Site icon bnnwatch.com

کوہستان سکینڈل، نیب نے 6 ارب کے اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کر دیئے

کوہستان سکینڈل، نیب نے 6 ارب کے اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کر دیئے

احتسابی نظام اورعوامی وسائل کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان کی تاریخ کے بڑے مالیاتی غبن میں برآمد ہونے والے اثاثوں کی خیبرپختونخوا حکومت کو منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

پشاور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔ یہ منتقلی نیب خیبرپختونخوا کی جانب سے کی گئی ایک بڑے پیمانے کی کرپشن تحقیقات کے نتیجے میں اثاثوں کی واپسی کے عمل کا پہلا مرحلہ ہے۔یہ ریکوری چیئرمین نیب کی قیادت میں اور ڈائریکٹر جنرل نیب خیبرپختونخوا فرمان اللہ اور کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) کی نگرانی میں کی گئی ایک جامع تحقیقات کا نتیجہ ہے

جس میں ایک ایسے منظم نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا جو کئی برسوں سے مبینہ طور پر عوامی فنڈز کے غیرقانونی انحراف اور خردبرد میں ملوث تھا۔اپریل 2025 میں شروع کی گئی اس انکوائری میں ضلع اپر کوہستان کے ہیڈ آف اکاؤنٹ Gـ10113 سے سرکاری فنڈز کے فراڈ کے ذریعے نکالے جانے کا انکشاف ہوا۔ تحقیقات کے مطابق تقریباً ایک دہائی کے دوران خزانے کے مالیاتی نظام میں ردوبدل اور سرکاری مالیاتی طریقہ کار کے غلط استعمال کے ذریعے 37 ارب روپے سے زائد رقم غیرقانونی طور پر نکالی گئی۔

جدید مالیاتی ٹریسنگ، فرانزک تجزیے اور مربوط تحقیقی کاوشوں کے ذریعے نیب خیبرپختونخوا نے پیچیدہ مالیاتی غبن کا سراغ لگایا، 1500 سے زائد بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا اور جرم سے حاصل شدہ رقوم سے خریدے گئے اثاثوں کی نشاندہی کی۔تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تفتیش کاروں نے ممتاز خان کے ایک ایسے اکاؤنٹ کا سراغ لگایا جو مبینہ طور پر غیرقانونی رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

مالیاتی ریکارڈ کے مطابق مختصر عرصے میں اس اکاؤنٹ کے ذریعے تقریباً 17 ارب روپے کے لین دین ہوئے۔ نیب خیبرپختونخوا کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں بڑی مقدار میں فنڈز منجمد کر دیے گئے اور سرکاری اثاثوں کے مزید ضیاع کو روکا گیا۔تحقیقات کے دوران ریکارڈ سطح کی ریکوریز حاصل کی گئیں، جن میں پلی بارگین کے تحت رضاکارانہ طور پر اثاثوں کی واپسی اور مبینہ فراڈ سے منسلک اثاثوں کو منجمد کرنا شامل ہے۔

نیب حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران 37 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں اور رقوم کا سراغ لگایا گیا۔ نیب کے اختیارات کے تحت 27 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں جبکہ پلی بارگین کے ذریعے 10 ارب روپے سے زائد کی ریکوری حاصل کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں ریکور شدہ 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں۔

حکومت خیبرپختونخوا کو منتقل کیے گئے اثاثوں میں نقد رقوم، سونا، اعلیٰ مالیت کی تجارتی و رہائشی جائیدادیں اور لگڑری گاڑیاں شامل ہیں جن کی نشاندہی تحقیقات کے دوران کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے تحقیقاتی ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور لگن کو سراہا اور اس کیس کو کرپشن کے خلاف ادارے کے عزم کی ایک اہم مثال قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ”یہ تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ پیچیدہ مالیاتی جرائم کو پیشہ ورانہ اور شواہد پر مبنی احتسابی نظام کے ذریعے مؤثر انداز میں بے نقاب، تحقیق اور قانونی کارروائی کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ان اثاثوں کی ریکوری اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم عوامی وسائل کے تحفظ اور انہیں عوام کی فلاح کے لیے واپس لانے کے لیے پْرعزم ہیں۔”چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب خیبرپختونخوا فرمان اللہ اور کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا

جنہوں نے ایک وسیع تحقیق کے ذریعے خاطر خواہ ریکوری کی اور فراڈ سے منسلک اثاثوں کی نشاندہی ممکن بنائی۔نیب نے واضح کیا کہ اثاثوں کی ریکوری کا عمل ابھی جاری ہے۔ 27 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے اس وقت منجمد ہیں جبکہ مزید قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں

جس کے نتیجے میں آئندہ مہینوں میں مزید ریکوری متوقع ہے۔ادارے نے اثاثوں کی وصولی اور منتقلی کے اگلے مرحلے کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد مزید برآمد شدہ اثاثے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کیے جائیں گے تاکہ عوامی وسائل کو دوبارہ عوام کی خدمت کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔قومی احتساب بیورو نے شفاف، پیشہ ورانہ اور قانونی طریقہ کار کے تحت کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

نیب کے مطابق ادارہ بدعنوانی سے حاصل شدہ سرکاری اثاثوں کا سراغ لگانے، انہیں واپس لانے اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔نیب کے مطابق ان اثاثوں کی کامیاب ریکوری اور حکومت کو واپسی اس امر کا واضح پیغام ہے کہ عوامی وسائل ایک قومی امانت ہیں

اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر کیس کی مثالی تفتیش اور پیشہ ورانہ انداز میں تحقیقات مکمل کرنے پر نیب خیبرپختونخوا کے آفیسرز میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر صحافی ارشد عزیز ملک کو بھی تحقیقاتی صحافت کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

 

پشاورکے کئی علاقے طوفان کے 15 گھنٹے بعد بھی بجلی سے محروم

 
Exit mobile version