وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی ہے، غیر ملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے، ایران کے عرب بھائیوں کے ساتھ اختلافات دور کیے، ہم نے سیاسی دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، نیب نے مجھے وجہ بتائے بغیر گرفتار کیا، میرے اوپر کیا کیس تھا، یہ نہیں بتایا، 2020 میں پی ٹی آئی دور میں 6 ماہ نیب کی حراست میں رہا، مشرف دور میں اٹک قلعہ پر قید رہا، 4 بار جیل کاٹی ہے، انتقامی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ آصف نے کا کہ سیاسی زندگی میں متعدد درس گاہوں نے عزت دی، فارغ التحصیل طلبا کومبارکباد دیتا ہوں، پڑھے لکھے اورہنرمندنوجوان ملکی ترقی میں اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج قابل فخر بات یہ ہے کہ پاکستان کاعالمی سطح پر ایک مقام ہے، معرکہ حق کی فتح کے بات وطن عزیز کو سفارتی سطح پرمقام ملا، ہم نیاسلامی دنیا کوایک نئی راہ دکھائی ہے
جین زی کا احتجاج جرمنی تک پہنچ گیا، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے
سمندر پار کسی قوت کیاڈے آپ کی حفاظت نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ سمندر پار اڈے ذاتی مفادات کیلئے بنے ہوتے ہیں، حفاظت اپنے دست وبازو پر ہوتی ہے، جیسے پاکستان نے بھارت کوشکست دی، سب سے بڑا اڈا صیہونی ریاست کی حفاظت کیلئے بنایا گیا، یہ ہمارے بھائیوں کو غلط فہمی تھی کہ اڈے ان کی حفاظت کیلئے بنے ہیں، پاکستان نے ایران کیعرب بھائیوں کیساتھ اختلافات دور کیے۔خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی آدمی ہوں لیکن درسگاہوں میں کبھی سیاسی گفتگو نہیں کرتا، سیاست کا آغاز کیا تو سیالکوٹ نے مجھے بہت عزت سے نوازا، 36سال سے ملک کی خدمت کررہا ہوں، اپنے سیاسی سفر میں چار پانچ بار قید بھی ہوا، کئی بار لگا کہ سیاست کرکے تھک چکا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیا تو لگا جیسے ابھی دم خم ہے، اسمبلی فلور پر کئی بار کہا کہ اپنا احتساب خود کریں، حوالات کی متعدد بار ہوا کھائی ہے، پی ٹی آئی کے دور میں 7ماہ جیل میں رہا، قید کرنے والے یہ ثبوت نہ دے سکے کہ میرے خلاف کیس کیا ہے، سیاسی دور میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر جو مقام آج حاصل ہے وہ78سال میں نہ مل سکا، معرکہ حق میں 5گنا بڑے دشمن کو عبرت کا نشان بنایا
بھارت میں طوفانی نظام کے اثرات،آسمان سرخ ہوگیا
جنگیں پہلے بھی ہوئیں مگر کوئی ابہام رہ جاتا تھا، معرکہ حق کے بعد خود ہندوستان کے رہنمائو ں نے شکست تسلیم کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 11بار بھارتی شکست کا کہہ چکے، صدر ٹرمپ 70 بار بھارتی جہازوں کے گرنے کا کہہ چکے، فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں کامیابیوں کاسفر جاری ہے، پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کامقابلہ کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران امریکا جنگ بندی کیلئے اہم کرداراداکررہا ہے، پاکستان کی کوششوں سے ایران اورعرب ممالک کی دوری بھی کم ہوئی، اللہ پاکستان کی دنیا میں قیام امن کی کوششوں کوکامیاب کرے۔انہوں نے کہا کہ نیب جیسے ادارے پہلے پکڑے ہیں پھر سوچتے ہیں کہ اس پر کیس کا بنانا ہے، نیب جیسے ادارے پہلے پکڑے ہیں پھر سوچتے ہیں کہ اس پر کیس کیا بنانا ہے، افسوس وطن عزیز کی گزشتہ 78سال کی یہی داستان ہے۔ ۔خواجہ آصف نے کہا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں اور ہنر کے ذریعے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ہنرمند اور تعلیم یافتہ نوجوان ہی ملکی ترقی کے ضامن ہیں۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے نوجوانوں کا بااختیار ہونا ضروری ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی آدمی ہوں لیکن درسگاہوں میں کبھی سیاسی گفتگو نہیں کرتا، سیاست کا آغاز کیا تو سیالکوٹ نے مجھے بہت عزت سے نوازا، 36 سال سے ملک کی خدمت کر رہا ہوں۔قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف کا ڈائریکٹر پنجاب کالج پروفیسر اصغر علی نے اور پرنسپل ڈاکٹر عظیم نے استقبال کیا، سالانہ کانووکیشن میں طلبہ اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو نقصان ہو سکتا تھا،شہبازشریف

