Site icon bnnwatch.com

ایران جنگ سے امریکا میں مہنگائی کا طوفان، معیشت غیر یقینی کا شکار

Iran war impact US inflation

ایران کے ساتھ جنگ اور تیل بحران نے جہاں دنیا میں معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہیں وہیں خود مارچ کے مہینے میں امریکا کو بھی مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور توانائی بحران کو قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صارفین کی قیمتوں کے اشاریے میں ماہانہ بنیاد پر 0.9فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 3.3فیصد اضافہ ہوا جو تقریباً دو برسوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔علاوہ ازیں توانائی کی قیمتوں میں مارچ کے دوران 10.9فیصد، پیٹرول (گیسولین)کی قیمتوں میں 21.2فیصد نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا

اسی طرح فضائی کرایوں میں بھی 2.7 فیصد ماہانہ جبکہ 14.9 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیوں کہ جیٹ فیول کی قلت کا بھی خدشہ ہے۔یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کے باعث عالمی تیل و گیس کی ترسیل شدید متاثر ہوئی۔یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے جہاں سے دنیا کے تقریبا پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا میں مہنگائی جون 2022 میں 9.1 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی جس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور اپریل 2025 میں یہ 2.3 فیصد تک آگئی تھی۔اگرچہ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی، اور ایران نے اس دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر رضامندی ظاہر کی۔تاہم اس کے باوجود خام تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریبا 10 فیصد زیادہ اور سال کے آغاز کے مقابلے میں تقریبا 30 فیصد بلند ہیں۔

Exit mobile version