Site icon bnnwatch.com

بیگم شاہی مسجد،  لاہور کی تاریخ میں فنِ تعمیر کا ایک درخشاں باب

بیگم شاہی مسجد، لاہور کی تاریخ میں فنِ تعمیر کا ایک درخشاں باب

بیگم شاہی مسجد

رپورٹ: منصور صدیقی

بیگم شاہی مسجد جسے سرکاری طور پر مسجدِ مریم زمانی بیگم کہا جاتا ہے، لاہور کے قدیم فصیل بند شہر کے دل میں واقع ایک عظیم الشان تاریخی مسجد ہے۔ یہ مسجد نہ صرف مغلیہ دور کی اولین مساجد میں شمار ہوتی ہے بلکہ اپنے دلکش نقش و نگار اور منفرد طرزِ تعمیر کی بدولت ایک لازوال ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ اس کی تعمیر مغل شہنشاہ مریم زمانی بیگم نے کروائی، جو شہنشاہ اکبر اعظم کی ملکہ اور جہانگیر کی والدہ تھیں۔ یہ مسجد 1611 سے 1614 کے درمیان تعمیر ہوئی اور لاہور کی اولین مغلیہ دور کی تاریخ شدہ مسجد کہلاتی ہے۔

تاریخی پس منظر

بیگم شاہی مسجد یا بیگم مریم زمانی کا تعلق ایک ہندو راجپوت خاندان سے تھا، مگر انہوں نے اپنی شخصیت، بصیرت اور وسعتِ نظری سے مذہبی حدود سے بالاتر ہو کر ایک ایسی مثال قائم کی جو اس دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک ملکہ تھیں بلکہ ایک کامیاب تاجرہ بھی تھیں، جو بین الاقوامی تجارت میں حصہ لیتی تھیں۔ یہی وسعتِ فکر اس مسجد کی تعمیر میں بھی جھلکتی ہے، جہاں مختلف ثقافتی اثرات کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔

محلِ وقوع

بیگم شاہی مسجد لاہور کے تاریخی دروازے، مستی گیٹ کے قریب شاہی قلعہ کے مشرقی حصے کے سامنے واقع ہے، اس کا محل وقوع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مسجد دربارِ شاہی سے وابستہ افراد کے لیے ایک مرکزی عبادت گاہ تھی۔

تاریخ کے نشیب و فراز

ابتداء میں بیگم شاہی مسجد عوام اور مغل درباریوں کے لیے ایک جامع مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی، مگر وقت کے ساتھ اس کی حیثیت بدلتی رہی۔ سکھ دور میں، جب رنجیت سنگھ کی حکومت قائم ہوئی، تو اس مسجد کو بارود خانے میں تبدیل کر دیا گیا اور یہ ”بارود خانہ والی مسجد” کے نام سے مشہور ہو گئی۔ بعد ازاں 1850 میں برطانوی دور میں اسے دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کیا گیا اور اس کی اصل حیثیت بحال ہوئی۔

فنِ تعمیر کا شاہکار

بیگم شاہی مسجد فنِ تعمیر کے اس عبوری دور کی نمائندگی کرتی ہے جہاں لودھی اور مغلیہ طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اس کے چھوٹے گنبد اور چوڑے محراب لودھی طرز کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ بالکونیاں، اندرونی آرائش اور نقش و نگار مغلیہ فن کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔

مسجد کا مرکزی حصہ پانچ محرابوں پر مشتمل ہے جو بعد میں بننے والی مشہور مساجد جیسے وزیر خان مسجد اور بادشاہی مسجد کیلئے ایک نمونہ ثابت ہوا۔ اس کی اندرونی ساخت میں ایرانی طرز کے چار طاق کی جھلک نظر آتی ہے۔

دلکش آرائش

اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی اندرونی آرائش ہے، جو جیومیٹری اور پھولوں کے حسین امتزاج پر مشتمل ہے۔ رنگوں کا نازک استعمال، سنہری جھلک اور باریک کاریگری اسے پاکستان بلکہ برصغیر کی منفرد ترین مساجد میں شامل کرتی ہے۔ چھتوں اور گنبدوں پر بنے پیچیدہ نقش و نگار، ستاروں اور جالی دار اشکال کی صورت میں ایک روحانی فضا پیدا کرتے ہیں۔ یہ آرائش اس قدر دلکش ہے کہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اپنی مثال آپ ہے۔

کتبے اور روحانی پیغام

بیگم شاہی مسجد میں فارسی اور قرآنی کتبے موجود ہیں، جو نہ صرف اس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ ایک روحانی پیغام بھی دیتے ہیں۔ ایک کتبہ ملکہ کی اپنے بیٹے جہانگیر کے لیے دعا پر مشتمل ہے، جو اس مسجد کو ماں کی محبت اور دعا کی علامت بھی بناتا ہے۔

موجودہ حالت اور تحفظ

وقت کے ساتھ ساتھ اس عظیم ورثے کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا، خصوصاً تجاوزات نے اس کے حسن کو متاثر کیا۔ تاہم 2016 میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے اس کی بحالی اور تحفظ کے اقدامات کا اعلان کیا، تاکہ اس تاریخی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔

بیگم شاہی مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، فن اور روحانیت کا حسین امتزاج ہے۔ بیگم شاہی مسجد اس بات کی گواہ ہے کہ جب بصیرت، حسنِ ذوق اور عقیدت یکجا ہو جائیں تو ایک ایسا شاہکار جنم لیتا ہے جو صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔ لاہور کی اس خاموش مگر پُر وقار عمارت میں آج بھی ماضی کی عظمت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں پڑھیں

وادی کالاش میں موت پر خوشی کا جشن منانے کی منفرد روایت

گلگت بلتستان دنیا کے ٹاپ 25سیاحتی مقامات میں شامل

Exit mobile version