آن لائن ارننگ ایپلی کیشن بی فار یو کے متاثرین کو نیب کی جانب سے ایک سال بعد بھی رقوم کی واپسی ممکن نہ ہوسکی، نیب نے قریب ایک سال قبل بی فار یو کے چیف سیف الرحمان خان نیازی کو گرفتار کرکے عوام کی جانب سے بی فار یو میں سرمایہ کاری کی غرض سے لگائی گئی تمام رقم بھی برآمد کرکے سیف الرحمن نیازی کے اثاثے ضبط کرلئے اور اعلان کیا کہ متاثرین کو ان کی تمام رقم مرحلہ وار واپس لوٹائی جائیگی
نیب کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھیوں پر غیر قانونی سرمایہ کاری اسکیم کے ذریعے عوام سے رقوم اکٹھی کرنے اور بڑے پیمانے پر مالی دھوکہ دہی کا الزام ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ملزمان کے مختلف اثاثے اور رقوم برآمد کی گئیں جن میں مجموعی طور پر 3.7 ارب روپے شامل ہیں۔
اس سلسلے میں نیب راولپنڈی نے پہلی مرحلے میں بی فار یو متاثرہ افراد کو یقین دہانی کرائی کہ قانون کے مطابق برآمد ہونے والی تمام رقم متاثرہ سرمایہ کاروں کو واپس کی جائے گی۔ اس حوالے سے نیب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن اور عوامی اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے نوٹیفکیشن نیب کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی موجود ہے
نیب کے مطابق بی فار یو گروپ نے عوام کو غیر معمولی منافع کا جھانسہ دے کر غیر قانونی طور پر سرمایہ کاری حاصل کی۔ بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ کمپنی کے پاس ایسی سرمایہ کاری جمع کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں تھا۔ نیب نے اس مقدمے میں متعدد افراد کو نامزد کرتے ہوئے ریفرنس بھی دائر کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گروپ نے ہزاروں شہریوں سے اربوں روپے وصول کیے۔
تاہم گرفتاری اور رقوم کی برآمدگی کے ایک سال گزرنے کے باوجود بی فار یو متاثرہ افراد کو رقوم کی واپسی مکمل نہیں کی گئی۔ متاثرہ افراد کی جانب سے متعدد بار نیب راولپنڈی کو تحریری درخواستیں بھی ارسال کی گئیں تاہم تاحال متاثرہ افراد رقوم کی واپسی کے منتظر ہیں جبکہ نیب کی جانب سے معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کرلی گئی ہے۔
گوگل میپ نے خاندان اجاڑ دیا، کوئٹہ واقعے کی تفصیلات سامنے آگئیں
متاثرہ افراد نے وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈمارشل سید عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نیب راولپنڈی کی سست روی کا نوٹس لینے اور متاثرہ افراد کو رقوم کی جلد ازجلد واپسی یقینی بنانے کیلئے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ افراد نے اگست کے پہلے ہفتے میں نیب راولپنڈی کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔
آن لائن فراڈ، دھوکا دہی میں پنجاب سب سے آگے

