھی انکشافات ہوا، غیرمجازسب لیزنگ کے ذریعے ہفتہ وار 75کروڑ سے ایک ارب روپے سے زائد آمدن کے تخمینے سامنے آئے۔انہوں نے مزید بتایاکہ کان کنی سے حاصل ہونے والے سونے کی پیداواراور فروخت کا مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر اعتراضات ہے، سابق وزیر اعلیٰ علی امین نے نیلامیوں کا دفاع کرتے ہوئے زیادہ قیمتیں حاصل کرنے اورقانونی تقاضے پورے کرنے کا موقف اپنایا تھا تاہم سونے کی کان کنی کے اربوں روپے کے ٹھیکوں میں مخصوص کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔

 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24ارب کی کرپشن، 1لاکھ سرکاری ملازمین نے رقم وصول کی

اگلی پوسٹ
سہیل آفریدی محفوظ ہاتھوں میں ہیں، فیصل کریم کنڈی
پچھلی پوسٹ
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24ارب کی کرپشن، 1لاکھ سرکاری ملازمین نے رقم وصول کی