ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ماضی کی کارتھیجینی افواج کے نشانات کے ساتھ ایک فوسل شدہ جنگی ہاتھی کی ہڈی جس کی لمبائی تقریباً 10 سینٹی میٹر ہے اور کانسی کی لگام ملی ہے۔
یہ ہاتھی کی اگلی ٹانگ کے نچلے حصے کی ہڈی ہے، اس سلسلے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ دوسری پیونک جنگ (218 تا 201 قبل مسیح) میں استعمال ہونے والے کارتھیجینی جنگی ہاتھیوں کا پہلا واضح جسمانی ثبوت ہوسکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کارڈوبا کے ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کے مرکزی مصنف نے لائیو سائنس سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہڈی ایک انقلابی دریافت ثابت ہوسکتی ہے۔
تقابلی اور مطالعاتی جائزے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مذکورہ ہڈی ایسے ہاتھی کی ہوسکتی ہے جس کی نسل اور زمانہ اُن جانوروں سے مطابقت رکھتا ہے جو ہنیبل بارکا نے دوسری پیونک جنگ میں استعمال کیے تھے، جب اس کا مقابلہ رومی سپہ سالار سے تھا۔
اس کے علاوہ رومی مؤرخ لیوے نے اپنی تاریخی تصنیف میں دریائے ٹریبیہ کی لڑائی کا ذکر کرتے ہوئے ایک لرزہ خیز منظر بیان کیا تھا کہ اس جنگ میں فوجیوں کی بڑی تعداد دریا میں بہہ گئی اور کچھ دوسری جانب کنارے تک جاپہنچے اور ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے گئے۔ لیوی مزید لکھتے ہیں کہ یہ دیو قامت جانور لشکر کے کناروں پر کھڑے ہو کر نہ صرف اپنی شکل بلکہ اپنی مخصوص بو سے ب فوجیوں کے گھوڑوں کو بدحواس کردیتے اور میدان میں خوف و ہراس پھیلا دیتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ہڈی جنوبی اسپین کے ایک گاؤں میں کھدائی کے دوران مٹی کی اس تہہ سے برآمد ہوئی جس کی کاربن ڈیٹنگ کے مطابق عمر تقریباً 2 ہزار 250 سال ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم کے ان دیوقامت جانوروں کو کس طرح مسخر کرکے اپنی استعمال میں لایا گیا تھا۔ یہ دیوقامت ہاتھی کسی بھی جتھے کو کچلنے اور اسے تباہ کرنے کیلئے دوبارہ نہیں سوچتے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں

