Skip to main contentSkip to footer

وہ انسان جس نے اپنے جسم کو فولاد بنا دیا

Bruce Lee Body

وہ انسان جس نے اپنے جسم کو فولاد بنا دیا

بروس لی کے بارے میں ایک بات طے ہے: اس نے جسمانی تربیت کو مشق نہیں، عبادت سمجھ کر کیا۔ اس کے نزدیک تربیت کا مطلب صرف پٹھے بنانا نہیں تھا، بلکہ ہڈیوں کو سخت کرنا، جلد کو مضبوط کرنا، انگلیوں کو ہتھیار بنانا اور پورے وجود کو ایک ایسی مشین میں ڈھال دینا تھا جو درد کو پہچانتی ہی نہ ہو۔

بروس لی روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے تک ٹریننگ کرتا تھا۔ یہ کوئی عام ورزش نہیں تھی کہ تھوڑی اسٹریچنگ کی اور کام ختم۔ اس کا شیڈول ایک ایسے سپاہی کی فٹنس جیسا تھا جو جنگ کے لئے تیار ہو رہا ہو۔ اس کے روزمرہ معمول میں وزن اٹھانا، مارشل آرٹ کی مسلسل پریکٹس، دوڑنا اور طاقت بڑھانے والی مشقیں شامل تھیں۔

لیکن اصل وحشت وہاں سے شروع ہوتی تھی جہاں عام آدمی ہمت ہار دیتا ہے۔ وہ بجری کے ڈھیر پر مکے مارتا تھا۔ پتھروں پر ہاتھ مارتے ہوئے اس کی انگلیاں موٹی ہوتی گئیں، جلد سخت ہو گئی، ہڈیاں مضبوط ہو گئیں۔ لکڑی کے تختے اس کے ہاتھوں کے نیچے ٹوٹتے تھے، مگر بروس لی نہیں رکتا تھا۔

ایک مشہور تصویر میں اس کے ہاتھوں کی حالت دیکھی جا سکتی ہے۔ انگلیاں زخمی، کھال پھٹی ہوئی، لیکن اس کے چہرے پر اطمینان۔ یہی وہ ہاتھ تھے جنہوں نے عام سوڈا کین کو باآسانی چھید دیا۔ یاد رہے اس وقت کے کین آج کے کین سے کئی گنا زیادہ موٹے ہوتے تھے۔ اس کی انگلیاں اور گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ اخروٹ کو صرف دو انگلیوں کی مدد سے کچل دیتا تھا، جیسے کوئی بس کاغذ کا ٹکڑا دبا رہا ہو۔

قد صرف پانچ فٹ آٹھ انچ اور وزن کبھی بھی 160 پاؤنڈ سے زیادہ نہیں ہوا۔ لیکن جسم ایسا جیسے ہر پٹھے میں بجلی بھری ہو۔ نہ اضافی چربی، نہ فالتو کمزوری۔ سارا جسم ایک مضبوط، چاق چوبند ہتھیار۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر بروس لی زندہ رہتا تو بڑھاپے میں اسے شدید جوڑوں کا درد ہوتا۔ اس کے ہاتھ شاید ٹريننگ کی شدت کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے خراب ہو جاتے۔ کارپل ٹنل جیسے مسائل یقینی تھے۔ اس نے اپنے ہاتھوں، ہڈیوں اور جوڑوں پر اتنا بوجھ ڈالا کہ کوئی عام انسان برداشت نہ کرے۔

لیکن اس کی زندگی مختصر تھی، اور اسی مختصر زندگی میں اس نے اپنے جسم کو ایک ایسی طاقت بنا دیا تھا جس کی مثال آج بھی نہیں ملتی۔
بروس لی صرف ایک اداکار نہیں تھا، وہ اپنی ذات کا مجسمہ خود تراشنے والا فنکار تھا، جس نے جسم کو انسان نہیں، فولاد بننے کی انتہا تک پہنچا دیا۔

اس کی موت نے اسے وقت سے پہلے روک دیا، لیکن اس کے تربیتی معمول آج بھی پوری دنیا کے مارشل آرٹس کے شوقین افراد کے لئے ایک درس ہیں کہ عزم کی کوئی حد نہیں ہوتی، بس انسان کی برداشت آزمانے کی دیر ہوتی ہے۔

ہزاروں سال پرانے جانور کا جنگی لشکر میں استعمال

Previous Post
پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ون ڈے سیریز کا اعلان