سعودی حکومت نے حج 2026 کیلئے سخت پابندیاں عائد کردیں
سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کے تحت مسجد الحرام کے اندر یا اس کے اطراف کسی بھی قسم کی ویڈیو بنانے، فوٹوگرافی کرنے یا سوشل میڈیا مواد تیار کرنے پر مکمل پابندی ہوگی، اور خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانہ اور ملک بدری جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس دعوے نے دنیا بھر کے مسلمانوں، خصوصاً حج کی تیاری کرنے والوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
وائرل پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اسے تقریباً 10 ہزار سعودی ریال جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، اس کے ساتھ اس کا ویزہ منسوخ کر دیا جائے گا اور اسے فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مرد یا عورت کسی کو بھی اس حوالے سے رعایت نہیں دی جائے گی، اور تمام حاجیوں پر یکساں طور پر یہ پابندیاں لاگو ہوں گی۔
تاہم اس خبر یا دعوے کی حقیقت جانچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک سعودی حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس نوعیت کی کوئی باضابطہ اور واضح پالیسی سامنے نہیں آئی ہے جس میں مکمل طور پر فوٹوگرافی یا ویڈیو سازی پر پابندی عائد کی گئی ہو۔ ماضی میں سعودی عرب نے حج اور عمرہ کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بعض رہنما اصول ضرور جاری کیے ہیں، جن میں عبادت کے دوران دوسروں کو پریشان نہ کرنے، ہجوم میں احتیاط برتنے اور مذہبی تقدس کا خیال رکھنے کی ہدایات شامل ہوتی ہیں، لیکن مکمل پابندی کا دعویٰ مصدقہ نہیں ہے۔
یہ بات درست ہے کہ حالیہ برسوں میں سعودی حکام نے حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، سیکیورٹی اقدامات اور ضوابط کو سخت کیا ہے تاکہ لاکھوں زائرین کو محفوظ اور منظم ماحول فراہم کیا جا سکے۔ خاص طور پر ہجوم کے دوران سیلفی لینے یا ویڈیو بنانے سے بعض اوقات رش میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے حکام ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب مکمل پابندی نہیں بلکہ احتیاطی ہدایات ہوتی ہیں۔
حج جیسے اہم مذہبی فریضے کے حوالے سے سعودی حکومت ہر سال نئی ہدایات اور پالیسیز جاری کرتی ہے، جن کا مقصد صرف زائرین کی سہولت اور حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس لیے اگر مستقبل میں کسی بھی قسم کی نئی پابندی یا قانون نافذ کیا جاتا ہے تو اس کا باقاعدہ اعلان سرکاری سطح پر کیا جائے گا، جسے عالمی میڈیا بھی رپورٹ کرے گا۔