غزہ کے ساحل کے قریب بڑی وہیل مچھلی مردہ حالت میں مل گئی
ایک مردہ حوت عنبر ملا ہے جسے لہریں بہا کر عسقلان شہر اور غزہ کی پٹی کے درمیان واقع زیکیم کے ساحل پر لے آئیں۔ یہ اس قسم کی دیو ہیکل وہیل مچھلیوں میں سے آٹھویں مچھلی ہے جو تقریبا 6 سال کے دوران مردہ حالت میں پائی گئی ہے۔ جامعہ حیفا کے مورس خان میرین ریسرچ اسٹیشن اور ڈلفیس تنظیم برائے تحفظِ سمندری ممالیہ کے اسرائیلی ماہرین نے وہیل کی لاش کا پوسٹ مارٹم شروع کر دیا ہے تاکہ موت کی وجہ کا تعین کیا جا سکے جو اب تک پراسرار ہے۔
ڈلفیس ایسوسی ایشن کی محقق میا ایلسر نے کہا ہے کہ 2020 سے بحیرہ روم میں زندہ حوت عنبر کے دیکھے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ساحلوں تک پہنچنے والی لاشوں کی تعداد میں اضافے کے بھی مطابق ہے۔ مورس خان میرین ریسرچ اسٹیشن میں شکاری جانوروں کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ایویاد شینن نے واضح کیا کہ بحیرہ روم میں حوت عنبر جینیاتی طور پر بحر اوقیانوس کی وہیل مچھلیوں سے مختلف ہیں۔ ان کا اپنا مخصوص لہجہ بھی ہے،
یعنی آوازوں کا ایک خاص نمونہ جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔حالیہ اندازوں کے مطابق بحیرہ روم میں ان خطرے سے دوچار وہیل مچھلیوں کی تعداد 250 سے 2500 کے درمیان باقی رہ گئی ہے۔ ان وہیل مچھلیوں کو کئی خطرات درپیش ہیں۔ ان خطرات میں دیگر اقسام کے شکار کے لیے مخصوص تیرتے ہوئے جال لھب ہبں جن میں اکثر یہ وہیل مچھلیاں پھنس جاتی ہیں۔ گیس اور تیل کی تلاش کے لیے کیے جانے والے زلزلے کے سروے ان کی سننے کی حس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں
یا انہیں خوراک کے علاقوں سے دور کر سکتے ہیں۔ پلاسٹک کے فضلے کو نگل جانا بھی ان کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔حوت عنبر (سپرم وہیل) دنیا کی سب سے بڑی دانتوں والی وہیل مچھلیاں ہیں اور انہیں یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ اپنی آنتوں کے اندر ایک نایاب مومی مادہ خارج کرتی ہیں جو بعد میں سمندر کی سطح پر تیرنے لگتا ہے۔ تاریخ میں یہ مادہ قیمتی خوشبوں کی تیاری میں استعمال ہوتا رہا ہے کیونکہ یہ خوشبو کو برقرار رکھتا ہے اور بعض قدیم طبی مقاصد میں بھی استعمال ہوتا تھا۔
